ایمن فاؤنڈیشن کے زیر سرپرستی مرغہوا اٹوا سدھارتھ نگر یوپی میں دینی و اصلاحی پروگرام کا انعقاد
اٹوا (سدھارتھ نگر): 12؍مئی بروز اتوار موضع مرغہوا اٹوا میں ایمن فاونڈیشن ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ پپرا مرغہوا اٹوا کی سرپرستی میں ایک دینی و اصلاحی پروگام کا انعقاد کیا گیا جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
ایمن فاؤنڈیشن کے صدر حافظ عبد الرحمن ریانی نوری حفظہ اللہ نے تلاوت کلام پاک سے اس بزم کا آغازکیا۔ پھر تقریری سلسلہ شروع ہوا۔ سب سے پہلا خطاب فضیلۃ الشیخ شمس الھدیٰ جامعی حفظہ اللہ کا تھا آپ کا موضوع تھا مثالی خاتون ،، آپ نے بتایا کہ ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ ہوتا ہے ماں جن خصوصیات کی حامل ہوگی ویسے ہی اپنے بچے کی بھی تربیت کرے گی جب خود صالحہ ہوگی تو بچے بھی ماں کے سایہ عاطفت میں رہ کر نیک بنیں گے، اگر بداخلاق و بدتہذیب عورت ہوگی تو بچے کو دین سے کاٹ دے گی اس لئے ایک عورت کو ان صفتوں کو اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے ایک مثالی خاتون کے اوصاف بیان فرمائے ہیں ، مثلا وہ ایمان والی ہو ،عبادت گزار اور فرمانبردار ہو، سچ بولنے والی ہو،صبر کرنے والی ہو،اللہ سے ڈرنے والی ہو ،اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والی ہو، اللہ کا ذکر کرنے والی ہو، شوہر کی عدم موجودگی میں اس کے گھر ، بچوں ، مال و دولت کی حفاظت کرنے والی ہو ۔ ہم شادی خاندان، دولت و مالداری، خوبصورتی دیکھ کر شادی کرتے ہیں لیکن صحیح بات یہ ہے کہ دین داری دیکھ شادی کرنی چاہیے تاکہ بچے بھی دین دار ہوں۔وغیرہ
بعدہ حافظ عبد الرحمن ریانی نوری نے بہت ہی خوبصورت انداز میں ایک نظم پیش کیا۔ پھر اس کے بعد دوسرا خطاب محمد نفیس صفوی حفظہ اللہ پیش کیا آپ کا عنوان تھا ,,مسلم نوجوانوں میں بڑھتی منشیات کی لت اسباب و علاج،، آپ نے بتایا کہ ہمارے سماج کی برائیوں میں ایک اہم برائی منشیات کا استعمال کرنا ہے جس میں سماج کا ہر طبقہ ملوث ہے خصوصاً ہمارا نوجوان، آپ نے منشیات کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ نشہ آور اشیاء کو مجموعی طور پر مُنَشِّیات کہا جاتا ہے۔ نشہ سے عام طور پر مراد ایسی اشیاء ہیں جو آدمی کے سوچنے سمجھنے کی قدرتی صلاحیت کو بڑی حد تک متاثر کریں۔ منشیات کی کئی شکلیں ہیں مثلا شراب ، بیڑی ، سگریٹ ،چرس، افیم، کٹکھا ، ہیروئین ، چرس، گانجا وغیرہ، یہ سب چیزیں انسانی صحت کوشدید نقصان پہنچاتی ہیں، حیرت کی بات یہ ہے جو چیزیں لوگ استعمال کرتے ہیں اس کی پیکٹ پے لکھا ہوتا ہے کہ یہ صحت کے لئے نقصان اور کینسر کا سبب ہو سکتا ہے لیکن لوگ پھر بھی اسے استعمال کرتے ہیں،حاجی، نمازی سب نشہ آور چیزیں کھلے عام استعمال کرتے ہیں، کبھی کبھی صبر نہیں ہوتا مسجد سے نکلتے ہی بیڑی، سگریٹ، تمباکو کا استعمال شروع کردیتے ہیں ۔ہمارا سماج بھی اس میں کم مجرم نہیں ہے آج ہر گلی ، نکڑ کی دکانوں پے، شراب، بیڑی سگریٹ ، دیگر نشا آور اشیاء موجود ہیں، آج جگہ جگہ شراب کے اڈے کھل رہے ہیں ہمارا نوجوان اس کا دھیرے عادی بنتا جارہا ہے جب کہ اللہ نے شراب کو حرام کر رکھا ہےاور اس کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ یہ شیطانی عمل ہے اور یہ ناپاک ہے۔شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے، جب ایک شخص شراب پیتا ہے تو اس کا ایمان اس سے اٹھا لیا جاتا ہے۔شراب پینے والی کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی ۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچہ کو اس کی لت نہ لگے تو سب سے پہلے ہمیں اس کو چھوڑنا ہوگا۔اللہ کا تقوی اپنے دلوں میں بسانا ہوگا ۔
یہ پروگرام گاؤں کی جامع مسجد میں تھا جس میں گاؤں کے مرد و خواتین کثیر تعداد میں شریک رہے اور علماء کے بیان کو بغور سماعت کیا اور بیان کردہ باتوں پر عمل کا عزم بھی کیا۔
