عالمی یومِ چائے(21؍مئی ) کے موقع پر خصوصی پیشکش

محمد یوسف رحیم بیدری، کرناٹک۔
چائے کے بارے میں ہمارا کچھ کہنا سورج کو چراغ دِکھانے کے مترادف ہوگا۔ سبھی چائے پیتے ہیں اور اس کی اہمیت سے واقف ہیں۔ چائے پینے اور چائے بیچنے میں عوام اور وزیراعظم جیسا فرق ہے۔ چائے بیچ کر آدمی وزیر اعظم بن سکتاہے لیکن چائے پینے ہرگز ہرگز وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ ہمیں وزیراعظم بننے کاشوق ہے لیکن کبھی کبھار چائے بھی پی لیتے ہیں۔ دل سے بھی اور بادلِ نخواستہ بھی۔ آج 21؍مئی کو دنیا بھر میں ’’عالمی یومِ چائے‘‘ منایاجارہاہے اس حوالے سے تفنن طبع کے لئے چند اشعار جمع کئے گئے ہیں جو آپ تمام کے حضور پیش ہیں۔ اردو شاعری نے چائے کومختلف ادوار میں کس نظر سے دیکھا، اس کاجائزہ شاید کسی نے لیاہوگا، ہم اس جائزے تک نہیں پہنچے لیکن اردوشاعری چائے کے ذکر کے بغیر ادھوری ضرور کہلائے گی۔ جیسے انسانی زندگی چائے کے بنا ادھوری اور نامکمل کہلاتی ہے۔ اسی حوالے سے ہم چائے سے متعلق شعراء کے اشعار پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ خالد احمد کاشعر ہے ؎
قمقموں کی طرح قہقہے جل بجھے
میز پر چائے کی پیالیاں رہ گئیں
میرؔبیدری کہتے ہیں ؎
شکر کے بنابھی آتی ہے یہ چائے
تم کو سینے سے لگاتی ہے یہ چائے
پاکستان کے معروف شاعر امجد اسلام امجد ؔکہتے ہیں ؎
چائے میں چینی ملانا اس گھڑی بھایا بہت
زیر لب وہ مسکراتا شکریہ اچھا لگا
لیکن والی آسی نے جس سنجیدگی سے چائے پر شعر کہاہے ، وہ ان ہی کاحصہ ہے۔ استاد والی آسی کاشعرملاحظہ کیجئے ؎
سگرٹیں، چائے، دھوں، رات گئے تک بحثیں
اور کوئی پھول سا آنچل کہیں نم ہوتا ہے
’ہرے ربن ‘ پر شعر کہنے والے انتہائی شوخ وچنچل بشیر بدر نے بھی چائے پر شعر کہاہے، کہتے ہیں ؎
چائے کی پیالی میں نیلی ٹیبلیٹ گھولی
سہمے سہمے ہاتھوں نے اک کتاب پھر کھولی
ان کے کہے ہوئے مزید اشعار ملاحظہ کریں ؎
ہنس پڑی شام کی اداس فضا
اس طرح چائے کی پیالی ہنسی
چھپر کے چائے خانے بھی اب اونگھنے لگے
پیدل چلوکہ کوئی سواری نہ آئے گی
ندافاضلی نے ممبئی میں رہ کر زندگی سے جو تجربے کشیدکئے ہیں، ان میں پان ، سگریٹ ، تمباکو اور چائے کاذکر نہ ہو، یہ کس طرح ممکن ہے ۔ ندافاضلی کہتے ہیں ؎
گھی مصری بھی بھیج کبھی اخباروں میں
کئی دِنوں سے چائے ہے کڑوی یااللہ
ندافاضلی نے ہندوستانی فلموں کیلئے گیت لکھے ۔ اوران کے کئی ایک گیت مشہوربھی ہوئے۔ فلمی دنیا میں کئی ایک خواتین سے ان کی شناسائی رہی ہے۔ شاید ایسی ہی کسی سچویشن کی بات ترونا مشرا نے اس شعر میں کہی ہے ؎
آج پھر چائے بناتے ہوئے وہ یادآیا
آج پھر چائے میں پتی نہیںڈالی میں نے
جناب ناصر کاظمی کاتجربہ محبتوں تک محدود رہا۔ کہتے ہیں ؎
تیرے ہاتھ کی چائے تو پی تھی
دل کا رنج تو دل میں رہاتھا
جناب عامر سہیل نے بھی اپنی شاعری کے لئے نئے موضوعات تلاشے ہیں ۔ اوران کے اشعار بھی کہیں نہ کہیںایسے ضرور مل جاتے ہیںجس پر نظر ٹہرتی ہے۔ چائے پر ان کا یہ شعر اچھا لگتا ہے ؎
ذراسی چائے گری اور داغ داغ ورق
یہ زندگی ہے کہ اخبار کا تراشہ ہے
جناب منوررانا کہاں پیچھے رہ سکتے تھے ۔ مرحوم نے بھی چائے پر شعر کہااور بڑااچھاشعر کہاہے ؎
شعر جیسا بھی ہو اس شہر میں پڑھ سکتے ہو
چائے جیسی بھی ہو آسام میں بک جاتی ہے
کوئی محمد طہٰ خان ہیں ، کہتے ہیں ؎
سحر سے شام تک چلتی رہے چائے پر چائے
نہ یہ بیکار بیٹھے ہیں نہ وہ بیکار بیٹھے ہیں
چائے پر مزید اشعار ملاحظہ کیجئے اور مجھے اجازت دیجئے ۔ اللہ نے چاہاتو پھرملتے ہیں ؎
دس تلک چلر اگر باقی رہے
چائے پر اخبار کی باتیں کرو
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
روشنی آنکھوں میں لاتی ہے یہ چائے
میرے جیون کی ساتھی ہے یہ چائے
میرؔبیدری
وہاں اک دوست میرامنتظر ہے
بلایاچائے پر آج اس نے پھر ہے
عنبر چغتائی
بھلابیٹھے ہیں ایک عرصے سے جن کو
کسی دِن چائے پر ان کوبلالیں
کویتاکرن
فون پر ہوکہ صرف چائے پر
کیاملن ہے یہ کیاجدائی ہے
توقیر چغتائی
چھوڑآیاتھامیز پر چائے
یہ جدائی کااستعاراتھا
توقیر عباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
