محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ تلاشِ معلم
فزکس ، کیمسٹری ، میتھامٹکس اور بیالوجی کے استادوں کے چنگل سے نکل کر زندگی کرنی شروع کردی گئی تھی۔
دودہائیوں کے بعد محسوس ہواکہ اس سے آگے کی زندگی کے لئے بھی کئی ایک استاد نہ سہی ایک آدھ استاد کی ضرورت تو ہے۔ جو سمجھاسکے کہ زندگی کے معنی کیاہیں؟ زندگی اپنے مطالب کس کس سے
رکھتی ہے ۔ موت کے بعد والی زندگی کیاہے اور کس طرح گزاری جاتی ہے ؟ رب کوراضی کرنے کاطریقہ کیاہے ؟
گوگل اور یوٹیوب پر سرچ کرنے اورملنے والی تحریروں کو پڑھ کراور ویڈیوکلپوں کو سن کر بھی کوئی بات واضح طورپر اس کے دل میں اتر نہیں سکی تھی۔ آدھی ادھوری باتیں مزید کنفیوزڈ کردیتی ہیں۔
وہ محسوس کررہاہے کہ علم کے کئی ایک جنگل ہیں ، اور یہ جنگل استادکے بغیرہرگز پار نہیں کئے جاسکتے۔ اس نے تہجد میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھادئے۔ ’’رب کریم !ایسامعلم عطا فرماجو مجھے تیری کتاب سمجھائے اورتیرے حبیب ﷺ کی باتوںکو دل میں اتارکر تجھ سے ملادے ،تاکہ میری باقی زندگی ضائع ہونے سے بچ جائے ‘‘
۲۔ مختصر کہانی ، مقامی ظلم
’’حکومتوں کاتختہ ایسے ہی نہیں پلٹتا۔دراصل وہ چھوٹی چھوٹی ناانصافیاں ہوتی ہیں جو نچلی سطح پر ، گلی محلہ میں انجام دی جاتی ہیں۔ اوروہ ایک دن ظلم کاپہاڑبن جاتی ہیں ۔ پھر تختہ پلٹ ہوکر رہ جاتاہے ‘‘حضرت فیض مارہروی نے کہاتو ان سے ملنے آئے مقامی سیاسی وفد کے سب سے چالاک اور چرب زبان لیڈر نے کہا’’حضرت جی، ہم میں سے کوئی ایک بھی شخص ایسا نہیں ہے ، جو اپنے اپنے محلہ میں ظلم کررہاہو، سبھی سیدھے سادھے ہیں، عوام کی بڑی سے بڑی خدمت کرتے ہیں ۔ پچھلے سال اسی محلہ میں بورویل بھی کھدوائی گئی ہے تاکہ پانی کی قلت دور ہوسکے ‘‘
حضرت فیض مارہروی نے اپنی آنکھیں بند کرکے دریافت کیا’’پھر میں یہ کیاسن رہاہوں کہ تم لوگوں کوجب سے اقتدار ملاہے کسی سے سیدھے منہ بات نہیں کرتے۔ تحکمانہ لب ولہجہ ہوگیاہے، خدائی کے زعم میں ہرتیسراشخص مبتلاہے، استغفراللہ ‘‘ داڑھی اور ٹوپی والے شخص نے کافی جھکتے ہوئے عرض کیا ’’حضر ت، بھول چوک ہوہی جاتی ہے ، ایسا ہواہوگا لیکن ہم میں سے ایسا کوئی نہیں ہے، دعافرمائیں کہ ہم سب اور ایسا کام کرنے والے دوسرے افراد بھی نیک راہ پر چلیں ‘‘ حضرت نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھادئے ۔ مقامی سیاسی وفد چلاگیا۔ تو ساتھ بیٹھے ہوئے پانچ شاگردوں میں سے ایک نے برہمی سے کہا’’حضرت وہ جس نے سب سے پہلے آپ سے بات کی تھی وہی سب سے بڑافتنہ بناہواہے ۔ خودکو اس گلی کابادشاہ سمجھتاہے فرعون کہیں کا، راشن کے چاول کی بلیک مارکٹنگ کیاکرتاہے، داڑھی والا البتہ مکار ہے، سڑک بنانے کاوعدہ تین سال پہلے کیاتھا، ابھی تک اس نے ہمارے محلہ کی سڑک نہیں بنائی ‘‘
حضرت فیض مارہروی کچھ نہیں بولے ۔وہ زمین پر نگاہیں جمائے درود شریف کا وردکررہے تھے ۔ کچھ دن بعد خبر آئی کہ وزیراعلیٰ کے خلاف مقدمہ دائرکرنے کی اجازت گورنر نے دی ہے اوراس بات پرپوری ریاست میں ہنگامہ برپا ہے ۔ برسراقتدار پارٹی سڑکوں پر نعرے لگاتے ہوئے اپنے وزیر اعلیٰ کو بچانے کے لئے نکل کھڑی ہوئی ہے۔
۳۔ باپ کی محبت
وہ کافی دیرتک بارش میں بھیگتی رہی۔ اس کے والدالبتہ جیکٹ پہنے ہوئے اس کے ساتھ تھے۔ جب وہ کافی سے زیادہ بھیگ گئی تو اس کے والد اس کوگھر لے آئے۔ پتہ تھاکہ اب ڈاکٹر کو دکھاناپڑے گا۔ جب بیٹی کپڑے تبدیل کرکے آئی تو والد نے دیکھاکہ تیز بخار ہے۔ انھوںنے بیٹی کو بستر پر لٹادیااور ڈاکٹر کو فون کرنے لگے۔ فیملی ڈاکٹر نے اسکے صحت کی جانچ کی ، کچھ ہدایات دیتے ہوئے دوائیاں لکھیں اور چلاگیا۔
والد کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ انھیں پتہ تھاکہ بیٹی ہمت والی ہے۔ خودکشی نہیں کرے گی مگر ان کادل ڈولے جارہاتھا۔ کسی طرح صبح ہوئی۔ پھر تو والدنے اپنی موت تک اپنی بیٹی کو اپنی نگاہوں کے سامنے رکھا۔ اور جب آنکھیں موند لیں تو اوپر والے کے بھروسہ موند لیں۔
۴۔ خواب کے ساتھ دنیا
جناب جمال الدین کاکا نے کہا’’پاؤں میں سیاست کی جوتیاں پہننے سے پہلے بہت سوچنا چاہیے ۔ کیوں کہ سیاسی سفر کاآغاز تو ہوسکتاہے ، اس کاکوئی انجام نہیں ہوتا۔ جوتیاں پھٹ جاتی ہیں۔ نام بدنام ہوسکتاہے۔ گھراور وطن سے نکالے جاسکتے ہیں ، سمجھے ‘‘
عبدالرب نے جواباً کاکاسے کہا’’ جانی چھوٹے کے ساتھ تو ایساکچھ نہیں ہوا‘‘ کاکابولے ’’ ایک آدھ استثناء کو مثال میں پیش نہیں کرسکتے۔ اس حساب سے دیکھاجائے تو تاریخ میں خواجہ سرانے بھی حکومت کی ہے‘‘
عبدالرب کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ پھر بھی اس نے ضدکرتے ہوئے کہا’’کاکا، میں ایک دن وزیراعلیٰ بن کر دِکھاؤں گا۔ اس کو آپ میراخواب کہہ سکتے ہیں ‘‘ جمال الدین کاکابولے ’’ خواب دیکھنا اچھی بات ہے لیکن اب ہندوستان میں مسلمانوں نے خواب دیکھنا بند کردیاہے۔تم خواب دیکھ رہے ہو اس لئے میں تمہارے ساتھ ہوں ‘‘۔
