سہارنپور (احمد رضا): ملی رہبر مولانا عطا الرحمان وجدی کے انتقال پر ملال پر تعزیت کا سلسلہ لگاتار جاری ہے، اصلیت میں مولانا وجدی اسلامی تعلیمات کے آئینہ تھے آپ نے اپنی زندگی میں ملت اسلامیہ کی جو بے لوث خدمات انجام دی ہیں ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔
عالم دین مفتی محمد خبر ندوی نے ایک بیان میں آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ دو ہفتہ قبل راشٹریہ سہارا کے مقامی قلم کار شاہد زبیری سے وحدتِ اسلامی کے بانی چیئرمین اور اس کے ترجمان ماہنامہ تنقیحات کے بانی مدیر محترم مرحوم حضرت مولانا عطاء الرحمن وجدی صاحب رحمہ اللہ کی طبیعت اور ان کی دیگر سرگرمیوں کے بارے میں تفصیل سے باتیں ہوئیں تھیں، جس میں میں نے شاہد بھائی کو بتایا تھا کہ جامعہ مظاہر علوم سہارنپور سے میرے اسباب علیٰحدگی میں ایک بڑا سبب مرحوم مولانا عطاء الرحمن وجدی صاحب رحمہ اللّٰہ سے تعلق اور موصوف مرحوم کی جامعہ مظاہر علوم سہارنپور میں کثرت سے آمد و رفت بھی تھی، بہر حال آپ نے جس جرأت مندی، بے باکی، جوان مردی اور ظالم کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پرحق بات کا اعلان کرنے والی بے مثال زندگی بسر کی وہ حقیقت میں اپنی مثال آپ ہی تھی، آپ حقیقۃ اسلامی تہذیب وثقافت کے علمبردار اور اسلامی علوم و فنون کے سچے پکے شیدائی تھے، آپ کی چاہت ہی یہ تھی اسلام چلتا پھرتا لوگوں کو نظر آئے، مسلمان شخص کو دیکھ کر ہی اسلام کی حقانیت اُجاگر ہو جائے۔
میرے چار سالہ 1995 تا 1998 زمانۂ قیام سہارنپور میں مجھے قدم قدم پر اپنی غیر معمولی شفقت و محبت سے نوازا، یہ میری اپنی بدقسمتی ہی تھی کہ میں تو آپ کی خدمت میں کم ہی حاضر ہو پاتا تھا لیکن آپ ہمیشہ مجھ ناچیز پر بے پناہ احسان فرما کر برابر تشریف لاتے تھے، ایک بار تو آپ نے یہاں تک فرما دیا کہ مفتی صاحب اب مجھ سے آپ کی دوری سہی نہیں جاتی ہے، بہرحال موت کا ایک وقت مقرر ھے اور ہم سب کو اسی وقت مقررہ پر بارگاہ ایزدی کے حضور حاضر ہونا ہے کیونکہ ” ۔۔۔آئی حیات آئے قضا لے چلی چلے۔۔۔اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی چلے، کے مطابق سبھی کو جانا ھے، ہاں کوئی پہلے اور کوئی بعد میں۔
وجدی صاحب! آپ نے تو ہم سب کو ایک ایسے نازک وقت میں داغ مفارقت دیا ھے جب آپ کی موجودگی کی ہم میں شدید ضرورت تھی، لیکن تقدیر کے فیصلے سب کو ماننے ہی پڑتے ہیں، اس لیے اللّٰہ تعالیٰ سے بس یہی دعاء ھےکہ آپ کی بال بال مغفرت فرمائے اور آپ کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرما کر آپ کے خلا کو پر فرمائے آمین، ہم ہمیشہ اہل خانہ کے شریک غم ہیں !
