از قلم : ڈاکٹر قدسیہ انجم علیگ سہارنپور 
علم ایک نور ہے , علم انسان کے دماغ کو روشن کرنے کا بہترین ذریعہ ہے "پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے تمہیں پیدا کیا "اللہ نے جب اس آیت کو نازل کیا تو مرد اور عورت دونوں کو پڑھنے کا اور علم حاصل کرنے کا حکم دیا دونوں پر تعلیم حاصل کرنے کی یکساں ذمہ داری ہے کہا گیا علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر تک یعنی علم ایسی چیز ہے جس کی تاکید اللہ نے اپنے محبوب رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بار بار کرتا ہے اس سے کوتاہی دین سے گمراہی ہے قران مجید میں مختلف قوموں، پیغمبروں، شہروں، ملکوں، پہاڑوں اور سمندروں کا تذکرہ ہے۔ یہ تاریخ و جغرافیہ کے علوم کی بنیاد ھے، اسی طرح سائنس، فلسفہ طبیآت، نفسیات، علم الحیوان علم الانسان علم الجنین، فلکیات کیمیاء اور طب و ادویہ وغیرہ کا ذکر بھی کسی نہ کسی پیرائے سے ہوا ہے۔ شمس و قمر نباتات اور حیوانات کی خلقت میں بھی غور و فکر کرنے کی تلقین کی گئی ہے یہ تمام چیزیں سائنس کی ضرورت ظاہر کرتی ہیں۔
غرض اج ہم جن علوم کو غیر اسلامی سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں ان کی بنیادیں کتاب و سنت میں موجود ہیں اس لیے اگر قران فہمی کے لیے مسلمان مردوں کو ان کا حاصل کرنا ضروری ہے تو کیا خواتین کے لیے قران فہمی ضروری نہیں ہے اسلام نے جب علم حاصل کرنے کا حکم دیا تو کبھی بھی اس علم کو دائرے میں قید نہیں کیا نہ ہی مرد اور عورت کے لحاظ سے اور نہ ہی دینوی اور دینی تعلیم کے لحاظ سے مذہب اسلام نے مرد و خواتین کی یکساں دینی اخلاقی تربیت پر زور دیا۔ خود پیغمبر اسلام خواتین کے حلقوں میں جا کر انہیں وعظ و نصیحت کیا کرتے اور ان کی روحانی و اخلاقی تربیت اور قران کی اعلی قدروں کو ان کے سامنے رکھتے تو پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ خواتین بقدر ضرورت دینی احکام حاصل کر لینے پر ہی قناعت کریں۔
سچائی تو یہ ہے کہ دینی علوم کی طرح عصری علوم سائنس ٹیکنالوجی ریاضی میڈیسن سیاحت انجینئرنگ تاریخ جغرافیہ سیاست وغیرہ کو جاننا عورتوں کے  لیے مردوں سے کم ضروری نہیں ہے۔ ان کو غیر ضروری اور غیر دینی کہہ کر نظر انداز کرنا یا خواتین کو ان کی تعلیم سے روکنا ایک بڑا اور عظیم قومی خسارہ ہے اور مسلمان اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں برس سا برس ایک ایسے نظریے کی تشکیل کی گئی جو بظاہر اسلامی نظریہ لگتا ہے لیکن اس میں دین کا حقیقی شعور کہیں دکھائی نہیں دیتا مرد اور خواتین کے درمیان تفریق کو  علم کے معاملات میں بھی تفریق کے ساتھ جوڑا گیا مردوں کو علم جہاں کا علم بردار اور خواتین کو امور خانہ کا ذمہ دار  سمجھا جانے لگا اور عوام میں یہ مفروضہ عام کیا گیا علم و دانش تعلیم و تربیت تصنیف و تالیف مردوں کے ہی کام ہیں عورتیں گھر کی چار دیواری تک محدود رہنے والی چیز ہیں اور ان کے ناقص العقل ہونے کی بات کہی گئی، ایک مقولہ ہے کہ عورت سماج کا نصف حصہ ہے۔عورت نہ صرف خاندان بلکہ معاشرے اور قوموں کی تعمیر کرتی ہے تعلیم یافتہ عورت ہی ایک قابل معمار قوم اور ذمےدار شہری ثابت ہو سکتی ھے نپولین نے کہا کہ، عورتیں قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہیں انکو نظر انداز کر کے قوموں کی ترقی محال ھے۔ بہترین قومیں  بہترین مائیں  بنا سکتی ہیں اُس نے کہا کہ تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تم کو ترقّی یافتہ مُلک دونگا۔
مسلم سماج کا ایک بڑا طبقہ تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دیتا جتنی وہ زندگی کی دوسری ضرورتوں کو دیتا ہے۔ مسلم سماج میں ہر اس چیز کی محرومی ہے جس کی اسلام نے ہدایت دی ہے کہا گیا ہے کہ سب سے بہترین درسگاہ ماں کی گود ہے مردانہ سماج نے لفظ تعلیم کو صرف دینی تعلیم تک محدود کر دیا اور عورتوں کو گھروں میں قید کر کے علم جیسی عظیم نعمت کو حاصل کرنے سے محروم کر دیا لڑکیوں کی تعلیم کو آج  بھی قابل اطمینان نہیں سمجھتے اعلی تعلیم تو بہت دور کی بات ہے وہ سوچتے ہیں کہ  لڑکیوں کو نوکری تو  کرنی  نہیں ہے روزمرہ کی زندگی میں عورتیں گھر کی بہت ساری ذمہ داریاں اٹھاتی  دیکھی جا سکتی ہیں جیسے کھانا بنانا گھر کی ضروریات کی چیزیں خرید کر لانا شاپنگ کرنا ڈاکٹر کے پاس جانا غرض بہت سارے کام کی ذمہ داریاں شوہر کی موجودگی میں خواتین خوش دلی سے  نبھاتی ہیں اور ان ذمہ داریوں کو نبھانے میں گھر کے کسی بھی فرد کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا لیکن اگر تعلیم کی بات کریں تو بہت سی  دشواریوں اور مجبوریوں کا ذکر گھر کے لوگوں سے سننے کو مل جائے گا جب خواتین گھر سے باہر نکل کر سارے ضروری کام نپٹا سکتی ہیں اور مردوں کو اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے تو تعلیم کے لیے بندشیں کیوں ان کی حفاظت کے نام پر انہیں گھروں میں قید کر دیا جاتا ہے، اگر ان لڑکیوں کو پڑھائی کا موقع دیا جاتا تو وہ زندگی میں بہت اگے جا سکتی تھیں خود کفیل ہو سکتی تھیں، ان کی صلاحیتیں گھر میں ہی دم توڑ دیتی ہیں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مردوں نے کبھی وکالت نہیں کی بلکہ یہی سننے کو ملا کہ زیادہ تعلیم لڑکیوں میں بگاڑ پیدا کر دیتی ہے۔
مسلم لڑکیوں کو ان کی غربت اور پسماندگی کی وجہ سے ایسے موقع کم ملے ہیں جن میں وہ اپنے ذہنی علمی فکری و فنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر آگے جا سکتی ہیں، مسلم لڑکیاں بہت ہنر مند ہیں لیکن انہیں کوئی پلیٹ فارم نہیں ملتا جس سے وہ اپنے ہنر کے ذریعے روزگار سے جڑ سکیں اب مسلم معاشرے میں کچھ تبدیلی دکھائی دیتی ہے، لڑکیاں کافی تعداد میں اسکول جا رہی ہیں مگر زیادہ تر لڑکیاں گریجویشن تک تعلیم حاصل کر پاتی ہیں، والدین یہ سوچ کر پڑھا رہے ہیں کہ لڑکی پڑھ گئی تو اچھا رشتہ مل جائے گا، زیادہ پڑھ لکھ کر رشتے میں دقت آئے گی۔ ایک سوچ یہ بھی ہے کہ زیادہ پڑھی لکھی لڑکیاں اپنے سسرال والوں کی عزت نہیں کرتی مگر حقیقت میں کم پڑھی لکھی لڑکیاں بھی سسرال والوں سے لڑتی جھگڑتی ہیں۔ سسرال  سے ایڈجسٹمنٹ خاندان کی تربیت پر منحصر کرتا ہے۔ جہاں دینی اور دنیاوی دونوں تعلیم  تعلیم دی جاتی ہیں۔ وہاں اکثر خوشگوار نتائج ہوتے ہیں۔ تعلیم اور تربیت میں بہت بڑا فرق ہے۔ لڑکی کا صرف تعلیم یافتہ ہونا ہی کافی نہیں ہے، اس کے ساتھ ضروری ہے کہ اسے گھر میں اچھا ماحول ملے۔ آج کل ماں باپ لڑکیوں کو پڑھا کر قابل بنا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت بڑا تیر مار لیا لیکن عملی زندگی گزارنے کے لیے جو ضروری رہنما اصول ہیں ان میں لڑکیاں بہت پیچھے دکھائی دیتی ہیں ان کے ہاتھوں میں ڈگریاں تھما کر والدین خوشی سے پھولے نہیں سماتے لیکن ایک اچھا انسان ایک درد مند دل اور بڑوں کی عزت سکھانے میں ناکام رہتے ہیں گھر میں ماں باپ کو بچی میں جو شعور بیداری اور ذہن سازی پیدا کرنی چاہیے وہ نہیں ہو پاتی جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ قران فہمی بہت ضروری ہے اگر لڑکیاں قران کو سمجھ کر پڑھیں گی تو عمل بھی کریں گی اور جب عمل ہوگا تو وہ دنیا میں کہیں بھی جائیں گی بھگوا ٹریپ میں یا کسی غیر مذہب اور بری صُحبت کے جال میں نہیں پھسیں گی
 نہ دین سے متنفر ہوں گی ارتداد  کی وجہ سے بڑی تعداد میں لڑکیوں کی پڑھائی چھڑوا دی گئی انے والی نسلوں کی بہتر تربیت کے لیے پڑھی لکھی خواتین کی ضرورت ہے جو گھر میں قران فہمی کے ساتھ ایک پاکیزہ اور دینی ماحول بچوں کو دیں مسلم خواتین کو حصول تعلیم میں ہزاروں دقتیں اج بھی ہیں کئی گھر والوں کا اعلی تعلیم میں تعاون نہیں ہے کہیں ادارے غیر محفوظ ہیں لڑکیوں کی تعلیم پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اس پر ایک لا ہے عمل بنانے کی بے حد ضرورت ہے وقت اور حالات کا تقاضا یہی ہے جو لڑکیاں تعلیم میں اچھی ہیں اور کچھ کرنا چاہتی ہیں معاشی حالات کی وجہ سے اگے پڑھائی جاری نہیں رکھ پا رہی ہیں ان کے لیے معاشی طور پر مضبوط لوگ مل جل کر ذمہ داری لیں ہمیں اپنا تعلیمی نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں کہیں بھی بڑی مسلم ابادی ہو اور مسلمان معاشیت میں مضبوط ہوں ان کو اپنے معیاری اسکول کالج قائم کرنے چاہیے اسکول میں قران فہمی سکھائی جائے اسکول اسلامی تہذیب و ثقافت کے فروغ میں بڑا کام کر سکتے ہیں. آج مسلم بچیوں کی جو بے دینی اور فکری ارتداد دیکھ رہے ہیں اس میں ایک اہم عنصر یہ ہے کہ ہماری مسلم بچیاں اسلامی تعلیمات، اسلامی احکامات سے غیر مانوس ہیں۔
اسکول میں ہی کیریئر کونسلنگ سینٹر بھی قائم ہونے چاہیے جو ان کو گائیڈنس دے سکیں۔ آج کل نئے نئے کورسز چل رہے ہیں جن کے بارے میں ان کو بتایا جائے پوسٹ گریجویشن اسکالرشپ اسکیم سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے روزگار  حاصل کرنا ضرورت بن چکا ہے سماج میں بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو دینی و دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم دلائیں تاکہ انے والی نسلیں جو اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہیں  انکا مستقبل کچھ حد تک ہی سہی مگر روشن   تو ہو سکے سنور سکے! آمین ثم آمین
"وہ قوم کسی شان کی حقدار نہیں ہے ،
جس قوم کی عورت ابھی بیدار نہیں”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے