سہارنپور(احمد رضا): عجب تماشا ہے کہ ہندو ووٹ کو اپنے حق میں متحد کرنے کے لئے مسلم آبادی کے خلاف ظلم و جبر کا کھلا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم افراد کو جانی اور مالی نقصان پہنچانا بھاجپا کے حمایتیوں کے لئے مزاق سا بن گیا ہے کھیل کھیل میں ہزاروں مزارات ، مساجد ،مدارس اور مسلم گھروں کو بلڈوزر چلا کر تہس نہس کر دیا گیا ہے اس ظلم و جبر کی مخالفت کرنے والے بے قصور جیلوں میں قید کر دیئے گئے سرکاری مشینری مسلم افراد کی دکانوں کو بند کراکر اور ان پر مسلم افراد کے نام کندہ کرا کر خد کو ہندو آبادی کا زبردست حمایتی اور مددگار ثابت کرنے میں سرگرم ہے دوسری جانب ملک کے بيشتر علاقوں خصوصاً اتر پردیش، مدھیہ پردیش یا اتراکھنڈ میں جب جب  انتخابات ہوئے ہے تو بھاجپا کے کارکنان اکثر پولیس کے ساتھ ملکر مسلم آبادی پر سختی اور جبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم آبادی کو ووٹ دینے سے روکے  رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ مسلم آبادی ووٹ سے محروم ہو جائے۔ ان باتوں پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سینئر سوشل رہبر ایم آفاق نے کہا کہ یہ حکمت عملی پچھلے دس سالوں سے روز بہ روز خطرناک صورت حال اختیار کرتی جا رہی ہے  جو مسلم آبادی کو ملک کی حصہ داری سے خارج کرنے کی خطرناک سازش ہے!
ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حمایتی اور ملک کی ترقی کے مشیر خاص ایم آفاق نے کہا کہ تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ سب کچھ جانتے اور پہچانتے ہوئے بھی چناؤ کمیشن اندھا اور بہرا ہو گیا ہے مسلم آبادی کے ووٹ کٹوانا اور مسلم افراد کو جبریہ طور سے ووٹ ڈالنے سے روکنا عام بات ہوچکی ہے واضع ہو کہ لکھنؤ کے آس پاس جو کھل کیا گیا وہ سب جانتے ہیں یاد رکھیں کہ عام انتخابات کے چوتھے مرحلے میں ضلع سیتاپور، مشرکھ، کھیری لکھیم پور، دھورہرہ، شاہجہانپور، اکبر پور ھردوئی، اناؤ، کانپور، بہرائچ، اٹاوہ، فرخ آباد سمیت 13/ نشستوں پر کل پولنگ مکمل ہو چکا ہے چونکہ ضلع سیتاپور کا قصبہ تمبور مسلم اکثریت آبادی والا علاقے ہونے اور موجودہ ایم پی کی پیدائشی رہائش ہونے کے سبب پوری ضلع انتظامیہ کی نگاہ اسی قصبہ پر مرکوز ہے، اسی سلسلے میں ووٹر سلیپ کی تقسیم کی بابت ارم ایجوکیشنل، کلچرل اینڈ شوسل ویلفئیر سوسائٹی کے مجلسِ منتظمہ نے تمام مسلم رائے دہندگان میں ووٹ سلیپ کی صحیح طور پر تقسیم میں ساتھ دینے کی غرض سے سبھی وارڈوں میں اراکینِ سوسائٹی نے BLO کے ساتھ مل کر گھر گھر سلیپ پہونچانے میں حصہ لیا،اس سلسلے  علاقائی زمہ دار افراد نے خود BLO کے ساتھ جا کر اس کام میں ہاتھ بٹایا اور تقریباً تین گھنٹہ کی مختصر محنت میں پچیس سو اکیاسی ووٹر سلیپ رائے دہندگان میں تقسیم ہوگئیں، اس موقع پر  علاقہ کے ہزاروں افراد نے سرکاری انتظامیہ پر تقسیم کے سلسلے میں لاپرواہی کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ نے قصداً نا اہل افراد ( گاؤں میں صفائی مزدوروں) کو ووٹر سلیپ تقسیم  کر نے کی ذمےداری سونپی ہے جو اس کام سے بالکل نابلد اور ناواقف ہیں یہی وجہ ہے کہ تمبور کے بعض وارڈوں میں تقسیم کا عمل بہت سست روی کا شکار بنا رہا سیکڑوں ووٹر ووٹ پرچیا ں دستیاب نہ ہو نے کی شکل میں ووٹ پول کرنے میں ناکام رہے سینکڑوں ووٹر پرچیاں سرکاری ملازمین نے خرد برد کر ڈالی ہیں یہ کارنامہ صرف اور صرف مسلم حلقوں میں دیکھنے کو ملا ہے جو قابل مزمت حکمت عملی ہے تمبورضلع سیتاپور 30 لوک سبھا کے عام انتخابات کے چوتھے مرحلے میں55.34  فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ضلع سیتاپور یوپی کا وہ تاریخی ضلع ھے جہاں نو اسمبلی نشستیں ہیں اور یہ نو اسمبلی نشستیں چار ضلعوں کھیری لکھیم پور، ہردوئی، لکھنؤ اور سیتاپور میں پھیلی ہوئی ہیں، اور ان نو میں سے نشستوں پر اٹھ نشستوں پر مجموعی ووٹ اٹھائیس لاکھ چھتیس ہزار نو سو پچاسی ھے جس میں مجموعی طور پر 55.34 فیصد پولنگ ہوئی ہے، نیز ضلع پہلی بار پر امن طریقے سے انتخابات منعقد ہونے پر جہاں ضلع انتظامیہ کی پیٹھ تھپتھپائی جارہی ہے وہیں ایک شکایت ھر ووٹر کی زبان پر یہ کی جارہی ہے کہ الیکشن کمیشن نے جان بوجھ کر رائے دہندگان کی فہرستوں میں بڑی تعداد میں گڑ بڑی کی، زندوں کو غائب کر مردوں کے نام اندراج کئے گئے ہیں نیز ایک گھر کے تمام افراد کو منتشر کر کے ووٹر لسٹ تیار کی گئی ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہوا ہے کہ جو رائے دہندگان بیدار اور ہوشیار ہیں وہ تو اپنے پولنگ بوتھ تلاش کرکے ووٹ ڈالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، لیکن جو رائے دہندگان بیچارے جاہل اور ان پڑھ ہیں ان کا پرسان حال کوئی نہ ہونے کے سبب وہ آپ حق رائے دہی استعمال نہیں کرسکے  مسلم افراد کو اس مرتبہ سازش کے تحت ووٹ کے بنیادی حق سے محروم کردیا گیا ہے کمِ از کم سات فیصد سے زائد مسلمانوں کے ووٹ پول نہی ہونے د ئے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے