🖋️ مقیت احمد قاسمی گونڈوی
کربلا کا سانحہ اور اس کی کربناک داستان کو کبھی بھی مسلمان نہیں بھول سکتا ہے، یہ ایسا درد ہے کہ رہتی دنیا تک مسلمان کراہتا رہے گا، تاتاری حملے میں صرف چالیس دن میں ۱۷/لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا، مگر اس خونی جنگ کا بھی وہ احساس نہیں ہے جو آل رسول ﷺ پر پے پناہ ڈھائے گئے ظلم و بربریت کا ہے۔
اگر ظلم وستم کرنے والے غیر ہوں تو وہ اذیت نہیں ہوتی ہے وہ احساس نہیں ہوتا ہے، جو اپنوں کی طرف سے دئے گئے زخم کا ہوتا ہے،
امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بہت سکون ملتا ہے جب پوچھنے پر بتا یا جاتا ہے کہ آپ کو شہید کرنے والا کلمہ گو نہیں ہے ۔
پوری دنیا کے مسلمان بشمول کوفہ کے ظالم لوگ بھی جس نبی پر اور اُن کی آل پر بحالتِ نماز درودشریف پڑھتے ہیں اُنہی کی اولاد کو کربلا میں نہایت ظالمانہ وسفاکانہ طریقہ سے بھوکا وپیاسہ تڑپایا گیا، اور نبئ رحمت ﷺکے ایک ایک فرد کو شہید کیا گیا ، یہ ایسا زخم ہے امت مسلمہ کے لئے جس کا کوئی مرہم نہیں ہے۔
اُن کوفیوں کی آنکھوں پر دبیز پردہ پڑگیا تھا کہ اُن کو نواسئہ رسول ﷺ اور آپ کے گھر والوں کا عظیم ترین مقدس ومحترم حلیہ تک نظر نہیں آیا، اُن کے تو ہاتھ کانپ جانے چاہیے، قدم لڑکھڑانے چاہیے کہ کس کے گھر والوں کو ہم نے گھیر رکھا ہے، مگر جس کی قسمت میں ہمیشہ کے لئے بد بختی لکھ دی گئی ہو وہ تو ہو کر رہے گا۔
اے حسین ابن علی تیری شہادت کو سلام
زیرِ خنجر ہورہی تیری عبادت کو سلام
آپ نے قاتل پہ کردی آخری حجت تمام
تین دن کی پیاس میں تیری شجاعت کو سلام
کربلا میں آپ کا صبر و رضا سے تھا قیام
اے خلیل ِکربلا! تیری امانت کو سلام
راہ حق میں گھر لٹا کے پالیا اعلیٰ مقام
کبریائی کر رہی ہے تیری اطاعت کو سلام
۱۰/۹/ محرم الحرام کو ہمیں زیادہ سے زیادہ درودشریف پڑھنا چاہیے اِس سے ہمیں جہاں ایک طرف درودشریف کی فضیلت حاصل ہوگی وہیں آلِ رسول ﷺ سے بھی عقیدت و محبت کو سیرابی ملے گی۔
ہمیں منافقت سے بھی بچنا چاہیے کوفیوں کی منافقت کی وجہ سے ہی اس قدر دلخراش منظر پیش آیا تھا ،
بروایتِ ترمذی منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے ، اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے ۔ اِن نشانیوں کو ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں اگر پائی جاتی ہیں تو چھوڑ دیں اور سچے دل سے توبہ کریں یہی عمل ان شاءاللہ روحِ حسین کو خوش کرے گا ۔ واللہ المؤفق۔
