اللھم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ ،،،
غمزدہ: انصر نیپالی
آہ حافظ! تو بہت ہی خوش نظر تھا باوقار
تیری موت ناگہاں سے ہر کوئی ہے اشک بار
حج سے کیا لوٹے کہ ان کے خیر مقدم کے لیے
موت دروازے پہ ملنے کے لیے تھی بے قرار
پورا "چنئی” اس جواں کی موت پر مغموم ہے
تیرا جیسا اب کہاں سے لاؤں اے مرد شعار ؟
ایک حافظ ایک واعظ اک مقرر اک خطیب
آہ ! کیسے ہوگئی بزم خطابت سوگوار
صدق گوئی،حوصلہ مندی تری پہچان تھی
آپ کی ہر بات تھی سب کی نظر میں شاہکار
زندگی توحید وسنت پر سدا قربان تھی
دین کی باتیں سکھاتے اور تھے بھی دین دار
یا الہی! بخش دے ربانی کی ساری خطا
دعوت اسلام پر قربان تھی لیل و نہار
ہم بھلا سکتے نہیں ربانی کی خدمات کو
سچ میں انصر آدمی وہ تھے بہت ہی خاکسار
