غزل

مئی 21, 2024
ڈاکٹر واریؔ سنیل پنوار
تمہیں سارا زمانہ چاہیے تھا
یہ سب پہلے بتانا چاہیے تھا
بہت پہلے کے سارے فیصلے تھے
 اسے بس اک بہانہ چاہیے تھا
 سنا ہے شہر بھر سے تم خفا ہو
 ہمیں بھی آزمانا چاہیے تھا
 نئی باتوں میں بس اک یہ کمی تھی
 انہیں لہجہ پرانا چاہیے تھا
 تری آنکھیں بھلے ہی خشک رہتیں
کنارا بھیگ جانا چاہیے تھا
 مجھے شدّت بڑھانی چاہیے تھی
 تمہیں بھی مان جانا چاہیے تھا
بہت غمگیں ہیں اس میں لفظ واریؔ
غزل کو مسکرانا چاہیے تھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے