ڈاکٹر شارب مورانوی بارہ بنکی انڈیا
اِس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ خوف و ہرس میں اسرائیلی عوام ہے جو مر مر کے جی رہی ہے، اُن کے خوف کا اندازہ لگانا بھی ہم سب کے لئے ناممکن ہے۔ یہ بات اسرائیل کے ایک میئر نے سامنے آکر قبول کی ہے۔
میئر نے کہا ہماری آنکھیں نیند کی لذّت کو بیتاب ہیں لیکن خوف نے ہماری نیندیں اُڑا رکھی ہیں۔ ایران کب حملہ کرے گا یہ سوچ کر ہم پریشان ہیں۔ آج ایک ہفتہ ہو گیا ہے، ہم بنکروں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ہماری زندگی پناہ گزین سے بدتر ہو گئی ہے۔ بنکر میں پاخانے پیشاب کی دقّت ہوتی ہے، اِس لئے یہاں ڈائپر کی ذیادہ ضرورت ہے اور ہم لوگوں کے پاس ہمارے دائپر ختم ہو گئے ہیں۔ اسرائیل میں ڈر کا عالم یہ ہے کہ بڑے بڑے مال سامانوں کی قلّت سے جوجھ رہے ہیں، شہر میں کرفیو جیسا ماحول ہے، انڈر گراؤنڈ مال کھلے تُو ہیں مگر ضروریاتِ زندگی کا سامان موجود نہیں ہے۔ ڈائپر جیسی حقیر سی چیز ملنا دشوار ہو گیا ہے۔
ایک ہفتہ ہو گیا ہے اسمٰعیل ہانیہ کو مارے ہوئے ہم انہیں بنکروں میں قید ہیں، شہر میں ہم اپنے گھر کو دیکھنے تک نہیں جا پائے ہیں، یہاں پر نہانے دھونے کی بھی پریشانی ہے اور باہر موت ہمارے انتظار میں کھڑی ہے۔ سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے کہ نہ جانے کدھر سے راکٹ آئے اور ہم لقمہ اجل ہو جائیں۔ خوف و ہراس کا یہ سلسلہ ابھی کتنے دِن اور جاری رہےگا یہ کہہ پانا بہت مشکل ہے۔ لبنان سے حزب اللہ ڈرون اٹیک کر رہا ہے، عراق سے امریکی افواج کے ہوائی اڈے محفوظ نہیں ہیں، 2 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں 12 امریکی فوجی زخمی ہیں، اُسے اپنی حفاظت میں دشواری ہے۔ ہمارا آئرن ڈوم ناکارہ ثابت ہوا ہے۔ ہم زندہ ہیں بھی یا نہیں، اِسی پر ہمیں شک ہے۔ یہ صورتِ حال 90,00000 اسرائیلیوں کی ہے جو پوری طرح خوف و ہراس میں زندہ تو ہیں لیکن چلتے پھرتے مُردوں کی طرح زِندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
آج حزب اللہ کے چیف حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ آپ کے 130 عرب ڈالر کی لاگت سے تعمیر شدہ عمارتیں اور فیکٹریز جو آپ نے 34 سال میں مکمل کی تھیں اُسے 35 منٹ میں تباہ کر دیا جائے گا۔ یہ خوف اسرائیلی عوام کو ذہنی طور سے مفلوج کیۓ دے رہا ہے۔ اسرائیلی عوام اپنے پی۔ایم۔ نیتن یاہو سے چھٹکارا پانا چاہتی ہے مگر نیتن یاہو جنگ کے بہانے اِسے لمبا کرنا چاہتا ہے، وہ اپنی کُرسی بچانے کے لئے عوام کو ذہنی دباؤ میں ڈال رہا ہے، جس کی وجہ سے اسرائیلی عوام کی دشواریاں اور زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ حسن نصراللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی عوام دانے دانے کو ترسے گی، یہ ہمیں اب سچ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ حزب اللہ چیف حسن نصراللہ نے بتایا ہے کہ ہم اسرائیل پر سرپرائز اٹیک کریں گے، وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہم اُن کا کیا حال کرینگے، وہ روئیں گے اُس دن کو جب وہ اِس سر زمین پر قدم رکھے تھے۔ حسن نصراللہ کے اِن بیانات سے اسرائیلی افواج میں بھی ایک سرد لہر دوڑ گئی ہے۔ ایران اور حزب اللہ کے اِس طریقے کے بيانات سے وہاں کی عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالا جارہا ھے جس سے نیتن یاھو کے خلاف عوامی بغاوت کو طاقت مل سکے۔
اسرائیل میں ایران کا خوف اِس قدر بڑھ گیا ہے کہ لوگ گھر اور فیکٹریاں اپنی عمارتیں بیچ کر بھاگنا چاہتے ہیں مگر تل ابیب جیسے شہر میں بھی خریدار نہیں مل رہے ہیں۔ سینسکس دھڑام ہو کر گر گیا ہے، انویسٹمنٹ چھوڑ دیجئے بیلین ڈالرس کی فیکٹریز کوئی ملین ڈالر میں لینے کو تیار نہیں ہے، کیوں کہ سب کو معلوم ہے ایران کِسی وقت بھی یہاں حملہ کر سکتا ہے اور یہاں لگایا ہوا پیسہ برباد ہو جائیگا۔ کُچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایران کب حملہ کریگا؟ بھائی ایران کا یہ حملہ ہی ہے جو ذہن سے کیا گیا ہے جو اسرائیلیوں کی ذہنی صلاحیتیں مفلوج کر رہا ہے بغیر نیند کے کتنے ہی فوجی اور عوام بیمار ہیں اور اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔ اسرائیل سے اُس کی عوام باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہے، نارتھ اور ساؤتھ اسرائیل بالکل مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، امپورٹ ایکسپورٹ کریش ہو گیا ہے، ایران نے اسرائیل کے ساتھ نفسیاتی جنگ شروع کی ہے جس سے وہاں کی عوام ہراساں ہے۔
ایران نے حملہ نہ کر کے بھی نئے نئے بیانات دے کر اسرائیلی عوام اور اُس کی فوج میں ایک طرح کا خوف پیدا کر دِیا ہے جِس سے وہاں رہنے والے سیٹلرز اپنے پُرانے ڈائپر سے ہی کام چلانے پر مجبور ہیں۔
