جماعت اسلامی ہند بیدر کے ہفتہ واری اجتما ع سے جناب محمد اختر حسین اور دیگر کا خطاب
بیدر۔ 18؍اگست (محمدیوسف رحیم بیدری): برصغیر کے ایسے علماء جو اسلام پر دیگر زبانوںکے توسط سے دست رس رکھتے ہیں ، انگریزی بولنے والے علماء بڑی تیزی سے ان سے آگیبڑھ رہے ہیں۔ امریکہ میں سالانہ 30؍ہزار افراد اسلام قبول کرتے ہیں۔ اور ان 30؍ہزارمیں سے 3ہزار عیسائی سورہ روم کی ابتدائی تین آیات (ا۔ل۔م ، رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعدچندسال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے) کے سبب ایمان لے آتے ہیں۔ اور یہ وہ عیسائی ہوتے ہیں جو پڑھے لکھے ہیں۔ اوراپنے دینی مستقبل سے متعلق بے چین رہتے ہیں۔ موجودہ روم وہ روم نہیں ہے بلکہ آج کااستنبول حقیقی روم ہے۔ دنیا کی پہلی کرسچین اسٹیٹ ’’آرمینیا‘‘ ہے جہاں پہنچنے کے لئے عیسائیوں کو 300سال لگے لیکن صحابہ کرام ؓ کی دعوتی تیزی کایہ عالم تھاکہ وہ 9سال میں آرمینیاتک پہنچ گئے۔
آج ہرسال 6؍ہزار برٹش اسلام قبول کرتے ہیں۔لندن کی 15%آبادی مسلمان ہے۔ امریکہ میں آج سے 20سال پہلے 5تا10ہزار افراد سالانہ اسلام قبول کرتے تھے اور ان میں دوتہائی افراد نیگرو(کالے )ہوتے تھے۔ اب ہرسال 30؍ہزار امریکی اسلام قبول کرتے ہیں توان میں 2تہائی عورتیں ہوتی ہیں۔ یہ باتیں رکن جماعت جناب محمد اختر حسین حال مقیم دبئی نے کہیں۔ وہ آج اتوار کو جماعت اسلامی ہند بیدر کے ہفتہ واری اجتماع موقوعہ مسجد ابراھیم خلیل اللہ ، چیتہ خانہ بیدر میں خصوصی خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے انگریزی زبان کے دومفکر جناب مسلم اور عمرسلیمان کی تقریروں کوفالو کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہاکہ ہندوستان میں رہنے والے ہم مسلمانوں میں سے 99%افراد کاDNAہندوستان ہی کاہے۔ اسرائیل میں البتہ DNAکروانے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر DNAٹسٹ کروایاگیاتو بہت سے یہودیوں  کاڈی این اے مختلف نکل سکتاہے کیوں کہ وہ ساری دنیا سے لاکراسرائیل میں آباد کئے گئے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں پریہ الزام لگایاجاتاہے کہ مسلمان گوشت کھاتے ہیں اسلئے بچے زیادہ پید اکرتے ہیں۔ جب کہ ایسا معاملہ نہیں ہے۔ جناب اختر حسین نے فلپائن اور چین کی مثال پیش کی اور کہاکہ فلپائن ایک کرسچین ملک ہے 85%آبادی کرسچین ہے۔ وہاں کے کرسچین کتا، بلی، گرگٹ، اور بند رتک کھاجاتے ہیں۔ مسلمانوں کی نسبت ان کے ہاں زیادہ بچے پیدا ہونا چاہیے تھا لیکن وہاں ایسا نہیں ہے ۔
فلپائن کی 9%آبادی نامر د(گے) ہے۔ چین میں ہر وہ چیز جو رینگتی ہے سانپ، کیکڑا وغیرہ سبھی کھاجاتے ہیں۔ وہاں بھی نامردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اراض ِ فلسطین میں فلسطینی النسل یہودی اور وہاں کے مسلمانوں کاDNAسیم ہے۔ غذا دونوں کی وہی ہے ۔ 6ملین یہودیوں میں نامردوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جب کہ مسلمان عربوں میں ایک بھی نامرد نہیں ملے گاالا ماشاء اللہ ۔ یہ نامرددراصل قوم لوط کی نسل سے ہیں۔ جناب اخترحسین نے تجویز پیش کی کہ جماعت اسلامی کی ہریونٹ میں انگریزی جاننے والا ایک ایسا نوجوان ہونا چاہیے جو امریکہ ، لندن اور یوروپ کے ممالک کی اہم باتیں جانتاہو۔اوربآسانی پیش کرتے ہوئے اسلام کے پھلتے پھولتے منظر نامہ کو حوصلہ مندی کیلئے پیش کرسکے۔ جناب سید جمیل احمد ہاشمی رکن جماعت نے ابتداء میں درسِ قرآن دیتے ہوئے کہاکہ یہ ربِ کریم کافضل ہے کہ اس نے ہمیں اشرف المخلوقات میں اور اہل ایمان میں پیدا کیا۔ وہ چاہتاتو جانوروں یا کوئی اور نسل میں بھی پیدا کرسکتاتھا۔ موصوف نے اپنے گھن گرج والے درس ِ قرآن میں بہت سے نکات پیش کئے اور اسلام سے وابستہ رہ کر زندگی گزارنے کی تلقین کی۔ جناب محمد نظام الدین رکن جماعت نے ’’تعلق باللہ‘‘ عنوان پر تقریر کرتے ہوئے کہاکہ اپنی اپنی پانچوں نمازوں کی حفاظت کی جائے۔ خشوع وخضوع کا لحاظ رکھیں۔ جو لوگ زکوٰۃ دے رہے ہیں وہ اپنی زکوٰۃ الل ٹپ نہ دیں بلکہ اس کاحساب کتاب کرتے ہوئے پوری دیانت داری سے زکوۃ اداکریں۔ اس عمل کے ذریعہ رب سے مضبوط تعلق بن سکتاہے۔
آخر میں جناب امیرمقامی محمد معظم نے وابستگان جماعت کو توجہ دلائی کہ وہ جماعت کے آرگن سہ روزہ ’’دعوت‘‘ اور ماہنامہ ’’زندگی نو‘‘ کی خریداری کی طرف توجہ دیں۔ منگل کو’’دعوت ‘‘کے نمائندے بیدر تشریف لارہے ہیں۔ دعوت کے خود خریدار بنیں اوردوسروں کو بنائیں۔ دوسری بات یہ بتائی کہ یکم ستمبرتا 30؍ستمبر خواتین کی ایک ماہی مہم ہوگی ، خواتین یہ مہم سر انجام دیں گی۔ اسی طرح ماہ ربیع الاول میں حضور  ﷺ کی سیرت سے متعلق مہم ہوگی اس کو کامیابی سے مردحضرات اور خواتین کو اپنے اپنے طورپر انجام دیناہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے