محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔
۱۔ غلط فہمیاں 
پنڈت جی مندر میںبیٹھے ہوئے خوش تھے وہی ان کی دنیا تھی۔ میڈیکل پردوائیاں فروخت کرتے ہوئے فارمیسسٹ بیچارامطمئن ہے کہ اس کاروزگار مستحکم ہے۔ اوم لال خاندانی بنیانہیں تھامگر کرانہ کی دوکان چلاتے ہوئے اسے لگتاتھاکہ دنیا اتنی ہی ہے ، اس سے ہٹ کرجو کچھ ہے فضول ہے۔پٹرول بنک زوروں پر چل رہاہے ۔ اسلئے مالک سمجھتا ہے کہ پانچوں ملازم کوتنخواہ دے کر ان پرمیں احسان کررہاہوں ۔کیوں کہ اس کاروبارمیں ملازم کوتوکچھ کرنا ہی نہیں پڑتا۔ گاہک خود آکر پٹرول لے جاتاہے۔ پرائیویٹ اسکول کے مالکان اور ان کے سی ای اوز کاخیال ہے کہ ہماری بدولت علم عام ہورہاہے ۔
 اپوروا چڈھا نے ملٹی سوپراسپیشالٹی اسپتال کھول کر سمجھ لیا ہے کہ اس شہر اور اس کے اطراف واکناف کے انسانوں کے دکھوں کامداوا یہاں ختم ہے۔ اس سے آگے کچھ نہیں ۔
یعنی سبھی مختلف قسم کی غلط فہمیوں میں جی رہے ہیں ۔ ایک دن ان ہی غلط فہمیوں میں مرجائیں گے۔ دوسرے ان کی جگہ لیں گے اور وہ بھی ایسی ہی غلط فہمیوں کے ساتھ اپنی کاروباری مصروفیات اور اپنے وجود کو دھوکادیتے رہیں گے۔
کوشش کیجئے کہ انسان کی آنکھیں کھلیں ۔ کوئی بھی خواب دیکھاجاسکتاہے لیکن اس کے لئے بند آنکھوں کااستعمال درست نہیں۔ کوئی بھی دعویٰ کیاجاسکتاہے مگر دلیل غیرمتعلقہ نہ ہو۔اپنی لائف اسٹوری کوحقیقی ٹچ دیاکرو یار ۔
۲۔ بزدل بھگوڑی 
میں بہت بڑا لکھاری (مصنف ) ہوں ۔معاشرے کے بہت سے راز میرے دل کے کونے میں دفن ہیں ۔ اگر وہ سب راز لکھ لکھ کر طشت ازبام کروں تو دنیا سرپرپاؤں رکھ کر ایسی جگہ بھاگ کھڑی ہو،جہاں سے آج تک کوئی واپس نہیں آیا
۳۔عذابِ حاضر 
’’سوچی گئی باتوں میں سے دس بیس فیصد ہی تحریرکرپاتاہوں ‘‘ اس کی شکایت تھی۔
میں اس کی شکایت کاجواب کیادیتا۔مجھے خودبھی یہی شکایت ہے کہ میں سوچتابہت کچھ ہوں لیکن مصروفیت بہت ہے اور لاپروابھی واقع ہوا ہوں ،اس لئے لکھ نہیں پاتا۔ اورپھر لکھ لکھ کرمجھے کون سا انقلاب ِ فرانس یا انقلاب ِ ایران لے آناہے؟
قلم تھام لینا ایک عذاب ہے ۔روزانہ لکھ لکھ کر اس عذاب کوکم کرتے رہنے کے عمل سے گزرنا پڑتاہے تاکہ عذاب کم ہویا عذاب حاضر ناسور نہ بنے۔
۴۔ خاندانی بھیڑ
کریم ابن کریم خاندان کی بات چلی تو کافی تعریف سامنے آئی،جس سے اختلاف کرتے ہوئے ایک باریش مگر تجربہ کار شخص انتہائی سنجیدگی سے بتانے لگا کہ ”وہ ایک خاندانی بھیڑ ہے….. لنچنگ سے ہرگز باز نہیں آتی….. تین چار تنظیموں کو یہ خاندانی بھیڑ Dilute کرتے ہوئے Eliminate کرچکی ہے…. ”
نئی نسل حیرت سے اس تجربہ کار شخص کے انکشافات ملاحظہ کررہی ہے، مگر باہر کا شور اندر آرہا ہے جس کی وجہ سے باریش شخص کی بات وہ لوگ پوری طرح سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے