(اسٹیج پر بائیں سے دائیں حبیب الرحمان، سید اویس رضوی، سید محمد عیسیٰ ،ڈاکٹر تسلیم رحمانی، میم افضل، ڈاکٹر ماجد دیوبندی، سلمان خورشید، پروفیسر اختر الواسع،ایس ۔ایم۔ خان، ڈاکٹر سید فاروق، ڈاکٹر اطہر فاروقی، ڈاکٹر سید احمد خان اور ڈاکٹر بلال احمد)
اہم ترین ملی اور ادبی شخصیات نے شرکت کی
دہلی کی معروف ادبی اور ثقافتی تنظیم’’میزان‘‘ کے زیر اہتمام غالب اکیڈمی، بستی حضرت نظام الدین میں ۲؍مئی ۲۰۲۴ء کی شام معروف شاعرِ فکرِ اقبال، صحافی اور نثر نگار ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی کی نثر کی تیسری کتاب’’میری کاوشیں‘‘ کی ایک پر وقار تقریب رسمِ اجرامیں ملی،ادبی اور اہم سیاسی شخصیات کے ہاتھوں کتاب کی رونمائی کی گئی۔ صدارت پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے فرمائی جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے سابق مرکزی وزیرِ خارجہ اور معروف سیاسی رہنما اوروکیل سلمان خورشید، سابق رکنِ پارلیمنٹ ،صحافی اور سفیر میم افضل، مسلم پولٹکل کونسل کے صدر ڈاکٹر تسلیم رحمانی، صدر جمہوریۂ ہند کے سابق او۔ایس۔ڈی ایس ۔ایم۔خان، ادبی تنظیم ’’تسمیہ‘‘ کے صدر ڈاکٹر سید فاروق، انجمن ترقیٔ اردو کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی، اردو ڈیولوپمنٹ آرگنائیزیشن کے صدر ڈاکٹر سید احمد خاں،انجمن ساداتِ رضویہ، امروہہ کے جنرل سکریٹری سید اویس رضوی اور پھلودا(میرٹھ) کے چیرمین سید عیسیٰ نے شرکت کی اور اپنے خیالات سے نوازا۔
میزان کے صدر ڈاکٹر سید بلال احمد نے مہمانوں کی خدمت میں گلدستے پیش کر کے ان کا استقبال کیا۔ پہلے حصے کی نظامت حبیب الرحمان رسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کی جبکہ ادیبہ ماجد کی نعت پاک سے پروگرام کاآغاز کیا گیا ۔آغاز میں معروف صحافی ڈاکٹر نثار احمد خان نے ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی کے حوالے سیر حاصل گفتگو کی اور ان کی صحافت، شاعری اور نثر پر تفصیل سے مقالہ پیش کیا اورہندی اردو میں شائع دس کتابوں کے حوالے سے تفصیل کی۔پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ ماجدؔ دیوبندی تنہا ایسے شاعر اور نثر نگار ہیں جو بریلویوں میں بھی بے حد پسند کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ماجد جہاں جہاں رہے اپنی خودداری اور ایمانداری کی پہچان کے ساتھ اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ شاعری میں علامہ اقبال کی فکر کے نمائندے کے طور پر انہوں نے پوری دنیا سے خود کو منوایا ہے لیکن نثر نگاری میں بھی وہ کسی سے کم نہیں جس کی مثال آج ان کی تیسری نثر کی کتاب ’’میری کاوشیں‘‘ کی اشاعت ہے جس کا آج اجراء ہو رہا ہے۔
سابق مرکزی وزیر اور معروف وکیل سلمان خورشید نے ماجد دیوبندی کے حوالے سے خوب گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے والد مرحوم خورشید عالم خان کے زمانے سے ان کو سن رہا ہوں جب وہ اسی تنظیم ’’میزان‘‘ کی طرف سے منعقد جامعہ میں ۲۵ سال قبل ایک مشاعرے میں صدارت کرنے آئے تھے۔سلمان خور شید نے کہا کہ اپنے خودداری اورحووصلوں کی تحریروں سے ماجدؔ دیوبندی نے عوم کو چونکایا ہے اور آج وہ نہ صرف شاعری بلکہ اپنی صحافت،کالم نگاری اور نثر لکھنے میں ماہر نظر آتے ہیں جس کی مثال ان کی تازہ تصنیف ہے ’’میری کاوشیں‘‘ ہے۔انہوں نے جذباتی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسائل ہر شخص کے ساتھ آتے ہیں جو کچھ کام کرتا ہے ،اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔انسان کو اس کا کام زندہ رکھتا ہے۔ سلمان خورشید نے کہا کہ ہر مشاعرے میں جہاں میں جاتا ہوں ماجد صاحب کو ڈھونڈتا ہوں کہ ان کی شرکت مشاعرے کا وقار ہوا کرتی ہے۔ انہوں نے نئی نسل کو اپنی تحریروں اور شاعری سے نیا حوصلہ بخشا ہے۔
ایس۔ایم۔خان نے ایک انگریزی کتاب کا ذکر کیا کہ اس میں ماؔجد دیوبندی کی اردو شاعری کے حوالے سے انگریزی میں یونیورسٹی کے بہت سے موضوعات پڑھائے جاتے ہیں جس سے ماجد صاحب کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کے لیے ماجدؔ دیوبندی ایک با وقار شخصیت کا نام ہے۔ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے اپنی تقریر میں ماجدؔ دیوبندی سے اپنے گزشتہ ۲۰ سال کے مراسم اور ان کے ساتھ مل کر بہت سے ادبی کام کرنے کے حوالے سے کہا کہ ان میں جنون کی حد تک کام کرنے کا جذبہ ہے جو ان کو کامیاب کرتا ہے۔ڈاکٹر سید فارووق نے ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی کو ان کی نئی کتاب پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اور ماجد صاحب کا تعلق پچھلے تیس سالوں سے ہے اور وہ انہیں اپنا عزیز ترین سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’میزان‘‘ کے لیے پہلے دن سے وہ ان کے شانہ بشانہ رہے ہیں۔ماجد دیوبندی کا ایک شعر پڑھ کر انہوں نے کہا کہ حوصلوں سے انسان بڑا بنتا ہے اور ماجد صاحب نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور آج وہ ملک کے اہم ترین چند ایک سینیر شعراء میں شمار کئے جاتے ہیں جس کے لیے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
میم افضل نے تفصیلی اظہار خیال میں ماجدؔ دیوبندی کی شاعری، صحافت اور نثر پر گفتگو کی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا کہ ان کی یہ دسویں اور نثر کی تیسری کتاب شائع ہو کر منظر عام پر آئی ہے۔انہوں نے واضح طور پر دعائیہ لہجے میں کہا کہ ماجد صاحب کو میں پچھلے تیس سا سے دیکھ رہا ہوں۔ وہ آج ملک کے نامور شعرا میں شمار کئے جاتے ہیں لیکن کبھی ایسا نہیں لگا کہ وہ اتنے بڑے ہیں۔ انکساری،سنجیدگی اور اپنے بڑوں کی عزت کرنے کے مزاج نے ان کو اور بڑا بنا دیا ہے جس میں ان کے ماں باپ کی دعائیں اور تربیت کا عمل دخل ہے۔افضل صاحب نے کہا کہ وہ خود اور اختر الواسع دہلی اردو اکادمی کے وائس چیرمین رہ چکے ہیں اور ہمیں اندازہ ہے کہ کس طرح کام کرنے والے کے ساتھ مشکلیں آتی ہیں لیکن ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی نے اس منصب کے وقارمیں اضافہ کیا ہے اور اکادمی میں صرف تین سال میں وہ کام کئے ہیں جو گزشتہ بیس سالوں میں نہیں ہوئے تھے۔
ڈاکٹر اطہر فاروقی نے نہایت شائستہ اردو میں اظہار ِخیال کرتے ہوئے کہا کہ میرا اور ماجدؔ دیوبندی کا ۴۰ سال پرانا تعلق ہے جس میں آج تک کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہاکہ اپنے بے پناہ جد و جہد اور محنت سے ماجد صاحب نے اپنا اہم ترین مقام بنایا ہے جومعمولی بات نہیں ہے۔کتاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نہایت اہم شخصیات پر مظامین اس میں موجود ہیں جو نئی نسل اور اردو داں طبقے کے لیے یقینا مفید ثابت ہوں گے۔ ڈاکٹر سید احمد خان نے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ فخر حاصل کہ وہ ماجد صاحب کو ’’حفیظ میرٹھی‘‘ ایوارڈ سے نواز چکے ہیں۔تازہ کتاب میں مشمولات کے حوالے سے انہوں نے سیر حاصل گفتگو کی اور ماجد ؔدیوبندی کو مبارکباد پیش کی۔ سید اویس رضوی نے بہت جذباتی لہجے میں ماجد صاحب کی شخصیت پر اظہار خیال کیا،انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ میرے ولد مرحوم خورشید مصطفی رضوی کے زمانے سے تعلق قائم ہے جو ماجدؔ صاحب کی تہذیبی اقدار کا آئنہ دار ہے جسے وہ نبھاتے ہیں۔ سید عیسیٰ نے بھی مختصر گفتگو میں ماجدؔ دیوبندی کی کتاب کے حوالے سے ان کو مبارکباد پیش کی۔
بعد ازاں ایک مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا جس کی صدارت طالب رامپوری نے کہ جبکہ نظامت کے فرائض معروف ناظم معین شاداب نے انجام دئے۔جن شعرا نے شرکت کی ان میں طالب رامپوری، ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی، ڈاکٹر مصور رحمان، غفران اشرفی،ریاض ساغر،اعجاز انصاری،معین شاداب، وارث وارثی، شرف نانپاروی، عرفان اعظمی، انوار الحق شاداں، ارشاد عزیز بیکانیری، حشمت بھاردواج، مرزا ہمدم، سریندر شجر، مرزا انس بیگ، عبد الرب حماد، رضوان امروہی، ڈاکٹر وسیم راشد، ڈاکٹر سپنا احساس، ریشمہ زیدی اور سرتا جین کے نام شامل ہیں۔سامعین میں معروف صحافی سہیل انجم، جاوید رحمانی،ابان فلم کے ڈیرکٹر ڈاکٹر وارث خان، عمران کلیم، اواز آواز دی وائس چینل کی امینا ماجد اورجتن، محمد رامش، محمد گلزار، یو ٹیوبر مرزا شاہ نظر، یو ٹیوبر محمد شفیق، روزنامہ قومی میزان کی ایڈیٹر شائستہ پروین، ڈاکٹر عقیل احمد، ڈاکٹر شمامہ بلال کے علاوہ سوشل ورکر ایمن رضوی، فروز صدیقی، خسرو خان، سید ساجد حسین،سینٹرل بیورو آف کمیونکیشن کے رکن ارشادعلی،کانگریس اقلیتی سیل کے سلیم احمد، سابق کونسلر امیر الدین احمد،راشد شہاب، نظام سیفی،مولانا نیر فیضی،مولانا ، صوفی نشاط صدیقی،مولانا سلمان ندوی، مولانا فیصل ندوی، ماسٹر علی نواز،حافظ طٰہی شیخ وغیر کے نام شامل ہیں۔
