محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک 
۱۔ مرنا ہے نا؟
وہ پوچھ رہاتھا ’’ آخر مرنا ہی ہے نا؟‘‘ وہ ایک کم پڑھالکھاجوشیلا مگر بہادر نوجوان تھا۔ میں اس کی بات کاکیاجواب دیتا۔ خاموش رہا۔ وہ بڑاجذباتی ہورہاتھا۔ کہنے لگاکہ’’ یہ حکومت کرکیا لے گی ؟ جیل میںڈال دے گی ، جان سے مار دے گی ۔مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزورچلاچکی ہے ۔اب اور کیاکرے گی ؟‘‘
واقعی مسلمانوں پر ظلم ہورہاتھا۔ چھوٹی چھوٹی سی بات پر ان کے گھروں پر بلڈوزر اپنی کارروائی کئے جارہاتھا۔ اسی لئے شروق عال پوچھ رہاتھا، آخر مرنا ہی ہے نا۔میں دراصل اس سے کہناچاہتا
تھاکہ مسئلہ مرنے سے متعلق نہیں ہے بلکہ موت بعد زندگی میں ہمارانام جی اٹھنے والوں میں آئے۔ اس کے لئے کوشش کرنا ہے ۔لیکن میں یہ نہیں کہہ سکا۔
۲۔ نصیب کی بات
اس کا ظرف بہت بڑا تھا۔ اور میں اس کالاڈ لہ ٹہرا۔پھر تو خراب ہونا ہی تھا، خراب ہوتارہا۔ لیکن یہ اس بڑے ظرف والے کی مسلسل نگہبانی تھی کہ لوٹ آیا اپنی اقدار کی طرف اس طرح جہنم سے بچالیاگیا۔ کسی کالاڈلہ ہونا نصیب کی بات ہے سائیں
۳۔ شبنم راحت 
’’ممی، ممی، ممی ‘‘ جیسی آوازیں سن کرشبنم راحت کو راحت ملاکرتی ہے۔اور جب بچے سارے اسکول چلے جاتے ہیں، تو گھر سنسان پڑجاتاہے اور کاٹ کھانے کودوڑتاہے ۔ تب وہ پاس پڑوس جاکر مل آتی ہے۔وہ لوگوں کی غیبت سے زیادہ بچوں کی ’’ممی ،ممی‘‘ کی آوازوں سے قلبی سکون محسوس کرتی ہے۔ اس کی دونوں بہنوں کویہی شکایت ہے۔’’بڑی اللہ والی بنتی ہے۔ بچوں سے ہمیں بھی محبت ہے لیکن ایسا بھی کیاکہ لوگوں کی باتیں چھوڑ کر بچوں کی آوازوں پر کان دھرا جائے ، یہ تو ماں اور بچوں کی پریم کہانی ہوگئی‘‘ شبنم راحت کو دونوں بہنوں کاطنزبرا نہیں لگتا۔اس کو یقین ہے کہ بچے اس کو اور وہ بچوں کو عشق کی حدتک چاہتے ہیں۔ اور یہ اوپر والے کاکرم ہے۔
۴۔ کھرا سکّہ 
قرآن اور احادیث مبارکہ پر وہ سندرکھتاتھا۔ پھر آہستہ آہستہ دنیا داری کی سند بھی حاصل کرلی۔ آج جہاں جاتاہے اپناسکہ بٹھادیتاہے ، کچھ لوگ قرآن واحادیث اور حضور  ﷺ سے اس کی محبت کے پیش نظر اس کو بڑا مان لیتے ہیں اور کچھ افراد اس کی دنیاداری کو ہنس ہنس کر قبول کرلیتے ہیں کہ مولوی کی دنیا داری بھی خوب ہوتی ہے۔کہتے ہیں کہ رئیل اسٹیٹ کاکاروبار دوچہرے کاطالب ہوتاہے۔
سو میاں، کٹ رہی ہے آرام سے۔ بعدازموت کیاہوگا رب جانے ۔
۵۔ زندہ وزیر
بہت اچھے طریقے سے وزارتی زندگی گزارلی ۔ جوکام کیا، اس کاپتہ دوسرے طبقے کو لگنے نہیں دیا۔رہ گئی بات صحافیوں کی ، تو انھیں باندھ کررکھاگیاتھاکہ کچھ نہیں لکھاجائے گا۔ صاف کہہ دیاگیاکہ ’’مجھے شہرت کی ضرورت نہیں ہے ۔ نہ تم میری تائیدمیں لکھواور نہ ہی خلاف میں‘‘اوراس کاخاموشانہ بھگتان بھی کردیاگیا۔
اس طرح پوری خاموشی کے ساتھ سنگھی انداز میں وزارتی زندگی گزار لی گئی۔آج بھی عوام کی گڈبک میں موصوف زندہ ہیں جب کہ ان کا اپناطبقہ ترقیاتی وزارتی بک میں مراپڑاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے