مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ
جناب بشیر احمد شاداں فاروقی (1925-2004) کا شمار ہمارے عہد کے نامور محقق، مؤرخ، تذکرہ نگار اور شاعروں میں ہوتا ہے، بقول ڈاکٹر عبد المنان طرزی ”شعر وادب کی خدمت بہت لوگ کرتے ہیں، لیکن خدمت کو عبادت بنا لینے والے بہت کم ہوتے ہیں، شاداں فاروقی کا کمال یہ تھا کہ شاعری، تحقیق تذکرہ نگاری، نکتہ بینی انکا مشغلہ نہیں خدا کی عبادت بن گئی تھی“ انہوں نے جو کچھ لکھا، خلوص اور عرق ریزی کے ساتھ لکھا، جو کتابیں حوالہ کے لیے دستیاب نہیں تھیں، ان کو اپنے قلم سے ہو بہو نقل کیا؛تاکہ مطبوعہ اور مخطوطہ میں فرق نہ ہو، نقل مطابق اصل اور حوالہ دینا ہو تو صفحہ اور سطروں میں بھی یکسانیت، آئینہ ترہت، مسلم شعراء بہار کی تین جلدیں، موج سلطانی جیبی کتابیں انہوں نے ہو بہو نقل کیں اور اپنی بینائی کا بیش ترحصہ اس کی نظر کر دیا، تحریر انتہائی خوش خط تھی، میں جب تذکرہ مسلم مشاہیر ویشالی ترتیب دے رہا تھا تو دربھنگہ جا کر ان کی کتابوں سے استفادہ کیاتھا، انہوں نے تذکرہ بزم شمال خود اپنے ہاتھوں مجھے دیاتھا، بزم شمال جلد دوم، تذکرہ نسیم شمال، تاریخ دربھنگہ کی تین جلدیں، بیگمات شایان ہند، مغل شہزادے، مغل شہزادیوں، ہندوستان کے مسلم مؤرخین اور دنیا کے مسلم مؤرخین کے مسودات انہوں نے مجھے دکھائے تھے، کسی کی ترتیب مکمل تھی، کوئی صاف کرنے کے مرحلہ میں تھی اور کسی کے موادکو مرتب کرنا ابھی باقی تھا، میرا ان کے آبائی گاؤں علی نگر جاناان کی زندگی میں تو نہیں ہوسکا، لیکن دربھنگہ میں ان کے مستقر شعرستان،نور الحسن لین میں بار بار جانا ہوا، ان کی اقامت گاہ ثانی رحم گنج میں ان کے داماد کے گھر بھی ملاقات کے لیے جانا ہوتا تھا، وہ اپنی قیمتی کتابوں کے تحفظ کے لیے فکر مند تھے، خانقاہ مجیبیہ کے اکابر سے انہیں بے پناہ عقیدت تھی،ا مان المستخیرین حضرت سید شاہ امان اللہ قدس سرہ کے دست گرفتہ تھے اور اس کے اثرات ان کی زندگی پر بڑے مثبت اور گہرے تھے۔
اللہ کا شکر اوراس کا احسان ہے کہ ان کی قیمتی لائبریری خانقاہ مجیبیہ منتقل ہونے کی وجہ سے محفوظ ہو گئی اور اس منتقلی کے نتیجے میں حضور سجادہ کی توجہ سے ”نسیم شمال“ طباعت کے مرحلے سے گذر کر اہل علم کی آنکھوں کا سرمہ بن گیا، اس کے لیے علمی دنیا کو دار الاشاعت خانقاہ مجیبیہ کا شکر گذار ہونا چاہیے کہ انہوں نے اسے زر کثیر صرف کرکے ہم تک پہونچا دیا۔
”نسیم شمال“ تین سو باون صفحات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب ہے، جس میں دو سو دس اکابر ومشائخ کے حالات درج ہیں، مختلف سلاسل کا تعارف، شاخیں، ان کے نام، کام اور کرامتوں سے بھی اس کتاب میں انہوں نے واقفیت بہم پہونچائی ہے اور بہت سارے مشائخ کے تذکرے کو محفوظ کر یا ہے، یہ کتاب ”نام نیک رفتگاں ضائع مکن“کی عملی تجسیم اور تصویر ہے۔
شاداں فاروقی نے کتاب کا انتساب اپنے پیر ومرشد حضرت مولانا سید شاہ محمد امان اللہ قدس سرہ کے نام کیا ہے جو اپنے شیخ سے ان کی محبت وعقیدت کی بین دلیل ہے، پھر دم عارف کے نام سے علامہ اقبال کی ایک رباعی درج ہے، اس کے بعد زیب سجادہ مجیبی حضور مولانا سید شاہ آیت اللہ قادری دام فیوضہ کا بسیط مقالہ حرف اولیں کے نام سے شامل کتاب ہے جو صفحہ 23 سے صفحہ 46 تک پھیلا ہے، اس میں حضور سجادہ نے تصوف کے مختلف ادوار، سلاسل، تصوف کے رموز ونکات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے، یہ مقالہ حضرت زیب سجادہ کی علمی بصیرت، تصوف پر گہری نظر کی شاہد اور اس کے دروبست کے جائزے پر مبنی ہے، جو اس موضوع پر ان کے بسیط مطالعہ کی غماز ہے، حرف اولین کے آخری چار صفحات کتاب اور صاحب کتاب کے حوالہ سے ہیں جس سے اس کتاب کی تصنیف کے بعد طباعت تک کے سفر کی روداد سے ہم واقف ہوتے ہیں۔
اس کے بعد تیسرا مضمون ”کچھ تصنیف کے بارے میں“ ڈاکٹر فضل اللہ قادری صاحب کا ہے، جو صرف دو صفحہ ہے جسے ان کی موجزنگاری کے کمال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، اس کے بعد مؤلف کا پیش لفظ ہے، جس میں مختصر میں انہوں نے اس کتاب کی تالیف، ماخذ ومراجع کی حصولیابی میں دشواریاں اور تعاون کرنے والے اشخاص اور مفید ثابت ہونے والے کتب خانوں کا ذکیا ہے اور ان کے لیے تشکر وامتنان پیش کیا ہے۔
مؤلف کا مقدمہ کتاب طویل ہے، جس میں تصوف اور اس کے متعلقات کا جائزہ لیا ہے، صوفی کے اوصاف، اہل تصوف کی قسمیں، تصوف کی اہمیت اور ضرورت، تصوف کی نشو نما، درجات تصوف، تصوف کی وادیاں، عالم تصوف، تصوف کے سلاسل، تصوف کی افادیت، تصوف کی ایذا رسانی اور تصوف کا زوال جیسے اہم موضوعات زیر بحث آتے ہیں، یہ مقدمہ صفحہ 80 تک پھیلتا چلا گیا ہے۔ اس کے بعد ہر سلسلہ کی تاریخ عموما ًبہار کے حوالہ سے مذکور ہے، جن سلاسل پر گفتگو کی گئی ہے ان میں سلسلہ عالیہ قادریہ، سلسلہ قادریہ رزاقیہ، سلسلہ قادریہ وارثیہ، سلسلہ وارثیہ، سلسلہ چشتیہ، سلسلہ چشتیہ آبادانیہ، سلسلہ صابریہ چشتیہ، سلسلہ نقشبندیہ، سلسلہ چشتیہ مسلسل وخاندان پیر دمڑیا،
سلسلہ سہروردیہ، سلسلہ سہروردیہ مسلسل، سلسلہ شطاریہ، دیگر خانوادوں کے شطاری بزرگ، سلسلہ قلندریہ،سلسلہ ابوالعلائیہ منعمیہ، سلسلہ مداریہ وارثی، سلسلہ شہداء،مجذوبین، سالکین کا تعارف اس سلسلے کے اکابر ومشائخ پر تفصیلی مطالعہ شاداں فارقی نے پیش کیا ہے
اس کے بعد حواشی میں جن ماخذ ومراجع سے استفادہ کیا ہے اس کی تفصیل درج ہے، ایک قطعہ تاریخ بھی مولانا محمد عاصم قادری کا ہے، ماخذ ومراجع پر جا کر یہ کتاب ختم ہوتی ہے۔ ماخذ ومراجع میں پانچ مخطوطات، بیالیس مطبوعات اور چھ رسائل سے استفادہ کرنے کا پتہ چلتا ہے، ان کتابوں کا مطالعہ ان سے مواد اخذ کرنا اور پھر قاری کے سامنے جس طرح شاداں فاروقی نے پیش کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے انہیں قوت اخذ بھی دی تھی اور طاقت عطا بھی۔
کتاب کی طباعت پاکیزہ آفسیٹ پریس شاہ گنج درگاہ روڈ پٹنہ سے ہوئی ہے، جس کا نام بھی پاکیزہ اور کام بھی پاکیزہ ہے، پاکیزگی تو اس کتاب کے ہر ہر صفحے، الفاظ اور جملوں میں ہے، مطلب یہ ہے کہ کتاب اچھی چھپی ہے، پروف کی غلطیوں سے پاک اور دیدہ زیب، سرورق سادگی کا مرقع، دیکھیے اور سبحان اللہ، الحمد للہ، ماشاء اللہ اور جزاک اللہ کہتے جائیے، ملنے کا پتہ کہیں درج نہیں ہے، البتہ ناشر دار الاشاعت خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف ہے، وہیں سے مل سکتی ہے، قیمت چار سو روپے ادا کیجئے اور اپنے علمی ذوق کی تسکین کا سامان فراہم کیجئے، خریداروں کو قیمت میں رعایت دینے کی روایت قدیم اور مستحکم ہے، ممکن ہے کم قیمت ادا کرنے پر بھی مل جائے۔
انسانی کام میں کمی رہ ہی جاتی ہے، اس کتاب میں جو کمی قاری کو کھٹکتی ہے وہ بہت سارے بڑوں کے تذکرے میں تاریخ وفات کا مذکورنہیں ہونا ہے، اسی طرح بعض نام اور احوال کے اندراج میں بھی چوک ہوئی ہے، چوں کہ یہ موضوع طویل ہے اور اس کے لیے الگ سے ”غلطی ہائے مضامین“ یا ”استدراک“ کے عنوان سے تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے، نہ اخبار و رسائل کے صفحات اس کا متحمل ہے اور نہ ہی تبصرے میں اس کی گنجائش معلوم ہوتی، اس کافوری حل تو یہ ہے کہ جن حضرات کی تاریخ وفات سے آپ واقف ہیں، ان کو اپنے مطالعہ والے نسخے پر درج کر لیں جسے حضرت شاہ عماد الدین باطن کی تاریخ وفات کنزالتواریخ میں سعید حسرت عظیم آبادی نے 1273 درج کیا ہے اور لکھا ہے کہ ”ستون دین بر افتادہ“ سے تاریخ وفات نکلتی ہے، اسی طرح حاجی پور کے دودھیلا پیر کا نام اتہاس حاجی پور میں تام تڑک پیر لکھا ہے، یہ حاجی پور کے سید وارہ مینا پور میں نظرائن کی مسجد کے پورب دس قدم پر سات فٹ اونچے چبوترے پر چہار دیواری کے اندر ہے، ان کے مزار کو دودھ سے دھویا جاتا تھا ودھ ایک حوض میں جمع ہوتا تھا جو قبر کے پچھم میں آج بھی موجود ہے، معتقدین اسے عقیدت سے لیتے تھے، اسی نسبت سے انہیں دھودھیلا پیر کہا جاتا ہے، تفصیل کے لیے تذکرہ مسلم مشاہیر ویشالی کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس جیسی مثالیں اور بھی ہیں، لیکن اس جیسی فروگذاشت سے اس کتاب کی اہمیت اور قدر وقیمت کم نہیں ہوتی، بلکہ تحقیق کو آگے بڑھانے کے دروازے کھولتی ہے ۔
