ضلعی جمعیت اہل حدیث سدھارتھ نگر، یوپی کے ذمے داروں نے حاملینِ کتاب و سنت کو یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے اور مسنون اعمال کو انجام دینے کی پر خلوص و درد مندانہ اپیل کی

ضلعی جمعیت اہل حدیث سدھارتھ نگر کے ناظم اعلیٰ مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی ماہ محرم کی حرمت و عظمت اور نام نہاد مسلمانوں کے مشرکانہ و مبتدعانہ اعمال پر اظہار خیال کرتے ہوئے "مشرقی آواز ” نوگڑھ کے ایڈیٹر سے کہا کہ ماہ "محرم” حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک اور قمری سال کا پہلا مہینہ ہے۔ کتاب و سنت کے بے شمار صریح نصوص سے اس ماہ کی فضیلت ثابت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور اپنے اصحاب کو بھی اس دن کے روزے رکھنے کی تلقین کرتے تھے۔

شيخ الإسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ یوم عاشوراء کے سلسلے میں فرماتے ہیں :

"كل ما يفعل فيه سوي الصوم بدعة مكروهة لم يستحبها أحد من الائمة (المنهاج :١٥١/٥)

عاشوراء کے دن روزہ کے علاوہ جتنے بھی اعمال انجام دیے جاتے ہیں سب کے سب بدعت اور مکروہ ہیں، ائمہ کرام میں سے کسی نے انھیں جائز قرار نہیں دیا ہے۔

دوران گفتگو ماہ محرم اور یوم عاشوراء (10/ محرم) کے روزے کی بابت سید الکونین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے مخلص و باوفا شاگردوں کا اسوہ ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمومی طور پر اس ماہ محرم کی فضیلت میں تمام یا اکثر دنوں کا روزہ رکھنا بالإجماع مستحب عمل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن کے روزے کا اہتمام کرنے کا حکم دیتے تھے۔

یوم عاشوراء کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کیوں رکھا اور لوگوں کو اس کی ترغیب کیوں دلائی؟

ناظم جمعیت نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے اور یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ [روزہ] کیوں رکھتے ہو؟) تو انہوں نے کہا: "[اس لیے کہ ] یہ خوشی کا دن ہے۔ اس دن میں اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو دشمن سے نجات دلائی تھی تو موسی [علیہ السلام] نے روزہ رکھا” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں موسی [علیہ السلام ] کے ساتھ تم سے زیادہ تعلق رکھتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا۔” (صحيح بخاري :(1865)

یوم عاشوراء کا روزہ گذشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے:

ارشاد نبوی ہے : (مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ گذشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ یومِ عاشوراء کا روزہ گذشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔  (صحیح مسلم: 1162)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم یومِ عاشوراء کی شان کے باعث اس کا روزہ رکھنے کے لیے خصوصی اہتمام کرتے تھے، چناں چہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنوں میں سے عاشوراء اور مہینوں میں سے ماہِ رمضان کے روزوں سے زیادہ کسی دن یا مہینے کے روزے رکھنے کا اہتمام کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔”  (صحیح بخاری: 1867)

صوم عاشوراء سے صرف گناہ صغائر معاف ہوتے ہیں کبائر نہیں۔ 

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:

"وضو، نماز، ایسے ہی رمضان، یوم عرفہ اور عاشوراء کے روزے صرف صغیرہ گناہوں کو ہی مٹا سکتے ہیں”۔ (الفتاوى الكبری)

نمائندہ کے سوال "صوم عاشوراء میں یہود و نصاری کی مخالفت کیسے ہوگی؟” ناظم جمعیت نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ باعتبار دلیل ارجح یہ ہے کہ ١٠/٩/محرم دونوں کا روزہ ایک ساتھ رکھا جائے یہی مستحب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عاشوراء کا روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کا حکم دیا تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا کہ اس دن کی تو یہود و نصاری بھی تعظیم کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا:

"جب آئندہ سال آئے گا تو ان شاء اللہ ہم نو(9) محرم کا روزہ بھی رکھیں گے” حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگلا سال آنے سے پہلے ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ (صحيح مسلم :١١٣٤)

اس حدیث کی روشنی میں دس محرم کے روزے کے ساتھ نو محرم کا بھی روزہ رکھنا چاہیے، یہی موقف اور فتویٰ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا تھا، جو بقول البانی صحیح ہے۔

بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ جو شخص نو محرم کا روزہ نہ رکھ سکے وہ دس محرم کا روزہ رکھنے کے بعد یہود نصاری کی مخالفت کرنے کے لیے گیارہ محرم کا روزہ رکھ لے۔

تنبیہ 11 محرم کے روزے کے سلسلے میں وارد حدیت کو محدثین نےضعیف کہا ہے،

ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

"تم یوم عاشوراء کا روزہ رکھو اور اس میں یہود کی مخالفت کرو اور اس سے ایک دن پہلے یا اس کے ایک دن بعد کا روزہ رکھو-

(مسند أحمد:٢٤١/١،بعض اہل علم کے بقول یہ روایت ضعیف ہے اور آخری جملہ "ويوما بعده” منکر ہے، الضعيفة:٤٢٧٩)

صوم عاشوراء کی بابت امام ابن القیم اور حافط ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں کہ :” صوم عاشوراء کے تین مراتب ہیں :سب سے ادنی مرتبہ یہ ہے کہ صرف دس محرم کا روزہ رکھا جائے، پھر اس سے اونچا مرتبہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ نو محرم کا روزہ بھی رکھا جائے اور اس سے اونچا مرتبہ یہ ہے کہ ان دونوں کے ساتھ گیارہ محرم کا روزہ بھی رکھا جائے، کیوں کہ اس مہینے میں جتنے زیادہ روزے رکھے جائیں گے اتنا زیادہ اجر و ثواب ہوگا-” (زادالمعاد:٧٢/٢،فتح الباری:٢٨٩/٤)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ نو اور دس محرم کا روزہ رکھنا افضل ہے تاہم صرف ایک دن نو یا دس محرم کا روزہ رکھنا جائز ہے، کوئی دس اور گیارہ محرم کا روزہ رکھنا چاہے تو بھی جائز ہے کیوں کہ اس سے متعلق وارد روایات میں ضعف ہلکا ہے اور اگر کوئی نو، دس اور گیارہ تین روزے رکھے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ معتبر علماء کی رائے ہے، و الله أعلم بالصواب۔

افادہ: اگر عاشوراء کا دن جمعہ کے دن موافق ہوجائے تو بھی صوم عاشوراء رکھا جاسکتا ہے صرف اسی دن یا ایک دن آگے یا پیچھے ملا کر بھی –

** امسال رؤیت کے اعتبار سے ١٠/٩/محرم کا روزہ 16۔17 جولائی بروز منگل، بدھ رکھا جائے گا اور ١١/١٠/ محرم کا روزہ 17۔ 18جولائی بروز بدھ، جمعرات رکھاجائے گا –

امیر جمعیت مولانا محمد ابراہیم مدنی نے کہا کہ اس ماہ کی بدترین بدعت تعزیہ داری ہے جو فاطمیوں کے دور کی ایجاد اور غیر شرعی عمل ہے، دلچسپ اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ بانئ بریلویت مسلک اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی نے بھی تعزیہ بنانے کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے۔

جمعیت کے دوسرے ذمہ داران وعہدے داران :مولانا عبدالرشید مدنی، مولانا عبدالرحیم امینی، مولانا شریف اللہ سلفی، مولانا سعود اختر سلفی، مولانا عبدالرب سلفی، مولانا عبدالرحمن اثری، مولانا شفیع اللہ مدنی، مولانا عبدالمنان مفتاحی، مولانا جمشید عالم سلفی ، مولانا ھاشم سلفی، مولانا عبدالخبیر مدنی، مولانا عبدالحکیم سلفی، مولانا تاج الدین سراجی، مولانا خالد رشید سراجی، مولانا عبدالرشید سلفی وغیرہم نے عوام کی دین بیزاری اور غیر شرعی امور کی پابندی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ حرمت و فضیلت والے مہینے کی قدرکریں، کتاب و سنت کی سنہری و آفاقی تعلیمات کو حرزجاں بنائیں اور اس ماہ میں کی جانے والی مشرکانہ و مبتدعانہ اعمال سے اپنی ذات کو دور رکھیں۔

بارالہا ہم سب کو کتاب و سنت کی مکمل اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے