محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک
۱۔ ڈکٹیٹر شپ 
وہ سچاتھا اور حکومت میں تھا۔ یہی خوبی حکومت کو بھانہ سکی۔
مختلف شکایات کے پیش نظر پارٹی نے اس کو ایم ایل سی انتخاب لڑنے کے لئے ٹکٹ نہیں دِیااور اس طرح اس کو اقتدار سے باہر کردیاگیا۔
۲۔ دھیرج رکھیں 
ممتا زادیب لیکن ساہتیہ سنگٹھن کے چیرمین صاحب کہہ رہے تھے۔ ’’ دومہینے ہی تو گزرے ہیں۔ابھی 7ماہ باقی ہیں۔ ان سات مہینوں میں دوعدد سیمینار، ایک ڈائرکٹری، ایک تربیتی کتاب کے علاوہ دولاکھ رقم جمع کرلی جائے گی ‘‘پھر توقف کیا اور کہا’’سوشیل میڈیا کے لئے ہمارے سنگٹھن کی جانب سے تیار 30تراشے ،15مقامات کے دورے اور مختلف سرکلر جاری کردئے جائیں گے ۔ آپ لوگ دھیرج رکھیں،نومبر میں تو دھوم کردی جائے گی‘‘
سنگٹھن کا خزانچی منہ ہی منہ میں بڑبڑایا’’آئندہ دوتین ماہ بعدبھی کچھ نہیں ہوگا،یہ ہماری غلطی تھی کہ ہم نے ایک چیرمین کو نہیں بلکہ ایک سیاسی مزاج لیڈر کو ساہتیہ سنگٹھن کاچیرمین منتخب کرلیاہے ‘‘پھر وہ ریختہ ایپ میں دھیرج عنوان پر اشعار تلاش کرنے لگ گیاتھا۔
۳۔ بنجرلوگ 
سمجھنے والے لوگ کم تھے۔ سبھی سمجھانے والے تھے۔ این آرسی کے وقت بھی ایسا ہی ہوااور اب وقف کے دوران بھی یہی کچھ ہونے لگاہے۔ کچھ ایسانہیں ہے۔ وقف قانون میںتبدیلیوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ حکومت اقلیتوں کی ترقی کی پابند ہے وغیرہ وغیرکہنے والے بے شمار سامنے آچکے تھے مگراسی دوران شیروانی والے ایم پی نے جب الزام لگایاکہ حکومت مسلمانوں کی اور اوقافی اداروں کی دشمن ہے ۔تب پورے ملک میں یہی کچھ دیکھنے اور سننے مل رہاتھاکہ حکومت مسلمانوں کی دشمن ہے۔ اس دوران میرے دل کی حالت غیررہی۔
ہم دشمن حکومت کے ماتحت نہیں رہ سکتے۔ پھر کیاکیاجائے ۔ کوئی جواب نہیں سوجھا۔ تو میں نے سوچا کیاہم اس قدر بنجر ہوچکے ہیں ؟ جواب نداردتھا۔
۴۔عشق کا مارا 
عشق تھاتو بے چینیوں کے باوجود آرام تھا۔ عشق کاسرخاب اب اپنے پرجھاڑ چکاہے اسلئے عشق کاجادو خاک ہوگیا ۔ محسوس ہورہاہے کہ عشق نہیں ہے توجیسے کھنڈر ہو کر رہ گیاہوں۔ اورکھنڈر بھی وہ جہاں چڑیلیںاور جنات آنے سے گھبرا تے ہیں۔ عشق نے یہ حال بنایاہے تو کوئی شکویٰ بھی نہیں ہے کہ ہم عشق کے مارے دونوں جہاں میں کہیں کے نہیں رہتے۔مگر کل کوئی کہہ رہاتھا’’عشق کاآسیب سرچڑھ کر بولے تو سمجھ لوکہ دربار میں باریابی کاوقت آچکاہے‘‘
ایسا ہے تو میری خوش نصیبی کے کیاکہنے ۔ آپ بتلائیں میری سوچ درست ہے نا؟
۵۔ پہلی ہار  
’’دولت ملی لیکن رشتے ہاتھ سے نکل گئے۔ رشتے ہاتھ میں تھے تب دولت ساتھ میں نہ تھی۔یہ کھیل کیوں کر ہے ؟ اس کاجواب کون دے گا؟‘‘ اس کے سوالا ت تھے۔ میں نے کہا’’ارے بابا، مجھے دولت ، رشتہ اور کھیل کاکیاپتہ ہوگاجب میں خود AIانسان ہوں‘‘
وہ مجھے غور سے دیکھ رہاہے۔بلکہ جسم کے مختلف حصوں کو چھو کر حیرت کااظہار کررہاہے۔میں اس کو ڈاج دینے میں کامیاب ہوچکاہوں۔ یہ اس کی پہلی ہار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے