كتبه: محمد محب الله بن محمد سيف الدين المحمدي

حالات اور سیچوشن کچھ بھی ہو انسان کو گھبرانا نہیں چاہئے ۔ ھمیشہ بہار ہی بہار پھولوں اور پھلوں کے نوال، نوازشات و مکرمات کی باران رحمت ہو یہ تو مستحیل ہے ۔ خوشی و غمی سرد و گرم، ہنسنا رونا تو اصول زیست ہے ۔ وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ۔

زندگی میں مسائل آئیں گے ۔ خطرات اور نوائب الدھر کا سامنا ہوگا ۔ داخلی و بیرونی پریشانیاں ، مشکلات سامنے آکر آپ کو گھیر لیں گے ۔ آخری سہارا بھی ٹوٹ جاۓ گا ۔ لیکن مرد مجاھد ہے وہ شخص جو ھنس کر طوفانوں کا مقابلہ کرتا ہے ، مسکرا کر صحراء قاحلۃ میں بھی تیز و تند آندھیوں کے ساتھ جیتا ھے ۔ استقامت و عزیمت دیکھیے کہ تحدیات اور چیلنجز کے ساتھ زندگی گذارتا ہے ۔ پاے ثبات میں کوئی لرزش نہیں۔ ڈٹ کر اور جم کر مسائل کو انگیز کرتا ہے ۔ ولا تَرُوغُ رَوَغَانَ الثّعالب کے مصداق نہیں بنتا ۔

بھنور سے لڑو تند لہروں سے الجھو

کہاں تک چلو گے کنارے کنارے

ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکن

طوفان سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہے ۔

 بہتیرے لوگ مسائل سے گھبرا جاتے ہیں ۔ اور خودکشی کرلیتے ہیں ۔ یہ مسئلے کا حل نہیں ۔ صبر و شکر استقامت و عزیمت کے ساتھ جینا ہی کامیاب انسان کی علامت ہے اور انھیں کیلئے مستقبل ہے ۔

ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں

وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے