بھنڈارکمٹہ میں جامع مسجد کی توسیع کے افتتاحی پروگرام کا روح پرور منظر
اوراد۔ 16؍جون (ریاض پاشاہ کوللور): اگرچہ ایک شخص کا مذہب، ذات، نسل، جنس، رنگ اور شکل مختلف ہے، لیکن اس کے اندر زندگی کی لکیر ایک ہی ہے۔ ہندوستان ایک عظیم سرزمین ہے، متنوع ثقافت کی آماجگاہ ہے۔ یہ ایک ایسی قوم ہے جو بہت سے مذاہب اور ذات پات کے اختلافات کے باوجود متحد رہ کر جشن مناتی ہے۔ مولانا نورالحق صاحب قاسمی نے یہ بات کہی اور آگے کہا کہ باہمی محبت اور دوستی سے انسانی زندگی کو خوبصورت بنانا ممکن ہوتا ہے۔جمعہ کوبیدر ضلع کے اوراد تعلقہ کے بھنڈارکمٹہ گاؤں میں پہلے سے موجود جامع مسجد کی تعمیر اور توسیع کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بچوں میں بین المذاہب مساوات پیدا کی جائے تو ان کے لیے مستقبل کے عظیم شہری بننا ممکن ہے۔ گاؤں کے سینئر لیڈر اور رکن گرام پنچایت تیجے راومولے نے کہا کہ فطرت انسان کے ذہن میں بے حسی پیدا نہیں کرتی ۔ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچے مذہب کا مطلب ہے مل جل کر رہنا۔
مولانا ابراہیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج زمین پر پانچ مرتبہ اذان دی جائے گی اور اللہ اکبر کہا جائے گا، اکبر کا مطلب ہے وہ بادشاہ جس نے زمین پر حکومت کی، اکبربادشاہ نہیں، انہوں نے وضاحت کی کہ کوئی غلط فہمی نہ ہو۔اللہ اکبر کا مطلب ہے وہ اللہ بڑا ہے۔ حیدرآباد کے دانی جناب رشید صاحب ، جی پی سابق رکن اشوک راؤ مولے، نارائن راؤ پاٹل،گنپت راؤ پاٹل ، وسنت جبدوار، مہادیا سوامی،دیوی داس میترے ، گرام پنچایت ممبر ضیاء الحق، محبوب صاحب تورنے، جامع مسجد صدرجناب محمد حنیف صاحب، سکریٹری عیسیٰ خان پٹیل، آئی جی ایم کمپیوٹرڈائرکٹر عرفان خان، حسن صاحب ، محمد عیسیٰ، موسیٰ مکینک، نبی خان پٹیل اور دیگر موجود تھے۔اس بات کی اطلاع جناب ریاض پاشاہ کوللور نے دی ہے۔
واضح رہے کہ جامع مسجد کی تعمیر وتوسیع کے موقع پر گاؤں کے غیرمسلم بااثر شخصیات کی شالپوشی اور گلپوشی جامع مسجد میں کی گئی۔اسی طرح مسلمانوں کی بھی شالپوشی اور گلپوشی کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے