( وفات: 29؍اگست 2015 ۔ 9؍ویں برسی کے موقع پر ) 
محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر
صابرؔ رشیدی وہ نام ہے جن کی صلاحیتوں سے کماحقہ فائدہ اٹھایانہ جاسکا۔ زندگی کچھ ا س قدر رنگوں سے مزین ہے کہ کوئی بھی رنگ کیوں نہ ہو، اس کو نکارا نہیں جاسکتا۔ کوئی اگر یہ کہے کہ سیاہ رنگ رات ہے ۔اُجالے کی نفی ہے تو دوسرا کہے گاکہ رات ہوگی تب ہی تو اُجالے کی اہمیت ہوگی اور رات آتی ہے تو اپنے ساتھ نیند جیسی انمول شئے لے آتی ہے۔دن بھر کی تھکن کورات کی سیاہی دور کرتی ہے اوریہ کہ شب گزار نے پرہی سحر ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔لوگ صابرؔرشیدی سے اختلاف کرتے ہوں گے لیکن ان کے باصلاحیت اور زمانہ شناس ہونے کے معاملے میں سبھی متفق تھے اوران لوگوں نے آج بھی اپنی رائے سے انحراف نہیں کیا ہے۔
صابر ؔرشیدی بیدر کی امیداور آرزو تھے بلکہ ایک ایسے شاعر تھے جن سے بڑی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں۔ اُن کے کلام کے ضائع ہونے سے صابرؔرشیدی کا نام بیدر اورکرناٹک کے اُردو ادب میں بھلے درج نہ ہو، لیکن جس کسی نے صابرؔرشیدی سے ملاقات کی ہے، ان کے ساتھ وقت گزار ا ہے وہ گواہی دے سکتاہے کہ اس طرح کے افراد بہت کم ہوتے ہیں۔ زندگی ایسے افراد سے ملنے کاموقع کم کم دیتی ہے ؎
کیادلنواز تھے تری یادوں کے پھول بھی
دم بھر خیال وفکر کے گوشے مہک گئے
ایک اور شعر صابر ؔرشیدی کے لئے یوں بھی ہوسکتاہے   ؎
محشر ِ درد سہی اُن کی جدائی لیکن
وہ جو مل جائیں تو اک تازہ قیامت سمجھو
صابر ؔرشید ی اپنے عہد کے خوبصورت اشخاص میں سے ایک تھے۔ ان کالائف اسٹائل اس وقت کے نوجوان نقل کرنا اپنے لئے اعزاز تصور کرتے تھے۔ زندگی کے مختلف میدانوں کا علم انہیں حاصل تھا۔ کون سی بات ہے جو انہیں پتہ نہیں ہوتی تھی۔ برہمنوں کے بارے میں کہاجاتاہے کہ وہ پوری دنیا کے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتے ہیں۔ جوبرہمن کہے کہ ’’مجھے نہیں پتہ‘‘ اسکا برہمن ہونا مشکوک ہوتاہے۔ ایسا ہی معاملہ صابرؔرشید ی کے ساتھ تھا۔ وہ ایک باخبر نوجوان تھے ۔ اور ساری عمر باخبری میں گزار دی۔ کبھی وقت سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ اور نہ ہی خود کو غلط سمجھنے کی غلطی کی۔انا نیت اور ضد کے گھوڑے پر سوار ان کی زندگی کاسفر رہا۔ تجوری ،الماری ، یاپھر جیب اور ہاتھ میں اگر کچھ نہ ہوتا تب بھی شاہانہ زندگی گزار تے ہوئے چچا غالبؔ کی قبر پر لات مارنے کی سعی میں لگے رہتے تھے۔
بیدرکے بزرگ شاعر اور ان کے کئی سال کے ساتھی جناب محمد امیرالدین امیرؔ نے ایک موقع پر ان کے بارے میں کہاکہ ’’جناب صابر رشیدی سے میری ملاقات سنہ 1986؁ء سے ان کی حیات کے اختتام یعنی 2015؁ء تک رہی ۔ وہ ایک دانشور تھے ۔ ان کی مصروفیات اردو ادب، صحافت ، عملیات اور بزرگوں سے نیازمندی تک جاری رہیں۔ بیدر سے بنگلور ہجرت کرجانے کے بعد صابر ؔرشیدی وہاں قانونی امداد کی فراہمی پر مامور ہوگئے تھے جس کے لئے کبھی بیدر تک چلے آتے اور کبھی مہاراشٹرکا سفر بھی انہیں درپیش ہوتا‘‘
آج سے 9سال قبل کا ایک منظر اور صابرؔصاحب سے متعلق تفصیلات میرے ایک مضمون سے یہاں پیش کئے جارہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں۔
’’29اگست(2015؁ء ) کی صبح بیدر میں مقیم صابر ؔرشیدی کے چھوٹے بھائی محمداسدالدین نے اطلاع دی کہ ’’صابرؔ بھائی کاکل شب 10:30بجے ممبئی میں بہن کے گھر پر انتقال پرملال ہوا۔اور آ ج صبح 8:30بجے میراروڈ ممبئی کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔اناللہ واناالیہِ راجعون
مجھے صابرؔرشیدی کو پیش کی گئی ایک تہنیتی نظم کے چیدہ چیدہ مصارع یاد آنے لگتے ہیں۔ گلستاں بوستاں صابرؔرشیدی۔۔۔۔۔صدائے کن فکاں صابرؔرشیدی۔۔۔۔۔حسابِ دوستاں صابرؔرشیدی۔۔۔۔!!!
طویل عرصہ سے بیمار تھے، کافی علاج معالجہ پر توجہ دی گئی۔ بنگلور کے بورنگ اسپتال میں کئی ماہ تک علاج ہوا۔۔۔آخر ڈاکٹر نے جواب دے دیا کہ گھر لے جائیں بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔۔۔کچھ عرصہ بیدرمیں قیا م رہا۔ پھرواپس بنگلور گئے اس کے بعد ممبئی لے جایاگیا۔ وہیں ان کاانتقال ہوا۔ ع۔پہنچی وہیں پرخاک جہاں کاخمیر تھا
جناب صابر ؔ رشیدی کااصلی نام محمدحسن الدین تھا۔ وہ اپنے مرحوم والد محمدعلیم الدین کے دوسرے فرزند تھے۔5بھائی اور دوبہنوں میں بڑے بھائی محمدسلیم الدین تھے ، تیسرے نمبر پر کنیز فاطمہ ، چوتھے محمداسدالدین ، پانچویں محمدطاہرالدین ، چھٹی بہن مبین فاطمہ اور ساتویں بھائی محمدلطیف الدین ۔
23؍مارچ 1958؁ء کو بیدرمیں پیداہوئے حسن الدین صابرؔرشیدی 58سال کی عمرمیں ممبئی میں 28؍اگست کی شب10:30بجے انتقال کرگئے اور 29؍اگست کی صبح 8:30تدفین عمل میں آئی ۔جبکہ اس دن ہندوبھائیوں کاتہوار ’’رکشا بندھن‘‘ بھی رہا۔(اِدھر) بہن نے بھائی کی خدمت کرکے اپنا فرض اداکیااور نعش کوپورے احترام کے ساتھ سپردلحد کیاگیا۔ پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین لڑکے ہیں۔کہاجاتاہے کہ عطاؔکلیانوی کے فرزند ثنااللہ کلیانوی کے وہ مرید تھے۔ ڈاکٹر عبدالوحیدبہار ؔ کی روایت ہے کہ وہ ثنااللہ کلیانوی کے نہیں بلکہ علامہ عطاکلیانوی کے مریداور خلیفہ تھے اور انھیں اکابرین کی موجودگی میں شاہ ابوالاسرار بیدری کے خلافتی نام سے نوازاگیاتھا۔ وہ شاعری میں فخرِ کرناٹک ، شاعرحیات حضرت رشیداحمدرشیدؔ کے شاگردِ رشید ہونے کاشرف رکھتے تھے۔قبلہ رشید ؔ احمد رشیدبھی انہیں بے حد چاہتے تھے۔کچھ عرصہ کے لئے انھوں نے روحی قادری سے بھی اصلاح لی تھی (مضمون ’’صابرؔرشیدی۔ ایک چراغ اور بجھا ‘‘ از:محمدیوسف رحیم بیدری سے ماخوذ) ہم آج کے اپنے موضوع پر آتے ہیں، ہوایوں کہ صابر ؔرشیدی کو بیدر جیسے پسماندہ شہر میں اپنے مزاج کاکوئی بندہ نہ ملا۔ اورپھر ع۔
کچھ اور چاہیے وسعت میرے بیاں کے لئے
کہتے ہوئے وہ بنگلور ہجرت کرگئے۔ بنگلور جانے کے بعد بیدر سے ان کارشتہ ٹوٹا نہیں تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کسی کی خیریت دریافت کرنے کے لئے ان لینڈ لیٹر اور لینڈ فون ہواکرتے تھے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے موبائل عام ہواتو ایک دوسرے کی خبرگیری میں اضافہ بھی ہوا۔مجھے یاد ہے سال 2012؁ء کو انھوں نے اپنے استاد محترم حضرت رشید احمد رشید ؔ کے فکروفن پرایک سیمینار اردوہال ، موقوعہ تعلیم صدیق شاہ بیدر میں رکھا، جناب عبدالمقتد رتاج بھی پیش پیش تھے بلکہ حضرت رشید ؔ کی شاعری میں شعری صنعتوں پر ان کامقالہ بھی شامل تھا۔اسی شب سنگم تھیٹر میں ایک کل ہند مشاعرہ منعقد کیاگیاتھا۔ ان تمام کام کوانجام دینے میں ان کے برادر خورد جناب محمد اسدالدین (جنتادل ایس قائد ) بھی شریک رہے۔ اس کل ہند مشاعرے میں ’’مقال‘‘ نامی کتابچہ کی رسم ِ اجراء عمل میں آئی جس کوخاکسار نے تحریر کیاتھا۔ وقت نے اس کتابچہ کو صفحہ ء ہستی سے مٹادیا۔یہ بھی عبرت لینے والوں کے لئے ایک مثال ہے جس کاذکرپھر کبھی ۔
جناب محمد کما ل الدین شمیم ؔ کی رائے ہے کہ صابر ؔرشیدی ایک منجھے ہوئے شاعر تھے ۔ خوش اخلاقی اور خوش مزاجی صابر ؔرشیدی کے مزاج کاحصہ تھی۔ شعر پڑھنے کاانداز نرالاتھا۔ جھوم جھوم کر شعر پڑھتے اور داد حاصل کرتے تھے ۔ کمال صاحب کی بات حرف حرف سچی ہے۔ حضرت رشید کی رہائش گاہ ہو، صحن ِ مسیحا کا مشاعرہ ہو، کسی کالج ، گلبرگہ ، حیدرآباد یا نظام آباد کاکوئی مشاعرہ پڑھنا ہو، صابر ؔرشیدی اپنے اسی اندازوطرز سے جانے گئے۔ کلام پیش کرتے ہوئے کوئی جھجک ، کوئی منفی تاثر ، ڈر یا خوف کے آثار چہرے یا حرکات وسکنات میں پنہاں نہ ہوتے۔ وہ مشاعرہ پڑھتے تو ایسا لگتاجیسے کوئی جھرنا سا بہہ رہاہو۔ زبان کے بوسے نطق لینے لگتا۔ فکر کی گہرائی میں گیرائی پیداہوجاتی ۔ ذہن میںگھنٹیاں سی بج اٹھتیں ۔ مکرر کاشور بھی سنائی دیتا۔اس نوجوان کی بیدر کے پردہ پر آمد نے بہت سے بتوں میںتھرتھری پید اکردی تھی۔ جب وہ نوجوان بنگلور چلاگیاتب کہیں سکون کی سانس لی گئی۔ جناب صابر ؔرشیدی کے استاد محترم حضرت رشید احمد رشید ؔ نے ان کے لئے 7؍اشعارپرمشتمل ایک نظم ’’صابر ؔسے خطاب ‘‘ عنوان سے لکھی تھی ۔یہاں درج کی جارہی ہے، اس نظم میں صابر ؔرشیدی کی ادب سے محبت صاف طورپر محسوس کی جاسکتی ہے    ؎
تجھے خبر نہیں شعرو ادب کے دیوانے
نشا ط کو ش ہیں قلب ونظر کے پیمانے
یہ دور، دورِ خموشی ہے ، جہل کو مت چھیڑ
حقیقتیں بھی نظر آرہی ہیں افسانے
اگر رہی یہی رفتارِ ارتقائے شعور
کمالِ فن کی ہے منزل کہاں خداجانے
شعوروشوق کی رفعت کہاں گوار اہے
حسد کی آگ میں جلتے ہیں آج پروانے
تونکتہ چینی ء اہل ِ جہاں سے پست نہ ہو
جو خود ہی پست ہو ، وہ رفعتوں کوکیاجانے
جو اہلِ ذوق ہیں ، وہ جانتے ہیں صنعت ِ شعر
جو بے ادب ہے وہ باریکیوں کوکیاجانے
آخری شعر میں حضرت رشید ؔنے بہت ہی عمدہ بات لکھی ہے ، کہاہے    ؎
ذرا سی بات پہ کیوں دل گرفتہ ہے صابر ؔ
ہمیشہ لیتے ہیں پتھر سے کام دیوانے
(بحوالہ ’’الہام ویقین ‘‘ ص۔۱۱۸)
کافی عرصہ کے بعد غالباً2009-10؁ء میں صابر ؔرشید ی کی بنگلور سے بیدر تشریف آوری ہوئی۔ اس وقت ان کے اعزاز میں ایک مشاعرہ اسلامی لائبریری ، رٹکل پورہ بیدرمیں رکھاگیاتھا ۔ جس میں ڈاکٹر عبدالوحید بہارؔ، نثاراحمد کلیم  ؔ، فضل الرحمن ہادی ؔ، باسط خان صوفی ؔ ، امیرالدین امیرؔ اور خاکسار (میرؔبیدری) بھی شریک رہا۔ جس کی صدارت الحاج فضل الرحمن ہادی ؔ صاحب نے کی تھی۔ا س وقت خاکسار نے یہ نظم صابرؔرشیدی کیلئے پڑھی تھی جو کافی پسند کی گئی ؎
سخن کی کہکشاں صابر رشیدی
گلستاں ، بوستاں صابری رشیدی
سبھی خوش آمدید اب کہنے آئے
حسابِ دوستاں صابر رشیدی
عطا ہیں یہ عطاؔ کلیانوی کی
تصوف داستاں صابر رشیدی
تبھی تو ناز سے کہتے ہیں یارب
صدائے کن فکاں صابر رشیدی
سخنور مرگئے سب اور ہے باقی
رشید احمد کی جاں صابر رشیدی
گذشتہ کچھ برس بنگلور میں تھے
تھا بیدر خامشاں صابر رشیدی
اسی ’’اردو نگر‘‘ میں کیا پھلے گی
تری اُردو زباں صابر رشیدی
دہائی اب تو دیتا ہے سمندر
کناروں کا جہاں صابر رشیدی
ہدف پر تیر کا لگنا ہے لازم
ہے امیدِ کماں صابر رشیدی
بلاشک اور شبہ رہتاہے دل میں
ترے ہندوستاں صابر رشیدی
ہمارے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو
مٹاؤ آسماں صابر رشیدی
تمہیں ہو میر لے چلنا ہے تم کو
ادب کا کارواں صابر رشیدی
بجھے گی جب یاد کی شمع روشن
رُلائے گا دھواں صابر رشیدی
کسی دل میں نہیں ہے میرؔ صاحب
        چھپا میرے ہے یاں صابر رشیدی
(بحوالہ شعری مجموعہ ’’رقص‘‘ ازمیر ؔبیدری ، صفحہ 70اور 71)
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مرحوم نثاراحمد کلیم ؔنے اسلامی لائبریری کے عقب میں قیام پذیر ہوتے ہوئے بھی کافی تاخیر سے مشاعرہ کے ختم پر شرکت کی تھی۔ بنگلور کے استاد شاعر جناب سردار ایاغ ؔ صاحب سے صابر ؔرشیدی مرحوم کی بابت گفتگو رہی۔ صابر ؔرشیدی جب تک بنگلور میں رہے سردار ایاغ  ؔ سے رابطہ میں رہے۔صابر ؔرشیدی کی بے شمار کھٹی میٹھی یادیں سردار ایاغ ؔ کے ذہن ودل میں محفوظ ہیں۔ لیکن کل انھوں نے اس تعلق سے کوئی بات نہیں کی۔ان کے پیر وں میں درد ہے ، چلنے پھرنے کی تکلیف شاید یادوں کو پرے ڈھکیل دیتی ہے۔ دیگر باتیں ہوئیں اور میں نے پھر بات کرنے کاوعدہ کرتے ہوئے موبائل بند کردیا   ؎
عمر بھر آسماں کی سیر رہی
اور پھر اکتفا کے پرکھولے
(میرؔبیدری)
بہرحال زندگی کے آخری وقتوں میں پیٹ کاکوئی عارضہ صابرؔرشیدی صاحب کو لاحق ہوگیاتھا۔ بنگلور کے بورنگ اسپتال میں شریک رہے۔ خاکسار نے بھی وہاں حاضری دے کر ان کی عیادت کی تھی ۔ چہرے پر کوئی نقاہت یازندگی سے کوئی گلہ یاشکویٰ نظر نہیں آیا۔ زندگی سے اس قدر آنکھ ملاکر جینے والا شخص میں نے نہیں دیکھا ۔کچھ دن بعدپتہ چلاکہ وہ مزید علاج کے لئے اپنی ہمشیرہ کے پاس ممبئی لے جائے گئے تھے مگر رب ِ شاعر کواپنے یہاں حاضری منظور تھی ۔ علاج نہ ہوسکا۔ اسی مرض میں 29؍اگست 2015؁ء کومہربان رب کی بارگاہ میں روحِ شادماں نے حاضری دے دی ۔ جب کہ ممبئی(میراروڈ) کے قبرستان میںان کی تدفین عمل میں آئی   ؎
ؔآپ کا ہوکے کہاں جائے گا بیچارہ غریب
چاہنے والے کو اپنے سے جدا مت سمجھو
(حضرت رشید احمد رشیدؔ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے