اسرائیلی دہشت گرد ی کیخلاف اپنی صفوں میں اتحاد اور اعتماد پیدا کرو!
سہارنپور( احمد رضا): سات ماہ سے مسلسل مسلم آبادی کو نیست و نابود کرنے کے اسرائیلی فوج کے ناپاک عزائم کو چکنا چور کرنے کا وقت آگیا ہے موت بہادروں کی ہوتی ہیں مردہ ضمیروں اور بزدلوں کی موت پر کوئی آنسو نہی بہا تا ہے آئیں اور ایک پلیٹ فارم پر آکر اسرائیلی دہشت کے خلاف متحد رہ کر آواز حق بلند کریں لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ! کمشنری کے تین درجن سے زائد علماء کرام اور دانشمند حضرات نے اقوام متحدہ سے مانگ کی ہے کہ دنیا کے سب سے بد ترین دہشت گرد ملک اسرائیل اور اسرائیلی فوج کے اجتماعی قتل عام سے رفع ،غازہ اور فلسطین کے مسلمانوں کو بچائیں ملی قائدین نے کہا کہ فلسطین کے مسلمانوں پر جو قہر اسرائیل کی دہشت گرد فوج نے بربپہ کیا ہے اس نے ہٹلر کے قتل عام کو کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے وقت رہتے دنیا بھر کے مسلمان اگر فلسطینی بچوں ، خواتین ، جوانوں اور بزرگوں کے لئے آگر آگے نہی آئے تو خدا آپکے کبھی معاف نہیں کرے گا مظلومین کے لئے خون بہانہ سب سے بڑا جہاد ہے ظلم کے بادشاہ بد سے بد ترین اسرائیلی وزیراعظم اور اسکی آرمی کے خلاف احتجاج بلند کر نا اہل ایمان کا پہلا فریضہ ہے! حالات حاضرہ میں قدرت آج پھر سے ہم سبھی کو اپنا مستقبل کامیاب بنانے اور سنوارنے کا سنہرا موقع فراہم کرتی ہے بس لازم ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکر کھڑے رہیں اور ظلم و جبر کے خلاف حق کی خاطر آواز بلند کریں ،عالم دین امام و خطیب اور بہت سی دینی تعلیمی اور اصلاحی کتب کے مصنف مفٹی محمد صادق مظا ہری نے ایک تقریب میں کل بعد نماز مغرب ایمان افروز صلاح دیتے ہوئے کہا کہ اہل ایمان کے لئے دین کی خاطر اور ملت اسلامیہ کی بقاء کی خاطر حق پر مبنی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے اسرائیلی فوج کے ظلم و جبر کو مٹانے کے لئے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اہل ایمان غازہ اور فلسطین کے مسلمانوں کے علاوہ رفع کے 18 لاکھ مسلمانوں کے لئے بھی آگے آئیں روز محشر میں سبھی سے پو چھا جائیگا وہاں کوئی جواب نہیں دے سکیگا لازم ہے کہ حق کی خاطر آواز بلند کریں اللہ تعالیٰ کے فضل کے حقدار بنیں!

مفتی محمد صادق نے اپنے بیان میں عاجزی اور انکساری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو اللہ رب العزت نے اشرف بناکر بھیجا ہے تاکہ آپ اچھے بنیں اور دوسروں کو بھی اچھے راستہ پر لانے کے لئے دین اسلام کی تبلیغ کی زمہ داری اٹھائیں تاکہ دنیائے فانی کو مسلکی منافرت ،فتنوں اور فسادات سے محفوظ رکھا جا سکے مفتی محمد صادق نے کہا کہ آج اہل ایمان پوری دنیا میں خد کو پست اور لاچار محسوس کر رہے ہیں دنیا بھر میں ہماری ذات برادری اور مسلکی منافرت کے سبب تماشا بنا ہوا ہے حماس تن تنہا ظالم جابر اسرائیل کا مقابلہ کرتا آرہا ہے کچھ مغربی اور مسلم ممالک نے خد ہندوستان کے درجن بھر مسلم علماء کرام نے اپنی اپنی تنظیم کی جانب سے فلسطینی ریاست کے لئے کھانے ،کپڑے اور دوائیوں کا بندوبست کیا جسمیں اہل سنت ، اہل تشیع اور بریلوی مسلک کے پیروکار سب سے زیادہ ہمت دکھا رہے تھے آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے کوئی مسلک يا ذات برادری سامنے نہی آئی اسرائیل کی فرعونیت کو للکارنے کی کسی مسلم ملک نے ہمت نہیں دکھائی، جن افراد نے ملت اسلامیہ کے اتحاد اور سدھار کے لئے کچھ بھی تعاون کیا وہ لائق تحسین کارکردگی ہے آج اگر ایران نے 1600 كلو میٹر کا سخت ترین سفر طے کرتے ہوئے اسرائیل کے سینہ پر لات مار دی تو اس بات کو شیعہ اور سنی کے نظریہ سے پیشِ کرنا ملت اسلامیہ میں موجود آپسی خلوص اور بھائی چارے کو ضرب لگانے جیسا عمل ہے، آج پستی سے نکلنے اور ظالموں کو سبق سکھانے کے لئے* لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ* پر ایمان رکھنے والوں کو متحد ہو نا ہی پڑیگا مسلکی منافرت پھیلانے والے بیان اور تحریریں ملت اسلامیہ کو خسارہ پہنچانے کے سوائے کچھ بھی نہیں دے سکتی ہیں خدارا صرف صرفِ اہل ایمان کی حیثیت سے زبان کا استعمال کریں یہی بہتر ہوگا یہ موقع ایک دوسرے کی تنقید یا مخالفت کا نہی خدارا اپنا وزن اور اپنی حیثیت پرکھو متحد ہو جاؤ! حالات حاضرہ کے مد نظر آپ ذرا اندازہ لگائیں کہ 2024 میں 19 اپریل کو ہونے والے لوک سبھا انتخاب کے بعد مسلم افراد کی حماقتوں کے نتیجے میں کیا ہونے والا ہے —-
آج ذرا سوچئے، تین طلاق غیر قانونی ہے کل برقعہ بند وجہ ہوگی عورتوں پر مظالم پھر فجر کی نماز پر پابندی وجہ غیر مسلموں کی نیند میں خلل پھر اذان بند پھر قربانی بند پھر رمضان کے روزے بند وجہ جسمانی ہراسانی پھر مدرسہ بند پھر مساجد بند پھر حج پر جانا بند پھر کیا کیا ہوگا وہ آپ خد اندازہ لگا سکتے ہیں الیکشن میں اس بار بھی ایک سیٹ پر دو یا تین مسلم امیدوار کھڑے ہیں اور سب کو تھوڑا تھوڑا ووٹ دینا ہے کیونکہ سب ہمارے مسلمان بھائی ہوں گے تو سب کو ووٹ ملنا چاہئے اور دوسری طرف اکثریت سے ہندو افراد صرف بی جے پی کو ووٹ ہی دیں گے اور بی جے پی بہ آسانی سیٹ جیت جاۓ گی اس طرح پارلیمنٹ میں تمام ممبران پارلیمنٹ بھاجپا کے ہوں گے اور وہ جس طرح چاہیں قانون بنا پا ئیں گے اور ہم سارا دن کام کریں گے، را ت میں گھر آکر بیوی سے کہو، بس کھا نہ بناؤ چائے بناؤ ٹی وی آن کردو وغیرہ و غیرہ
بھائی اب آپ جو بھی کہیں لیکن یہ حقیقت ہےکہ آج بیشتر مسلمان اپنی بیٹیوں کو انگلش میڈیم سکولوں میں بھیجتے ہیں، وہاں غیر مسلموں کا انداز دیکھ کر یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے، ہمیں گھروں میں قید کر دیا گیا ہے اور یہاں خوب آزادی ہے مسلمانو ہمارا قرآن ایک ہی ہے۔ ہم سب ایک اللہ کے ماننے والے ہیں، آؤ، ابھی بھی وقت ہے ایک ہو جاؤ یاد رکھیں کہ اخلاق حسنہ ، پرده ، شرم اور تہذیب اسلام کی تعلیمات کا اعلیٰ ترین درس ہے اب وقت آ گیا ہے کہ 5 انگلیاں بند کر کے مٹھی بن جائیں اور نظام ربِ کریم کی اطاعت کرتے ہوئے خد کو مضبوط اور مستحکم بنائیں اگر آپ علماء کرام کی ان باتو ں سے اتفاق کرتے ہیں تو خدا را ملت اسلامیہ کی بقاء اور حفاظت کے لئے اس پیغام کو دوسرے مسلمانوں تک پہنچائے اور مسلمانوں کو متحد کریں اسکے علاوہ ہمارے لئے کوئی دیگر راه نجات نہی صرف” لا الٰہ الا اللہ”!
