محمدیوسف رحیم بیدری، کرناٹک
۱۔ سیاسی بلی
وہ ایسے ہی ایک سیمینار کے دوران مل گئی۔ اب اس کے نخرے کافی حدتک بڑھ چکے تھے۔کیوں کہ وہ اردو کی ایک بڑی شاعرہ کے طورپر مشہور ہو چکی تھی۔ مرکزی حکومت کی’’ ہندی بڑھاؤاُردو کے ساتھ‘‘والی پالیسی نے اس کو ہندی کے بجائے اردو کی شاعرہ کے طورپر متعارف کروایا۔ آج کل وہ عشق وشق کی باتیں شہ نشین پرکھڑے ہوکر کرتی ہے۔ تازہ بالغ ہوئے نوجوانوں اور طلبہ کواس کی یہ شاعرانہ باتیں اچھی لگتی ہیں لیکن ہمیں وہ باتیں ایک آنکھ (اور دوکان) نہیں بھاتیں۔ دِل کہتاہے کہ یہی باتیں شہ نشین سے نیچے اُترکر بھی تووہ کرے ۔ نہیں ،ایسا بالکل نہیں کرتی وہ۔
شہ نشین سے جب نیچے اُتر آتی ہے توسیاسی نشہ میں ڈوب کر سیاسی بلی بن جاتی ہے۔ اور پنجہ مارنے لگتی ہے جس سے اردوزبان اور اردو والے لہولہان ہوجاتے ہیں۔سناہے کہ یہ ہندی بلی اب ایسے ہی کام سے مشہور ہوتی جارہی ہے۔
۲۔ کم سرخ انقلاب 
ملک کے بانی کے مجسمہ کواس کے کندھے پرچڑھ کرہتھوڑوں سے ضربیں لگاکر توڑدیاگیا۔ انقلاب جب آتاہے تو ایساہی ہوتاہے ۔ مگر دانشوروں کاخیال تھاکہ ملک کے بانی کے مجسمہ پرکھڑے ہوکر اس کومسمار کرنا ملک کے لئے اتنا نقصان دہ نہیں ہے ،جتناکہ پڑوسی ملک میں قدیم تاریخی مسجد پر چڑھ کر اس کے تینوں گنبدوں کوڈھانے والاعمل پڑوسی ملک کے لئے اورپوری انسانیت کے لئے نقصان دہ تھا۔انھوں نے باضابطہ اعلان کیاکہ ہمارے ملک کاانقلاب پڑوسی ملک کے مقابلے Blood Less Revolution ہے۔
۳۔ متفقہ منصوبہ 
وہ پریشان تھا۔ پوچھنے پربتایاکہ’’ حملہ کردینے کاجنگی اعلان کیاگیاہے ۔ اس لئے پریشان ہوں‘‘ مجھے ہنسی آگئی لیکن میں نے ہنسے بغیر اس سے کہاکہ ’’بچے آپس میں لڑتے ہیں تب وہ لڑائی کیسے ہوتی ہے ؟اچانک یا ایک دوسرے کو بول بتاکر‘‘
اس نے کہا’’اچانک حملہ کردیاجاتاہے ‘‘ میں نے کہا’’اوکے ، اورجب بڑے لڑائی کرتے ہیں ، تو کیابول بتاکرکرتے ہیں ؟‘‘ اس نے کچھ دیر سوچ کرکہا’’بتایاتو یہاں بھی نہیں جاتا، ایک آدھ واقعہ کوچھوڑ کر ، سبھی لوگ اچانک حملہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کرتے ہیں ۔ بہادریودھاؤں کااب زمانہ نہیں رہانا ‘‘میں نے کہا’’پھر تو سمجھ لینا کہ بتانا اور بتاکر حملہ کرنا پہلے سے تیار متفقہ منصوبہ کاایک حصہ ہے ، حملہ ہوتارہے گا مگر نقصان وقصان کچھ نہیں ہوگا‘‘
میں اس کوپریشان چھوڑ کرآگیا۔ وہ میری باتوں سے متفق نہیں تھا۔
۴۔ نہ ملے جو 
بے حد تلاش کیاگیا، دہائی دی گئی، رویا پلایا گیالیکن نہیں مل سکا۔ ممتاز قانون داں سے بھی ایک دن بڑی مشکل سے ملاقات ہوئی اور جب اپنی بپتا سنائی تو شراب کے نشے میں دُھت قانون داں نے کہا’’جو نہ ملے ، اُسے ہی انصاف کہتے ہیں۔ آج ملک سے انصاف عنقا ہوچکاہے۔ تلاش فضول ہے‘‘ پھریکایک وہ زور سے چیخا’’چلے جاؤیہاں سے، ورنہ حکومت کاہرکارہ مجھے گرفتار کرلے گا ‘‘
جھک مار کر چلے آنا پڑا۔ پھر ایک بار ناامیدی کے بادل میں وہ گھِرچکے ہیںاور دل ہے کہ ڈوبا جارہاہے۔
۵۔ سودا انقلاب کا 
ماضی کی مردہ لیکن دردناک تصویریں بہت تھیں۔ چوں کہ انقلاب نے بھی کچھ دردانگیز تصویریں اس ملک کو دی تھیں۔ اور وہ پڑوسی ہونے کے ناطے انقلاب کے دوران سامنے آنے والی ان درد انگیز تصاویرکو دیکھنے میں مشغول تھا اور اس پر مشتعل بھی، کیوں کہ وہ اپنے ہم مذہبوں پر ظلم ہوتے دیکھ نہیں سکتاتھا۔
انقلاب سے پہلے باعث ِ انقلاب بننے والے ،پھانسیوں پر جھول جانے والے افراد کی تصاویر کو دیکھنااور ان کاذکرسنناتک وہ نہیں چاہتاتھا۔ اس کاکہناتھاکہ انقلاب کو خاموشی سے آکر اقتدار پر قابض ہوجاناچاہیے تھا، لیکن اس نے آتے ہوئے دوچار دِن میں جوتباہی لائی ہے وہ دراصل انقلاب نہیں دہشت گردی ہے‘‘
اگر کوئی پوچھتاکہ پچھلے 15سال میں جو ظلم وستم ڈھایاگیاوہ سرکاری دہشت گردی تھی کہ نہیں ؟ ڈکٹیٹربن کر عوام کو تختہ ء دارتک پہنچانے کاان پڑوسیوں کاپسندیدہ شغل تھاکہ نہیں ؟‘‘ تواس بات کا
جواب دینے کے بجائے وہ اور اس کی پوری لابی اس بات پرزور دینے میں لگی تھی کہ انقلاب نے پڑوسی ملک میں کسی کو محفوظ نہیں چھوڑا ہے اس لئے یہ انقلاب نہیں دہشت گردی ہے۔
پروفیسر وائی زیڈ تک بات پہنچائی گئی تو ان کاچونکا دینے والا خیال تھاکہ’’ یہ دراصل دوملکوں کاسودا ہے۔ عرب ملک کے پرقابض ہوکر ڈھائے جارہے ظلم وستم کودنیاکو ہلکادکھانے کے لئے نیاکھیل کھیلاگیاہے ۔ورنہ ہزار ڈیڑھ ہزار کے مارے جانے پرکسی بھی ملک میں انقلاب نہیں آتا۔پڑوسی ملک کودیکھ لو۔ شمال مشرقی ریاست پچھلے ڈیڑھ سال سے جل رہی ہے، ہزاروں لوگوں کوگولی ماری گئی اور لوگ جلادئے گئے یاپھرانھیں چھراگھونپ دیاگیا لیکن وہاں کوئی انقلاب نہیں آیا۔اسی لئے کہہ رہاہوں کہ یہ واقعی انقلاب نہیں سوداہے‘‘
پروفیسر وائی زیڈ کے بیان کے بعد پوری دنیا میں ہلچل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے