ڈاکٹر عبد اللہ فیصل
بلڈوزر بابا کے نام سے معروف یوپی کے وزیر اعلیٰ "یوگی” ادیناتھ نے یوپی میں آتنک مچایا ہے ـ بے قصور بے گناہ مسلمانوں کے گھروں، بنگلوں، گھروں اور کوٹھیوں کو زمیں بوس کروایا ہے ـ اس پر طرہ یہ کی ہم نے آتنکیوں کے مکانات پر بلڈوزر چلوائے ہیں یہ اتنا زہریا بیان ہے اس کی زہر ناکی پورے ملک میں فرقہ پرستی اور خلیج پیدا ہو جایے گی ملک کمزور ہو جائے گا ـ
لگے گی آگ تو آئیں گے سبھی کے گھر ذد میں ـ
جب کسی ریاست کا مکھیہ منتری اتنا بڑا متعصب، مسلمانوں کا دشمن ہو جائے تو اس ریاست کا امن و امان کیسے باقی رہے؟ نقص امن کا خطرہ ہمیشہ رہےگا یوگی نے اپنے زہریلے بیانات و اعلات سے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے زبرست مخالف ہیں ـ
یوگی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مدھیہ پر دیش کے وزیر اعلیٰ نے بھی مسلمانوں کے کئی بنگلوں اور گھروں کو مسمار کروا دیا ہے اور مہنگی گاڑیوں کو بھی توڑ پھوڑ کروایا ہے ـ ایسے کئ ریاستوں کے وزیر اعلیٰ نے زہر پھیلایا ہے جس سے ریاستوں میں نفرت، تعصب، دشمنی، تنگ نظری ہندو مسلم میں زبرست خلیج پیدا ہوگئی ہےـ یہ دوریاں یہ تعصب، دشمنی ملک کو بھسم کردیں گی ـ شکیل رشید صاحب لکھتے ہیں کہ: "مدھیہ پردیش کے چھتر پور میں مسلمانوں کی عالیشان کوٹھی، مکانوں اور مہنگی کاروں کو بلڈوزر کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ! یہ ساری کارروائی وہاں کے وزیر اعلیٰ موہن یادو کی ہدایت پر کی گئی ۔ الزام یہ لگایا گیا کہ مسلمانوں نے چھتر پور تھانہ گھیرا تھا، اس پر پتھراؤ کیا تھا، جس میں کئی پولیس والے زخمی ہوئے! لیکن چھتر پور کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے توہینِ رسالتﷺ کے ایک ملزم رام گیری مہاراج کے خلاف پولیس کو میمورنڈم دینے کی کوشش کی تھی ، جس کے نتیجے میں یہ ظالمانہ کارروائی کی گئی ۔ الزام ہے کہ مسلمان تین چار سو کی تعداد میں تھانہ پہنچے تھے! اب پولیس ویڈیو دیکھ دیکھ کر سب کی شناخت کر رہی ہے تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے ۔ سو ڈیڑھ سو افراد پر مقدمہ تو پہلے ہی بنا دیا گیا ہے ۔ کیا مدھیہ پردیش کی موہن یادو حکومت کی مذکورہ کارروائی قانوناً جائز ہے؟ کیا گرفتاریاں کرکے انہیں عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا جانا چاہیے تھا؟ کیا سارے معاملے کی تفتیش لازمی نہیں تھی؟ کیا یہ عمل چھتر پور کے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے؟ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مسلمانوں نے پتھراؤ کیا تھا – حالانکہ چھتر پور کی ایک مسلم جماعت ’ انجمن اسلامیہ ‘ اور مقامی مسلمانوں نے پتھراؤ کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے، ان کا دعویٰٗ ہے کہ پتھراؤ باہری جانب سے کیا گیا تھا، یعنی پتھراؤ کا عمل مسلمانوں کو پھنسانے کے لیے منصوبہ بند تھا – تب بھی کیا یہ کوئی ایسا جرم تھا کہ مسلمانوں کے مکانوں اور ان کی قیمتی گاڑیوں پر بلڈوزر چڑھا دیا جائے؟ یقیناً اس سوال کا جواب یہی ہوگا کہ یہ عمل جائز نہیں ہے ، قانون میں پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف ایسی کارروائی کی کوئی شق نہیں ہے ۔ لیکن کوئی کیا کر سکتا ہے، اب معمولی باتوں پر مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چڑھا دینا بی جے پی کی ریاستی حکومتوں کا پسندیدہ کھیل بن گیا ہے ۔ اور بھگوا سرکاریں آنکھ موند کر کسی بھی مسلمان کے مکان اور دکان پر بلڈوزر چڑھا دیتی ہیں کیونکہ ان سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں ہے۔ عدالتیں، بشمول سپریم کورٹ، ایسے ہر ناجائز اور غیر آئینی عمل سے آنکھیں موندے ہوئے ہیں۔ مرکزی حکومت کچھ نہیں بولنے والی کیونکہ بی جے پی کی تمام ریاستی حکومتیں اسی کی چھتر چھایہ میں چلتی ہیں ۔ اور رہی اپوزیشن تو اسے صرف مسلم ووٹوں سے غرض ہے ، مسلمانوں کے مسائل سے نہیں۔ مدھیہ پردیش میں یہ غیر جمہوری اور غیر آئینی عمل گزشتہ حکومت سے چلا آ رہا ہے ، بہت سارے مسلمانوں کو اجاڑا گیا ہے ، اور مقصد اجاڑنا ہی ہے ۔ پہلے شیوراج سنگھ چوہان کی حکومت تھی اور وہاں کے وزیر داخلہ نروتم مشرا تھے ، جو بات بے بات بلڈوزر چڑھوا دیتے تھے ، اب وزیر اعلیٰ موہن یادو ہیں اور مسلمانوں کی دشمنی میں اس طرح اندھے ہو رہے ہیں کہ انہیں نہ قانون دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی یہ جمہوریت اور آئین دیکھ پا رہے ہیں ! شاید یہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا ریکارڈ توڑنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہیں، اور یوگی سے ’ بلڈوزر بابا ‘ کا خطاب چھیننے کے خواہاں ہیں ۔ لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ حکومت آنی جانی ہے ، اور وقت کبھی کسی کو بخشتا نہیں ہے ، نہ وزیراعظم کو نہ ہی وزیر اعلیٰ کو ۔ وہ دن بھی آسکتا ہے کہ انہیں اپنی ان ظالمانہ حرکتوں کی تلافی کا وقت بھی نہ ملے اور اوپر والے کی گرفت آجائے ۔
ایک سوال بڑا اہم ہے؛ کیوں مسلم تنظیمیں ، جماعتیں اور ادارے بلڈوزر کارروائی کی خلاف متحد ہوکر قانونی لڑائی نہیں لڑتیں؟ اس معاملہ کو وسیع پیمانے پر اٹھانے کی اور اس کے خلاف، منصف مزاج برادرانِ وطن کو ہمراہ لے کے ، سخت احتجاج کرنے اور عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے کی ضرورت ہے ۔ جماعت اسلامی کی ایک ذیلی تنظیم اے پی سی آر نے ایسے ہی ایک معاملہ میں قانونی لڑائی لڑی تھی اور مظلوم کو معاوضہ دلوایا تھا ۔ اب اس معاملہ پر آنکھیں موند کر بیٹھنا اپنے پیروں پر آپ کلہاڑی مارنا ہوگا ، بڑے پیمانے پر قانونی جنگ ضروری ہو گئی ہے”۔
کتنے ہندو ہیں جو کھلے عام پولس فوج کو چیلنج کرتے ہیں، سرکاری املاک تباہ و برباد کرتے ہیں لیکن پولیس والوں کے بدوق کی گولیاں نہیں چلتی ہیں، ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا، ریلوے کو بھاری نقصان ہوا، کئی اسٹیشنوں کو منہدم کردیا گیا، جیسے جنگل راج ہو، لوگ من مانی کر رہے تھے ـ ہر طرف آگ ہی آگ، دھواں ہی دھواں تھا ـ کئی دنوں تک ملک سلگتا رہا، کوئی کسی کا پرسان حال نہ تھا، لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ اب بس کرو لیکن ناراض ہندو نوجوان ماننے کو تیار نہیں تھے ـ
نشیمن کو جو تعمیر کی بات کرتے ہیں وہ دہشت گرد ہیں ـ جو محبان وطن ہیں وہ آتنک وادی ہیں ـ جو مظلوموں، مجبوروں، مقہوروں کی لڑائی لڑتے ہیں قیدو زنداں کے حوالے کردیئے گئے ہیں ـ قانون دستور آئین سب خطرے میں ہےـ
ہم نشیمن کو بھی روئیں تو خطا ہوتی ہےـ
پھونک ڈالیں وہ چمن بھی تو ہنر ہوتا ہے ـ
(علامہ اقبال سہیل)
