مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ
امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے سابق مبلغ مولانا محمد ادریس بن حاجی اسماعیل بن حاجی غلام رسول ساکن نیما ڈیہہ، ڈاکخانہ کرما ٹانر ضلع جام تاڑہ جھارکھنڈنے20/ جون 2024ء مطابق 13/ ذی الحجہ1445ھ بروز جمعرات بوقت ساڑھے نو بجے صبح اپنے گھر میں آخری سانس لی،وہ شوگر اور قلب کے پرانے مریض تھے، دو بار احمد آباد میں ہارٹ کا آپریشن ہو چکا تھا، بظاہر ہارٹ اٹیک نے آخری سفر پر روانہ کر دیا، گھر میں دو دن بعد لڑکا، لڑکی کی شادی تھی، لیکن وہ محبوب حقیقی کے پاس پہونچ گیے، ملک الموت دو دن انتظار نہیں کر سکتا تھا، اور یہ اس کے بس کی بات بھی نہیں تھی، کیوں کہ موت کا وقت من جانب اللہ متعین ہوتا ہے اور جب وہ آجائے تو منٹوں، سکنڈوں کی تاخیر نہیں ہوتی، ان اجل اللہ اذا جاء لا یؤخر۔
جنازہ کی نماز دوسرے دن بروز جمعہ ان کے بڑے صاحب زادہ مولانا محمد ازہر صاحب، معلم دار القضاء جمشید پور نے نو بجے صبح پڑھائی اور مقامی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی، امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے حکم اور قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی قاسمی کی ہدایت پر امارت شرعیہ کے ایک مؤقر وفد جو قاضی شریعت آسنسول مولانا زبیر ومعاون قاضی مولانا سعید اسعد قاسمی، قاضی شریعت جام تاڑہ مولانا نظام الدین اور معاون قاضی شریعت جمشید پور مولانا افروز سلیمی پرمشتمل تھا نے شرکت کی اور حضرت امیر شریعت کا تعزیتی پیغام وارثین تک پہونچا یا۔پس ماندگان میں اہلیہ تین لڑکا اور چار لڑکی کو چھوڑا۔
مولانا محمد ادریس صاحب 15/ جمادی الثانی1379ھ مطابق16/ دسمبر1959ء کواپنے آبائی گاؤں نیما ڈیہہ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم مدرسہ کاشف العلوم الگ چواں ضلع جام تاڑہ میں پائی، یہاں انہوں نے حاجی مولوی محمد لقمان صاحب ؒ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا، اور گلستاں بوستاں تک کی تعلیم یہیں پائی، آگے کی تعلیم کے لیے انہوں نے خادم العلوم باغوں والی، ضلع مظفر نگر میں داخلہ لیا اور عربی اول دوم کی تعلیم یہاں حاصل کی، عربی سوم کی کتابیں مدرسہ محمودیہ سروٹ، ضلع مظفر نگر میں پڑھ کر 1975ء میں دار العلوم دیو بند تشریف لے گئے اوردورہ حدیث سے1399ھ مطابق 1979ء میں فراغت پائی، ایک سال تخصص فی التفسیر میں لگا کر وطن لوٹ آئے۔1981ء میں مولانا قاری محمد ایوب صاحب مظاہری ؒ نے انہیں قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نور اللہ مرقدہ سے ملایا، حضرت قاضی صاحب ؒ نے انٹر ویو لیا اور مطمئن ہونے کے بعد19/ 9/ 1981ء کو ان کی بحالی بحیثیت مبلغ امارت شرعیہ میں عمل میں آئی، مولانا نے اپنی پوری زندگی امارت شرعیہ کے لیے وقف کردی، 2022ء تک امارت شرعیہ سے منسلک ہو کر خدمات انجام دیتے رہے، سبکدوشی کے بعد گھر پر فروکش ہو گیے تھے، پاؤں میں تکلیف رہا کرتی تھی، پھر بھی جو ممکن ہوتا گھر پر رہ کر سماجی خدمات انجام دیتے رہے، انہوں نے اپنی مدت ملازمت میں احمد آباد کے سر خیز روڈ میں فساد متاثرین کے لیے امارت شرعیہ نے جو کالونی بنوائی تھی اس کی نگرانی وغیرہ ان کے ذمہ تھی،اس کے قبل بھاگلپور فساد میں بھی انہوں نے امارت شرعیہ کی طرف سے مضبوط ریلیف کا کام کیا تھا او ریقینا یہ جان جو کھم میں ڈالنے والا کام تھا، اسی طرح گریڈیہہ امارت پبلک اسکول کی موجودہ عمارت کے کسٹوڈین وہی تھے، انہوں نے گریڈیہہ امارت پبلک اسکول کو زمین پر کھڑا کرنے میں مولانا ابو الکلام شمسی صاحب کے ساتھ مل کر بڑی جد وجہد کی، علالت کے باوجود کسی موقع سے امارت شرعیہ ان سے کوئی خدمات لینا چاہتی تو خوش دلی سے اسے انجام دیتے، علاقہ میں وفد کا دورہ ہو تا تو بیت المال کے استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے۔
میری ملاقات مولانا سے امارت شرعیہ آنے کے بعد ہوئی، ابتدا میں جو شعبے میرے ذمہ کیے گیے ان میں شعبہ تبلیغ وتنظیم بھی تھا، اس طرح وہ بلا واسطہ مجھ سے منسلک ہو گیے،ا ن کی کار کردگی دیکھ کر خوشی ہوتی، بعد میں ان کا حلقہ دھنباد طے ہو گیا تھا اور بڑا وقت ان کا اسی حلقہ میں لگا کرتا تھا، ان کا سفر دھنباد کے ہر علاقے اور گاؤں کا ہوا کرتا تھا، جس سے امارت شرعیہ کو اس علاقہ میں استحکام ملا، اور بڑی تعداد میں معاونین پیدا ہوئے، ان کا قیام دفتر دار القضاء دھنباد میں ہوتا، میں جب ذیلی دفتر کے جائزہ کے لیے جاتا یا وہ حساب جمع کرنے امارت شرعیہ آتے تو ملاقات ہوتی، وہ ایک خوش اخلاق،ملنسار آدمی تھے، دھنباد، جام تاڑہ وغیرہ کے کئی دورۂ وفود میں میرا ان کا ساتھ رہا، وہ قائد وفد کا پورا خیال رکھتے، اور ہر وقت سمع وطاعت کا مظاہرہ کرتے، کوئی بات ان کو کہنی ہوتی تو مہذب انداز میں کہتے، الفاظ میں سختی اور لہجے میں کرختگی نہیں ہوتی، بات مان لی گئی تو خوش، نہیں مانی گئی تو بھی خوش، اس بات پر کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔میرا جب بھی جام تاڑہ علاقہ میں جانا ہوا، ان کے یہاں ضرور حاضر ہوتا اور وہ دروازہ پر شاداں فرحاں استقبال کے لیے اپنے بھائی وغیرہ کے ساتھ کھڑے ہوتے، اس بات کا اظہا ر کرتے کہ مجھے امید تھی کہ آپ ضرور آئیں گے، پر تکلف دستر خوان سجاتے اور ناشتے پر دنیا جہاں کی باتیں ہوتیں، وہ امارت شرعیہ کے اکابرین کے انتہائی معتمد تھے، مولانا سہیل احمد ندویؒ سابق نائب ناظم امارت شرعیہ اور مولانا محمد اسلام قاسمی ؒ استاذ دار العلوم وقف سے ان کا یارانہ تھا، اور ہر معاملات ومسائل میں ایک دوسرے سے مشورہ ہوتا رہتا تھا، مولانا محمد اسلام قاسمی ؒ کی وفات پر انہوں نے ایک مضمون بھی لکھا تھا، مختصر میں اپنا سوانحی خاکہ بھی تعارف کے طور پرلکھا تھا۔
مولانا کی نانی ہال کرما ٹانڑ تھی، اور سسرال کُروا پھکبندی ضلع جام تاڑا تھا، سسر شریف حسین انصاری تھے، اللہ تعالیٰ نے اس رشتہ میں برکت دی اور آج بھرا پورا خاندان موجود ہے، اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل دے آمین یا رب العالمین۔
