کنوررنجیت چوہان، معین شاداب، ڈاکٹر سنیل پنوار، طاہر فراز، شیکھاپچولی اوردیگر شعراء کو طلبہ وطالبات نے دادسے نوازا۔
بیدر۔ 5؍اگست (محمدیوسف رحیم بیدری): کل 4؍اگست اتوار کی شام مولانا آزادنیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے فاصلاتی تعلیمی نظام کے آغاحشرکاشمیری آڈیٹوریم میں کلچرل کارواں ، ساہتیہ اتسو اور جشن ادب کاکل ہند مشاعرہ اور کوی سمیلن زیرصدارت پدم شری پدم شری پروفیسر اشوک چکر دھر منعقد ہوا۔کنوررنجیت چوہان بانی جشن ِ ادب نے اپنے کلمات میں کہاکہ حیدرآباد آکر ہمیں لگاکہ ادب کے مرکز میں چلے آئے ہیں۔ وائس چانسلر مانو جناب عین الحسن اور اردو یونیورسٹی کے طلبہ کے ہم ممنون ہیں کہ انھوں نے جشن ِ ادب کے دوروزہ پروگرام میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے ہمارے تمام پروگرام کامیاب بنایاجس کے لئے ساہتیہ اتسو، جشنِ ادب اور یہ کلچرل کارواں شکربجالاتاہے۔ پدم شری پروفیسر اشوک چکر دھر نے اپنے صدارتی خطاب میںکہاکہ یہ دیش محبتوں کادیش ہے ۔ ہم لوگ درد کو دوا بنانا جانتے ہیں۔ یقینا ہندوستان آگے بڑھ رہاہے۔کوی سمیلن اور مشاعرے کے ناظم جناب معین شاداب ؔکا پروگرام چلانے کا ہندی اور اردو کاملاجلا انداز بتاتاہے کہ یہی ہماری ’’دیش بھاشا ‘‘ ہے۔ اور کوئی اس زبان اور بھاشا کومار نہیں سکتا۔ ہندوستان ہمیشہ زندہ رہے گا۔ پروفیسر چکر دھر نے مشاعرہ اور کوی سمیلن کے ناظم جناب معین شاداب کے اس شعر کاذکر کیاجوانھوں نے ایمبولنس اور ہمارے رویہ سے متعلق کہاتھا۔آگے بتایاکہ آج کے دن پوراوشوا’’فرینڈ شپ دِن‘‘ منانارہاہے۔ جشنِ ادب کے کنوررنجیت چوہان کا حیدرآباد میںکیاگیا یہ دوروزہ ادبی اقدام دوستی اوردوستانے سے بھرپور ہے۔ میں کنوررنجیت کو مبارکباد دیتاہوں کہ وہ کلچرل کارواں کے لئے بڑی محنت کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک نظم کے حوالے سے کہاکہ باتیں کرو، خوب باتیں کرو، مل جل کرباتیں کرو، جشنِ ادب کو بلاتے رہو، جن باتوں سے بات بڑھتی ہے ، انہیں ٹالو ، بات کرنے کے لئے وقت نکالو۔ کیس کو کرائم مت بناؤ، کرائم پر کیس کرو، ان حالات میں چینج کو فیس کرو۔ اس ملک گیر مشاعرے اور کوی سمیلن کی نظامت جناب معین شاداب نے کی۔ جب کہ اس مشاعرے کو دیکھنے کے لئے ممبئی ، پونے ، پربھنی ، گلبرگہ ، بیدر، ورنگل ، کریم نگر، بنگلور،یوپی اور دہلی سے ادب پسند شخصیات اور افراد تشریف لائے تھے۔اس مشاعرے میں نظم ، غزل اور کویتائیں پیش کرنے والے شعراء اور ہندی کویوں کے کلام کانمونہ ملاحظہ فرمائیں ؎
تم سے ٹکرائے تو ہوامعلوم
حادثے خوشنما بھی ہوتے ہیں
یہ جو رخسار پر تبسم ہے
اِس کے اُس پار دیکھنا ہے مجھے
شاکردہلوی
اُس کادِل سوداگر نکلا
مشکل سے میں باہر نکلا
دان بہادر سنگھ بنارسی
میں پتھروں سے لڑکے بہوں گی ، ہوں اک ندی
پھر مل کے سمندر سے محبت میں مروں گی
شیکھاپچاولی (پونے)
اب کیابتائیں کس کے ستائے ہوئے ہیں ہم
دوری جو آئینے سے بنائے ہوئے ہیں ہم
جاوید ؔمشیری
دریا تلاشنا ، کہیں صحراتلاشنا
مشکل ہے خود کے جیسی ہی دنیا تلاشنا
کہیں سورج ملے تو پوچھنا ہے
کہاں تیرا اُجالا جارہاہے
کنور رنجیت چوہان
میں بچوں کی امیدوں کاسورج ہوں
مجھ کو توہرروزنکلنا پڑتاہے
ہواکو ہاتھ لگانے سے جی ڈرتاہے
محبتوں کادسمبربھی ہے مئی کی طرح
شاہد انجم
ہمارے شہر کااحساس یکدم ہوچکامردہ
یہاں کے لوگ ایمبولنس کو بھی رستہ نہیں دیتے
ہماری ہار پہ ہے ناز، اک زمانے کو
تمہاری جیت بہت شرمناک ہے صاحب
معین شاداب ؔ
امی جس شیشے میں کنگھی کرتی تھیں
اس شیشے میں اب بھی بچہ لگتاہوں
ڈاکٹرواری ؔ سنیل پنوار
رات میں اوس میں بھیگ کر چاند کو ایسی سردی لگی
سارادن دھوپ میں بیٹھ کر اپنے کپڑے سکھاتارہا
عزم شاکری
علم جب ہوگا کدھر جانا ہے
ہائے تب تک تو گزرجاناہے
مدن موہن دانش ؔ
رامائن دھردیویدی نے اپنے کلام سے اس مشاعرے اور کوی سمیلن کاشیلانیاس رکھاتھا۔نیلو تپل مرنا ل نے دوکویتائیں پیش کیں اور اپنی ان کویتاؤں سے محفل میں سماں باندھ دیا۔ انہیں دوسری دفعہ کلام پیش کرنے کے لئے بلایاگیا۔ طنزومزاح کے واحد شاعر جناب انس فیضی نے اپنے کلام سے محفل کوزعفران ِ زار بنادیا۔جناب طاہر فراز نے مترنم نظمیں پیش کرتے ہوئے مشاعرے کواختتام تک پہنچایا۔صدرمشاعرہ پدم شری پروفیسر اشوک چکردھر نے تین چار کویتائیں پیش کیں جس کوکافی پسند کیاگیا۔ آخر میں انس فیضی نے کلچرل کارواں جشن ِ ادب ، وراثت کے دوروزہ پروگرام (3اور4؍اگست) کے کامیاب انعقاد پر مانو اور دیگر تمام تعاون کرنے والوں کاشکریہ اداکیا۔ تمام شعراء کی خدمت میں ساہتیہ اتسو ، جشن ادب کی جانب سے مومنٹو پیش کئے گئے۔
تصویر منسلک ہے
