ڈاکٹرسراج الدین ندوی
چیرمین ملت اکیڈمی، بجنور

کسی ملک اور قوم کی ترقی میں جہاں بزرگوں کی تجربہ کاری ،ان کی حکمت و دانائی اور نوجوانوں کے ولولے اور جوش و جنون اہم رول ادا کرتے ہیں وہیںبچوں کی معصوم تمناؤں، ان کے خون پسینے کے قطروں سے ہر اجتماعیت اور تحریک کو بڑھاوا ملتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسولؐ بچوں کو بڑی اہمیت دیتے تھے کیونکہ یہی بچے آگے چل کر نوجوان اور بزرگ بنتے ہیں۔ ملک و قوم کی قیادت انہیں کے کاندھوں پر آتی ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ’’اپنی اولاد کی عزت کرو‘‘ پھر فرمایا :۔’’والدین کا اپنی اولاد کو بہترین تحفہ اس کی تعلیم و تربیت ہے‘‘۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب بچہ پیدا ہو تو اس کے کانوں میں اذان اور تکبیر کہا کرو تا کہ سب سے پہلے نیکی کی بات ہی کان میں پڑے۔آپ ﷺبچوں کے لیے دعا بھی کرتے تھے کہ ’’اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر‘‘۔آپ ﷺ کے پاس جب بھی نیا پھل آتا تو آپ ﷺ محفل میں موجود سب سے چھوٹے بچے کو پہلے دیتے۔ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ ’’بچوں کو چوما کرو کہ اس کے عوض تم کو جنت میں بدلہ ملے گا‘‘ آپ ؐ یہ بھی فرماتے:۔’’ جو بچوں کے ساتھ شفقت اور رحم نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں‘‘۔
بچوں سے محبت کرنا سیرت کا ایک اہم باب ہے ۔اس ضمن میں بے شمار واقعات سیرت کی کتابوں میں درج ہیں ۔ ایک دفعہ آپﷺ اپنے نواسوں حضرت حسنؓ اورحضرت حسین ؓ کو چوم رہے تھے تو ایک بدو نے دیکھ کر کہا :’’ اے رسول خداؐ! میرے 10 بچے ہیں میں نے انہیں کبھی نہیںچوما ‘‘آپ ﷺ نے فرمایا:۔’’ اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحمت نکال لی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں‘‘۔ پھر ایک موقع پر فرمایا کہ:’’ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘ نماز پڑھاتے وقت اگر کسی بچے کے رونے کی آواز آپﷺ سن لیتے تو نماز مختصر کر دیتے اور فرمایا کرتے کہ’’ اس کا رونا اس کی ماں پر گراں گزرتا ہے۔‘‘ آپﷺ کے اندر بچوں کے لیے ماں سے بھی بڑھ کر محبت والا دل تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ میں نے رسول کریم ﷺ سے بڑھ کر بچوں کے ساتھ حسن ِ سلوک کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔‘‘ آپؓ فرمایا کرتے تھے :۔’’ میں 10 سال تک آپﷺ کی خدمت میں رہا۔ آپ ﷺ نے مجھے ان دس سالوں میں ایک دفعہ بھی نہیں جھڑکا۔‘‘ ایک دفعہ عید کے روز ایک بچہ راہ میں افسردہ کھڑا تھا۔ آپ ﷺ نے محسوس کر لیا کہ یہ دوسرے بچوں کو حسرت سے دیکھ کر رو رہا ہے کہ ان کے ماں باپ ہیں اس لئے ان بچوں نے نئے کپڑے پہنے ہیں۔ آپ ﷺ اس بچے کو گھر لے گئے۔ نئے کپڑے دیے، نیا جوتا دیا اور فرمایا :۔’’آج سے محمدﷺ تمہارے باپ، عائشہؓ تمہاری ماں اور فاطمہؓ تمہاری بہن ہے۔‘‘
پیارے آقا ٰﷺ بچوں کو گود میں اٹھاتے، ان کو بوسہ دیتے، سینہ سے لگاتے، ان کے لیے دعائیں کرتے، ان کو دین کی باتیں سکھاتے۔ اس حسن سلوک کی وجہ سے بچوں کو بھی آپﷺ سے بے پناہ محبت تھی۔ بچے جب آپ ﷺ کو دیکھتے تو خوشی اور شوق سے بھاگ کر آتے اور آپ ﷺ باری باری ان کو گود میں اٹھا کر پیار کرتے۔ آپ ﷺ کی عادت تھی کہ ہمیشہ بچوں کو خود پہلے سلام کرتے۔ ان سے پاکیزہ مذاق بھی کرتے اور نیک اور اچھی باتیں بھی بتاتے۔
ایک دفعہ آپ ﷺ کے نواسے نے کسی بچے کو اونٹ پر سوار دیکھ کر کہا :۔’’ مجھے بھی اونٹ پر بیٹھنا ہے۔‘‘ آپؐ نے انھیں کاندھے پر سوار کرکے اونٹ کی طرح چلنا شروع کر دیا۔ کسی نے دیکھ کر کہا :۔’’کتنی پیاری سواری ہے‘‘ تو آپ ﷺ نے فوراً فرمایا ’’سوار بھی تو کتنا پیارا ہے‘‘
اسلام کی ترقی میں بھی بچوں نے ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا ہے انہوں نے اپنے خون اپنے جوش اور اپنے حوصلوں سے نہ صرف اسلام کو آگے بڑھایا بلکہ سرد خونوں میں گرمی پیدا کی اور جوانوں اور بوڑھوں کو بھی غیرت دلائی۔ ذرا اپنی آنکھیں بند کیجئے اور تصورات کی دنیا میں اب سے 1450 سال پہلے کی تاریخ پر نظر ڈالیے جب اسلام کو قبول کرنا اژدہے کے منہ میں ہاتھ دینے کے مترادف تھا۔
اسلام کا پیغام قریب ترین لوگوں تک پہنچانے کے لیے رسول خدا اپنے خاندان کو کھانے پر مدعو کرتے ہیں۔ فراغت کے بعد آپ اہل خاندان کے سامنے خدا کا پیغام پیش کرتے ہیں۔ انہیں بت پرستی ترک کرنے اور الہٰ واحد کی عبادت کی تلقین کرتے اور آخرت کے عذاب سے ڈراتے ہیں اور فرماتے ہیں:۔’’ کون ہے جو کانٹوں بھری اس راہ میں میرا ساتھ دے گا ؟‘‘خاندان کے تمام لوگ خاموش بیٹھے ہیں گویا انہیں سانپ سونگھ گیا ہے۔ ایک گوشے سے دھیمی سی آواز سنائی دیتی ہے۔:’’ اگرچہ میں بیمار ہوں، میری آنکھیں آئی ہوئی ہیں، میری ٹانگیں پتلی ہیں اور میری عمر بہت کم ہے لیکن اے رسول خدا ﷺمیں ہر حال میں آپ کا ساتھ دوں گا ۔‘‘یہ آواز کس کی تھی؟ کسی عمر رسیدہ کی ؟ کسی جوان کی ؟نہیں!! بلکہ ایک بچے کی جس کی عمر صرف سے 10۔11سال تھی ۔اس بچے نے خدا اور رسول کا ساتھ دینے کا عہد اس وقت کیا جب کہ سرداران قریش بھی خاموش رہے ۔اس بچے کو اسلامی تاریخ حضرت علی ؓکے نام سے جانتی ہے ۔جنھوں نے زندگی بھر اپنے عہد کو نبھایا ۔ہر نازک موقع پر اسلام کی خاطر اپنی جان پر کھیلے اور اسلامی ریاست کے چوتھے خلیفہ مقرر ہوئے ۔
غزوہ بدر کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔مکے کے مشرکوں نے مدینے پر حملے کی ٹھان رکھی ہے ۔پیارے نبیؐ اپنے دفاع کے لیے اسلامی لشکر لے کر بدر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ 11،12 سال کا ایک بچہ عمیرؓ چھپ کر پیچھے پیچھے چل رہا ہے۔ بھائی کی نظر پڑتی ہے تو پوچھتے ہیں:۔’’ تم کیوں چھپ کر چل رہے ہو ؟‘‘بچہ جواب دیتا ہے:۔’’ مجھے یہ ڈر ہے کہ اگر رسول خدا کی نظر مجھ پر پڑ گئی تو وہ کم عمری کی وجہ سے مجھے واپس کر دیں گے اور جہاد میں شرکت کی اجازت نہ دیں گے جبکہ میں اللہ کے راستے میں لڑنا چاہتا ہوں ۔‘‘چھوٹے بھائی کے جذبات دیکھ کر بڑے بھائی کو مسرت ہوتی ہے۔
اچانک حضور اکرم ؐکی نظر عمیرؓ پر پڑتی ہے۔ آپ دیکھتے ہی واپسی کا حکم دیتے ہیں اور فرماتے ہیں:۔’’ اے بچے تم واپس جاؤ جب بڑے ہو جاؤ گے تو لڑنے آنا کیونکہ جنگ بچوں کا کھیل نہیں ہے یہ تو بڑوں کے لیے بھی نہایت سخت اور مشکل ہے ۔‘‘یہ سن کر عمیر غم کی تصویر بن جاتے ہیں اور اپنی بات منوانے کے لیے وہ حربہ استعمال کرتے ہیں جو عموماً چھوٹے بچے ایسے موقع پر استعمال کرتے ہیںیعنی حضور اکرم ﷺ کے سامنے روپڑتے ہیں۔ یہ دیکھ کر حضور اکرمؐ کا دل بھر آتا ہے۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو تارے بن کر چمکنے لگتے ہیں اور اس بچے کو جنگ میں شرکت کی اجازت مرحمت فرما دیتے ہیں ۔یہ نوعمر بچہ بڑی جاں بازی سے لڑتا ہے اور جام شہادت نوش کر لیتا ہے۔
ایک سال بعد مکہ کے مشرکین دوبارہ مدینے پر یلغار کرتے ہیں۔ حضور اکرم اپنے ساتھیوں کو لے کر ان کے مقابلے کے لیے نکلتے ہیں۔ جہاد میں شرکت کے لیے دو کمسن نوجوان بھی خوشی خوشی جا رہے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں تو واپس ہونے کا حکم دیتے ہیں۔ ان میں ایک رافع بن خدیج ایڑیوں کے بل کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے :۔’’اے اللہ کے رسول ؐمیں تو بڑا ہوں ‘‘پیارے نبی کو اس کی ادا پر پیار ا ٓجاتا ہے اور آپ اسے اجازت دے دیتے ہیں ۔تبھی ایک دوسرا نوجوان سمرہ بن جندب دوڑا دوڑا آتا ہے اور کہتا ہے :۔’’ اللہ کے رسول اگر آپ نے رافع کو جنگ میں شرکت کی اجازت دے دی ہے تو مجھے بھی اجازت دے دیجئے میں تو اس سے زیادہ طاقتور ہوں میں کشتی میں بھی اس کو پچھاڑ سکتا ہوں۔‘‘ پیارے نبیؐ دونوں کی کشتی کراتے ہیں ۔ سمرہ بن جندب واقعی رافع بن خدیج کو پچھاڑ دیتے ہیں اور اللہ کے رسول سمرہ بن جندب کو بھی شرکت کی اجازت مرحمت فرما دیتے ہیں ۔
ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں پر توجہ دیں۔ اچھی تعلیم کے ساتھ ان کی دینی تربیت کریں۔ شروع ہی سے انہیں اللہ کے دین کا سپاہی بنائیں تاکہ وہ برے ماحول سے بچ کراپنی صلاحیتوں کا تعمیر ی استعمال کر سکیں اور معاشرے میں نیکیوں کے فروغ اور برائیوں کے خاتمے کے لیے موثر کردار ادا کر سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے