29؍جون ہفتہ کو بنگلور کے ہسیرو پرتشٹھان کے خلاف بیدر میں ریلیوں اور احتجاج کا اعلان
بیدر۔ 22؍جون (محمدیوسف رحیم بیدری): کلیان کرناٹک ہوراٹاسمیتی نے آج بیدر شہر کے بی وی بھوم ریڈی کالج کے احاطہ میں ایک اجلاس منعقد کرتے ہوئے یہ اعلان کیاہے کہ ہم علاقہ کلیان کرناٹک کی پسماندہ عوام کے حقوق کو چھیننے نہیں دیں گے اور علاقائی تحفظات (Regional Reservation) پربدستور عامل رہیں گے۔ بنگلور کا ہسیرو پرتشٹھان دراصل کلیان کرناٹک کی عوام سے دشمنی پر اُترآیاہے۔ جناب لکشمن دستی نے ایک گھنٹہ پر مشتمل ایک طویل خطاب کیا۔ اس خطاب میں علاقہ حیدرآباد کرناٹک (موجودہ نام کلیان کرناٹک) کی تار یخ بتا ئی ۔ پولیس ایکشن ، رضاکار اور بعد کے حالات پر روشنی ڈالی۔ ریاست میسور کی تشکیل بعدازاں میسور نام کرناٹک میں تبدیل ہونے اور اس دوران سیاست دانوں کی جانب سے علاقہ کلیان کرناٹک کونظر انداز کابھی ذکرکیا۔ اور اپنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہاکہ میں تمہارے پاؤں پڑتاہوں ، براہ کرم دشمنی نہ کریں۔ یہاں ہمارے علاقے میں آکر دیکھیں کہ کس قدر پسماندہ علاقہ ہے کلیان کرناٹک۔ کاویری کے لئے اور جنوبی کرناٹک کی دیگر ندیوں کے پانی کے لئے ہم نے بیدربند رکھا۔ کلیان کرناٹک بند رکھا۔ کبھی تم نے ہمارے لئے ، ہمارے حق کے لئے کچھ کیا؟
انھوں نے سوال کیا کہ دفعہ 371(J)بن کر دس سال ہوچکے ہیں ۔ ان 10سال میں کبھی اس دفعہ کے خلاف آواز نہیں اٹھائی گئی ۔ اب یہ سب کیاہے ؟انھوں نے حیدرآباد کے 7راجاؤں (نظام) کانام بتلاتے ہوئے کہاکہ ساتویں راجے کے وقت پولیس موومنٹ ہوا۔ رضاکار دراصل مسلم نہیں تھے بلکہ وہ ایک تنظیم تھی جس میں سبھی ذات پات کے لوگ شامل تھے۔ موصوف نے خود اپنے بارے میں بتایاکہ میں نہ کانگریس پارٹی کاغلام ہوں، نہ ہی بی جے پی اور نہ جنتادل ایس کاغلام ہوں۔ اگر غلام ہوں تو اس علاقہ کی عوام کا غلام ہوں۔ میں ایم ایل سی ، بورڈ یاکمیٹی کی چیرمین شپ کا خواہشمند بھی نہیں ہوں۔ کلیان کرناٹک ہوراٹاسمیتی سبھی کے لئے ہے۔ موصوف نے بیدر کی پسماندگی کا اظہار اس بات سے بھی کیاکہ ریاست کی عوام تک نہیں جانتی کہ بیدر کہاں ہے ؟ایسی پسماندگی کے دوران 371(J)کے ذریعہ ہمارے علاقے کو خصوصی درجہ حاصل ہواہے اس درجہ کو برقرار رکھنے کے لئے احتجاج کی ضرورت ہے۔ میں احتجاج کے لئے بناہوں اور آخری دم تک احتجاج کرتارہوں گا۔
لکشمن دستی نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ علاقہ کلیان کرناٹک وہ علاقہ ہے جہاں وچن ساہتیہ جیسا ادب پید اہوا۔ یہاں خواجہ بندہ نواز جیسے صوفی گزرے ہیں۔ ایک طرف ہم وشال کرناٹک اور اکھنڈکرناٹک کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف کرناٹک والوں ہی کونظر انداز کردیاجاتاہے۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹربسوالنگ پٹہ دیورونے کی اور اپنے خطاب میں کہاکہ جناب لکشمن دستی نے ہمیں ہمارے علاقے کی وہ تاریخ بتائی ہے جس سے ہم ناواقف ہیں۔ رہ گئی بات 371(J)کی تو یہ ہمارے سوابھیمان کاسوال ہے۔ اگر علاقہ میسور کی طرف جائیں تو ہمیں پتہ چلے گاکہ وہ ہر چیزترقی کی جانب رواں دواں ہے اور ہماراعلاقہ پسماندہ پڑا ہواہے۔ جس کے بارے میں بیداری ضرور ی ہے۔ 29؍جون ہفتہ کو 11؍بجے دن مختلف کالجس سے نکلنے والی ریالیاں امبیڈکر سرکل پر پہنچیں گی ۔ یہ ریلی اوراحتجاج نمبرون رہے گا۔ اس طرح ہم اپنے حق کی لڑا ئی لڑیں گے۔ دیگر افراد نے بھی مائیک پر آکر اپنی اپنی رائے پیش کی۔ پروگرام کاآغاز شیوشنکر ٹوکرے سابق پرنسپل نے کیا۔ نظامت کے فرائض جناب سریش چن شٹی صدر کنڑاساہتیہ پریشد نے انجام دئے۔ جبکہ اظہار تشکر مسٹر ونئے مالگے نے کیا۔ شہ نشین پر مذکورہ اشخاص کے علاوہ بسواراج جابشٹی ، جناب شیوشرنپا والی ، ڈاکٹر ماجد داغی (گلبرگہ) ، جناب شری کانت سوامی مسٹر، رجنیش والی وغیرہ کے علاوہ خصوصی افراد میںریون سدپا جلادھے ، مسٹر بابووالی ، بی جی شیٹکار ، ماروتی بودھے ، بسواراج دھنور، سوم شیکھرپاٹل گادگی ،کسان قائد چندر شیکھرپاٹل ہچکنلی ،جناب محمد معظم امیرمقامی جماعت اسلامی ہند بیدر، جناب محمدنظام الدین، جناب محمد آصف الدین، جناب مبشرسندھے انجینئر، مسٹروجے کمار سونارے، رمیش برادار، جناب رتین کمل، جناب ایس ایم جنواڑکر، خواتین ادیب، اردو صحافی کے علاوہ خواتین کسان بھی تقریب میں شریک رہے۔
