سید عزیز الرحمٰن
صومِ عاشور کی فضیلت اپنی جگہ برقرار ہےخود قریش بھی اس کاروزہ رکھتے تھے لہذا یہ بالکل نہیں کہاجاسکتا کہ نبی ﷺ مدینہ تشریف لانے سے پہلےاس روزہ سے بالکل ناواقف تھےبلکہ آپ کےسوال کو اس پرمحمول کیاجاۓ گا کہ آپ نےفقط یہود کے روزہ رکھنےکی وجہ دریافت کی، کیوں کہ عاشورآ ٕ کی فضیلت غرقِ فرعون ونجاتِ بنی اسراٸیل سے پہلے ہی سے ہے۔
ظاہرسی بات ہےقریش اہلِ کتاب نہ تھے مگر عاشور کاروزہ رکھتے تھےحدیث ملاحظہ ہو۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ قُرَيْشًا، كَانَتْ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصِيَامِهِ حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ” مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ ”.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قریش جاہلیت کے زمانے میں عاشورے کے دن کا روزہ رکھا کرتے تھے پھر رسول اللہﷺ نے بھی اس دن کے روزے کا حکم دیا، یہاں تک کہ رمضان کے روزے فرض ہوئے، اور( اس وقت) آپﷺ نے فرمایا: جس کا جی چاہے وہ عاشورے کا روزہ رکھےجس کا جی چاہے نہ رکھے۔ (صحیح بخاری، کتاب الصوم)
جتنی بھی روایات صوم عاشور کی تاکید سے متعلق ہیں وہ فرضیتِ صیامِِ رمضان سےپہلےکی ہیں ۔فرضیت رمضان کےبعد نہ تو آپ ﷺ نےصومِ عاشور کا حکم دیا نہ ہی منع کیا نہ ہی اہتمام کیا جس پر دلیل صحیح مسلم کی یہ حدیث ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِى الشَّعْثَاءِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِى ثَوْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ – رضى الله عنه – قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَأْمُرُنَا بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا وَلَمْ يَتَعَاهَدْنَا عِنْدَهُ.
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم فرماتے تھے اور ہمیں اس پر آمادہ کرتے تھے اور اسکا اہتمام کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض کردئیے گئے تو پھر آپ نہ ہمیں اس کا حکم فرماتے اور نہ اس سے منع فرماتے اور نہ ہی اسکا اہتمام فرماتے۔ (صحیح مسلم، کتاب الصیام)
دوحدیثیں علمآ ٕکرام بہت بیان کرتے ہیں مگران میں موجود تضادپر غور نہیں کرتے پہلی حدیث یہ ہےکہ جب رسول ﷺمدینہ تشریف لاۓ تو یہودکوروزہ رکھتے ہوۓ دیکھ کرآپ نے ان سے روزہ رکھنے کی وجہ دریافت کی ، اس کےلیے یہ حدیث ملاحظہ کریں:
حَدَّثَنِى ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ – رضى الله عنهما – أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِى تَصُومُونَهُ ». فَقَالُوا هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا فَنَحْنُ نَصُومُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ ». فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺجب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ﷺنے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو رسول اللہ ﷺنے ان سے فرمایا کہ اس دن کی کیا وجہ ہے؟ تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ عظیم دن ہے کہ جس میں اللہ تعالی نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات عطا فرمائی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق فرمایا چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کا روزہ رکھا اس لئے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ ہم زیادہ حقدار ہیں اور تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہیں تو رسول اللہ ﷺنے بھی عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔(صحیح مسلم، کتاب الصیام)
اس حدیث سے بالکل واضح ہے کہ یہاں روزہ کا اہتمام فرضیتِ رمضان سے پہلے کا ہے ،اس سے یہ بھی واضح ہے کہ نبی ﷺ کو اپنی وفات سےبہت پہلےہی مکہ سے مدینہ تشریف لانے کےبعد ہی پہلی بار جب یوم عاشور آیا تو معلوم ہوچکا تھا کہ یہوداس دن کو ”عظیم “سمجھتےہیں جیساکہ حدیث سے ہی واضح ہے ۔
دوسری :ابنِ عباس رض ہی کی وہ روایت جس میں ہے کہ آپ کوبتایا گیاکہ یہود اس دن کی تعظیم کرتے ہیں تو آپ نےفرمایا کہ ”جب آٸندہ سال ہوگا یعنی یوم عاشور آۓ گا تو نویں کا روزہ ہم رکھیں گےاور آپ کی وفات اس سے پہلے ہوگٸی جیسا کہ اس حدیث میں ہے
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْحُلْوَانِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى مَرْيَمَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِى إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّىَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ – رضى الله عنهما – يَقُولُ حِينَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ – إِنْ شَاءَ اللَّهُ – صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ ». قَالَ فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّى تُوُفِّىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺنے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس دن تو یہودی اور نصاری تعظیم کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جب آئندہ سال آئے گا تو ہم نویں تاریخ کا روزہ رکھیں گے راوی نے کہا کہ ابھی آئندہ سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ ﷺوفات پا گئے۔ (صحیح مسلم کتاب الصوم)
گویا کہ آپ تقریبادس سال تک اس سے ناواقف رہے کہ ”یہود یوم ِعاشور کی تعظیم کرتےہیں“ جب کہ ایسا قطعی نہیں ہے۔
اور آپ دسویں کا روزہ رکھتےرہے جب کہ ایسابھی نہیں ہے جیساکہ دیگرحدیثوں سے ظاہر ہے نیزحضرت ابن عباس رض ہی کی ایک روایت یہ بھی ہے نویں محرم کو نبی کےروزہ رکھنےکا معمول تھا۔ حدیث ملاحظہ ہو:
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الأَعْرَجِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ – رضى الله عنهما – وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِى زَمْزَمَ فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِى عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ. فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ هِلاَلَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ وَأَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا. قُلْتُ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَصُومُهُ قَالَ نَعَمْ.
حضرت حکم بن اعرج سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اس حال میں کہ وہ زم زم (کے قریب) اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں خبر دیجئے انہوں نے فرمایا کہ جب تو محرم کا چاند دیکھے تو تو گنتا رہ اور نویں تاریخ کی صبح روزے کی حالت میں کر۔ میں نے عرض کیا کہ کیا محمد ﷺاسی طرح روزہ رکھتے تھے انہوں نے فرمایا: ہاں! (صحیح مسلم, کتاب الصوم)
احادیث کے مطالعہ کی روشنی میں جو راقم نے سمجھا ہے وہ یہ کہ صیامِ رمضان کی فرضیت سے پہلےرسول اللہ ﷺ عاشور کا روزہ رکھتے تھے بعد کو آپ نے اگرچہ روزہ رکھنے سے منع تو نہ کیا لیکن آپ ﷺ نویں کا روزہ تادمِ حیات رکھتےرہے جو آپ کی سنتِ فعلیہ ٹھہری جیسا کہ حکم ابن اعرج کی روایت سے پتہ چلتا ہے جس میں عبداللہ ابن عباس رض نےکہا کہ”اسی طرح رسول اللہ نویں کا روزہ رکھتے تھے“۔
نیز یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ یہود کی مخالفت کرتےتھے مخالفت کا حکم دیتے تھے اگرچہ ابتدآ ًٕ آپ ﷺ نے بہت سے امور میں ترغیبِ اسلام کی غرض سے ان سے موافقت بھی کی ہے۔
اور جس روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”اگر میں آٸندہ سال باقی رہا تو نویں کا روزہ رکھوں گا “
اور آٸندہ سال آنے سے پہلے آپ کی وفات ہوگٸی “ اس میں بہرحال یہ پہلو کمزور ہے ۔
