معماران قوم اور ملت بیضا کے پاسبانو! 

السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ

امید کہ آپ تمامی حضرات بخیر و عافیت ہوں گے۔ یہ ایک مسلمہ اور ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہمارے مدارس و مکاتب اور جامعات دین اسلام کے مضبوط قلعے اور رشد و ہدایت کے سرچشمہ ہیں۔ ان کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب و سنت کی سنہری و آفاقی تعلیمات کی نشر و اشاعت، غیر شرعی طرز عمل اور ناشائستہ و نازیباحرکات پر پابندی عائد کرنا ہے، لیکن افسوس! ادھر چند سالوں سے اس بات کا مشاہدہ کیا جارہا ہے کہ مدارس و مکاتب کی سالانہ تعلیمی ثقافتی انجمن، 26/جنوری اور 15/اگست کے موقع پر نونہالان ملت خصوصاً معصوم بچیوں سے ایکشن، ناز و ادا کے ساتھ جسمانی نقل و حرکت اور ڈانس کرایا جاتا ہے جو ہماری دینی غیرت و حمیت کے منافی اور شرعا ناجائز ہے۔

ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر، یوپی ذمہ داران مدارس و جامعات سے مؤدبانہ گزارش کرتی ہے کہ آپ اسلامی تہذیب و ثقافت کا لحاظ کرتے ہوئے پورے جوش و خروش کے ساتھ جشن آزادی منائیں البتہ اپنے طلبہ و طالبات کو رقص و سرود اور جسمانی ایکشن کرنے کی ہرگز اجازت نہ دیں، کیوں کہ ہماری شریعت مطہرہ نے اس قبیح عمل کی حوصلہ افزائی نہیں کی ہے، ورنہ بروز قیامت جواب دہی کے لیے تیار رہیں۔

اللہ ہم سب کو حسن عمل اور کتاب وسنت کا سچا خادم بنائے۔ آمین!

والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

خادم جماعت و جمعیت

وصی اللہ عبدالحکیم مدنی

ناظم ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے