عبدالقیوم ہمدم علی نگری

 

دل میں ہر وقت تیرا نام سجا رہتا ہے

میرے قالب میں تیرا نام بسا رہتاہے

دل ناداں ہوں مگر تجھکو بھلاوں کیسے

لب پہ یادوں کا تیرا جام لگا رہتا ہے

تیری توحید سکھانے کا بڑا جزبہ ہے

دیا اسلام کا ہر شام جلا رہتا ہے

شب کے آتے ہی جلا دیتا ہوں مشعل اپنی

اس طرح صحن کا ہر کام چلانے رہتا ہے

وارن کرتے ہیں اندھیروں میں ہمیشہ رہزن

ان کا ہر وار مگر خام بنا رہتا ہے

مشکلیں آتی ہیں اسلام کے دامن میں مگر

پر تیرا رحم و کرم بام بنا رہتا ہے

آزمائش ہے تیرا دین یہ ہر دم ہمدم

رات دن مجھکو یہ سرسام چڑھا رہتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے