محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک 
۱۔ زندگی کے لئے کہانی 
آج کوئی کہانی نہیں مل سکی تھی۔ ذہن جب کہانی تلاش کرکرکے تھک گیاتو سوشیل میڈیا میں اسکرولنگ کرنے لگا۔ تھکا ہوا ذہن آہستہ آہستہ نیندکی آغوش میں پہنچ گیا۔جب نیند سے بیدار ہواتو دوسرا دِن نکل چکاتھا۔
اُس نے کہانی کی تلاش پھر شروع کردی۔ دراصل وہ کہانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتاتھا۔ روز جینے کے لئے روزایک کہانی اس کے لئے ضروری تھی۔ وہ کہانی لکھ کر اپنے اخبار کے ذریعہ لوگوں کو پڑھاتاتھا۔
۲۔ نیت کی خرابی 
جب میں نے اس کو بتلایاکہ تمہارے دشمن تمہارے ساتھ ہیں۔ تو وہ بولا’’یہاں کون میرادشمن ہے ؟ سبھی تو میرے بھائی ہیں ‘‘ میں نے کہا’’ہابیل اور قابیل دونوں بھائی تھے اور ایک بھائی نے دوسرے بھائی کاقتل کرڈالا۔ یہ دنیا کاپہلا قتل تھا۔ اسی طرح دنیا میں دوسروں نے کوئی قتل کیاہو، ایسا کم ہواہے۔ قتل کرنے والے اپنے ہی ہوتے ہیں ‘‘
وہ کافی دیر تک سوچتارہا اور جب اس کی سمجھ میں بات آئی تو سرپرپیررکھ کربھاگ کھڑا ہوا۔ کہتاجارہاتھا’’خراب نیت والا بھائی۔۔۔۔۔۔ مردہ باد ‘‘
۳۔ مہاجر گھرانہ 
کاروبارٹھپ پڑے ہوئے تھے۔دانے دانے کی محتاجی آن لگی تھی۔ ان لوگوں نے شہر چھوڑ دِیا۔اور آکر ایک پسماندہ شہر میں اسلئے بس گئے تاکہ کوئی انھیں پہچان نہ سکیں۔ اورآہستہ آہستہ کاروبار بھی ترقی کرسکے ۔ اور ایسا ہی ہوا۔ آج وہ گھرانہ اس شہر کے بڑے کاروباریوں میں شامل ہے۔
۴۔ شیطان فیکٹری 
ماننے کاجذبہ مفقود تھا۔ سارے گویا شیطان ہی تھے۔زندگی ان تمام کے درمیان پھنسی ہوئی تھی۔ وہاں سے نکلنے کی دعا ہر دم مانگی جاتی ہے۔ رب مہربانہوگاتو راستہ نکلے گاورنہ خود کوبھی شیطان بننا ہی پڑے گا۔
۵۔ دل وِل میں کیاجانوں؟
بچے سفر کرتے ہیں تو مائیں سفر کی خیریت کے لئے ہاتھ اٹھادیتی ہیں لیکن بچہ جب سفر میں ہوتاہے تو میری بیگم موبائل پر گیم کھیلنے میں مصروف رہتی ہے۔ اس وقت اس کادِل کیاکررہاہوتاہے یہ میں نہیں جانتا۔
۶۔ محلہ جات 
کس کِس محلہ کے ساتھ دغا کی گئی ہے یہ تو وہی جانتاہے۔ کیوں کہ ووٹ لے کر ترقیاتی کام نہ کرنا سوائے اس کے دوسروں کو نہیں آتا۔ کیوں کہ گذشتہ 25سال سے وہی تو ان تمام محلوں کے سیاہ وسفید کامالک ہے
۷۔ پارٹی قائد 
’’ہماری پارٹی سب سے مضبوط پارٹی ہے ‘‘ اس نے مجھ سے کہا۔ وہ ایک سیاسی پارٹی کا جنرل سکریڑی تھا۔ میں نے کہا’’ تمہاری پارٹی اگر مضبوط ہوتی ، تو تمہارا وزیر آج پارٹی کے پروگرام میں شامل ہوتا۔ وہ تو پارٹی پروگرام چھوڑ کر اِدھر اُدھرگھوم رہاہے‘‘ جنرل سکریڑی کو کوئی جواب نہ بن پڑا۔ کہنے لگا’’ایسا نہیں ہے، ہمارے وزیر صاحب ، کچھ کام کے سبب پروگرام میں نہیں آسکے ‘‘
میں نے کہا’’کل کلاں کو ووٹر بھی کچھ وجہ سے آپ کی پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے، بات ختم ہوجائے گی ، یہی عمل اگر مسلسل دوہرایا گیاتو تمہاری پارٹی بھی ختم ہوسکتی ہے ۔ کیوں ، صحیح کہہ رہاہوں نا؟‘‘ وہ خاموش ہوگیا۔ وہ کچھ سوچ رہاتھا۔
۸۔ 50ہزاری مشاعرے 
ریاستی مشاعرے کے لئے دولاکھ روپئے دئے جاتے تھے۔ پھر ایک ایسا شخص اکادمی میں چلاآیا جس نے غیرمعروف بلکہ15 متشاعروں کے دم پر صرف 50ہزار روپئے میں کل ریاستی مشاعرہ کاانعقادکر ڈالا۔ سنا ہے چیرمین اکادمی آئندہ کے دس ریاستی مشاعرے اسی شخص کو دینے جارہے ہیں۔ مشاعرہ کرنے والی دیگر تنظیموں کے ذمہ داران ہائے وائے کرنے پر مجبور ہیں۔اُدھر متشاعروں کی نکل پڑی ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں، ذمہ دارانہ نشست پر غیرذمہ دارفرد کو نہیں بٹھاناچاہیے ورنہ نظم کے بگڑتے دیر نہیں لگتی ۔نظم بگڑچکاتھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے