ہمایوں اقبال ندوی
معاون مدرس، مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ
اردو انجمن ارریہ کی ماہانہ نشست ابھی ہفتہ عشرہ پہلے قلب شہر میں واقع سرسید لائبریری میں ہوئی ہے، جسمیں اردوزبان وادب کے فروغ سے متعلق مختلف فیصلے لیے گئے ہیں، انمیں ایک تجویز یہ لی گئی ہے کہ؛ "قلب شہر میں واقع صدر اسپتال کی عمارتوں میں اردو سائن بورڈ ندارد ہے،موجودہ سی ایس سے ملکر اس جانب ان کی توجہ مبذول کر اردو زبان میں بھی رہنمائی کے لیے سائن بورڈ لگوانا ہے،کسی دشواری کی صورت میں ضلع کلکٹیریٹ میں قائم اردو سیل سے رابطہ کرکے اس امر کو عملی جامہ پہنانا ہے”۔
انجمن اردو ارریہ کی طرف سے لیا گیا یہ فیصلہ واقعی قابل ستائش اور لائق تحسین ہے، اس عنوان پر اب تک شہر میں صرف چہ می گوئیاں سننے کو ملتی رہی ہیں کہ ارریہ کے مرکزی اسپتال میں دوسری سرکاری زبان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے باوجودیکہ یہ اردو دان کا علاقہ ہے،یہ اردو دشمنی ہے اور اس سے بیزاری کا اظہار ہے۔عملی طور پر کسی کی طرف سے کوئی پہل نہیں کی گئی ہے، ایسے میں انجمن اردو کے جملہ اراکین و ذمہ داران نے اپنے عملی اقدام سے ہمیں ممنون و مشکور بنادیا ہے، امید قوی ہے کہ عنقریب یہ کوشش برگ وبار لائے گی اور کامیابی سے ہمکنار ہوگی، ہم محبت کی اس زبان کو ہسپتال میں بھی آویزاں دیکھ کر شفایاب و باریاب ہوسکیں گے، ان شاء اللہ العزیز۔
ضلع ارریہ یہ اردو دان ہی نہیں بلکہ محبان اردو کا علاقہ ہے، پیار و محبت یہاں کے خمیر میں شامل ہے، ہر دھرم اور مذہب کے لوگ یہاں مل جل کر رہتے ہیں، شاید یہی بھائی چارہ کی وجہ کر اردو زبان کے گرویدہ اور دلدادہ یہاں زیادہ پائے جاتے ہیں، بچہ بچہ اردو بولتا ہے، بلکہ وہ بچہ یہاں پیارا کہلاتا ہے جو اردو بولتا ہے، شہر کی ایک معزز شخصیت جناب ماسٹر الحاج مشتاق صاحب سے میری ملاقات ہوئی، ان کے ساتھ ایک بچہ موجود تھا، میں نے پوچھ لیا کہ یہ کون ہے؟ بولے میرا پوتا ہے اور میرے ساتھ ہی رہتا ہے، اردو زبان ہی میں باتیں کرتا ہے، مجھے باوجود اس کے کہ میں اس کا دادا ہوں تم سے خطاب کرتا ہے، یہ بات مجھے بری نہیں لگتی ہے اس لیے کہ یہ بچہ اردو بولتا ہے۔
اردو سے عشق کی یہ انتہا ہے کہ اس زبان کے تم طراق کو بھی ارریہ والے خطاب سمجھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دوست کی برائی بھی ایک دوست کو بھلی معلوم ہوتی ہے، گویا اردو بولنے والا یہاں اپنی اس زبان کی وجہ کر دوست کی مانند ہو جاتا ہے۔
شہر میں کئی لوگوں کے ذاتی مکان میں جانے کا اتفاق رہتا ہے، میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ ایک ماں جب اپنے بچے کو پیار سے آواز دینا چاہتی ہے تو اردو میں بلاتی ہے، باپ جب شفقت پدری کی انتہا چاہتا ہے تو اردو کا دامن تھام لیتا ہے، ضلع کی ایک بڑی آبادی جو دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے اردو کی محبت میں شہر میں آکر بس گئی ہے،یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اس پیار ومحبت کی زبان اردو میں گفت وشنید کریں، یہ مزاج و ماحول شہر ارریہ میں بدرجہ اتم پایا جانے لگا ہے۔ میرے خیال میں اردو زبان کی مٹھاس اور شیرینی کی وجہ سے شہر میں بھائی چارہ کا ماحول بن گیا ہے، نیز محبت کی دکانیں کھل گئیں ہیں، خدا سلامت رکھے اور نگاہ بد سے حفاظت فرمائے، آمین
نزاکت ہے بہت اس میں مگر یہ جانتا ہوں میں
محبت جس کو ہو جاتی ہے اردو سیکھ جاتا ہے
جمعیت علماء ارریہ اور پیام انسانیت کے اسٹیج سے شہر میں کچھ کام کرنے کا ہمیں موقع ملا ہے، ضلع ارریہ کے ہندو بھائی بھی اس انسانیت کے پیغام کو عام کرنے میں شانہ بشانہ کھڑے رہتے ہیں،پیام انسانیت فورم ارریہ کے جنرل سکریٹری جناب مولانا مصور عالم صاحب ندوی ہیں تو صدر جناب دیویندر مشر جی سابق صدر بار ایسوسی ایشن ضلع ارریہ ہیں، علاوہ ازیں غیر مسلم بھائیوں کی ایک جماعت بھی پیام انسانیت کے کام میں پیش پیش رہتی ہے، جہاں بھی گفت وشنید اور رائے مشورہ کا موقع آتا ہے تو وہ اپنے مافی ضمیر کو ادا کرنے کے لئے اردو زبان کا ہی سہارا لیتے ہیں، پیام انسانیت کی ٹیم نے ارریہ ٹول پلازہ کے قریب واقع بیمار افراد کی بستی میں کام کرنا چاہا تو یہ بات سامنے آئی کہ لوگ اس جگہ کو "کشٹ روگی محلہ "کہنے ہیں،اس سے یہاں کے رہنے والوں کو قلبی تکلیف پہونچتی ہے، اس جگہ کا صحیح نام ” مدر ٹریسا نگر” ہے۔
مشورہ یہ ہوا کہ پیام انسانیت فورم کی طرف سے یہاں ایک سائن بورڈ لگنا چاہیے تاکہ لوگ صحیح نام سے اس بستی کو پکارا کریں۔ چنانچہ دیویندر مشر جی نے یہ کہا کہ پہلے اردو میں سائن بورڈ لکھئے، پھر بائیں طرف ہندی میں لکھوائیے، تاکہ اردو ہندی ایک ساتھ رہے، اور یہ گنگا جمنی تہذیب کا شاہکار رہے۔اس کی تائید موجود تمام اراکین فورم نے کی۔اس سے محسوس یہ ہوا کہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ قومی یکجہتی، امن و آشتی، پیار ومحبت اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اردو ایک ناگزیر شی ہے، اس کا برملا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں کہ اردو بول کر اور سن کر ہمیں بڑا اچھا لگتا ہے۔ بقول منیش شکلا ۰۰
بات کرنے کا حسیں طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا
شہر کے قلب میں واقع قدیم تاریخی ادارہ مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ ہے ،اس کے سامنے ادبی مجلس روزانہ منعقد ہوتی ہے اور اسے اہالیان ارریہ ادبی ڈھابہ سے موسوم کرتے ہیں، ہر شام یہاں اردو کے نام وقف ہوتی ہے، جناب رضی احمد تنہا، دین رضا اختر صاحب، رفیع حیدر انجم، پرویز عالم علیگ، ماسٹر فرمان علی فرمان، رہبان علی راکیش، ماسٹر ارشد انور الف، مولانا شاہد عادل قاسمی، عبدالغنی لبیب و دیگر محبان اردو یہاں جمع ہوتے ہیں، فروغ اردو کے لئےروز مشورے کئے جاتے ہیں، ابجد پرچہ جو ارریہ سے نکلا کرتا تھا وہ اسی ادبی ڈھابہ کے غور وفکر کا نتیجہ تھا۔ اردو شعر و شاعری بھی روز اس مجلس کی زینت ہوتی ہے، گرما گرم چائے کے ساتھ اردو کے چبھتے ہوئے اشعار سننے کو ملتے ہیں اور اس کی خوشبو پورے شہر میں ہم سبھی محسوس کرتے ہیں ۔
وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے
حالیہ کچھ سالوں سے ضلع ارریہ کے نوجوان شعراء کرام نے اردو کی بڑی خدمت کی ہے اور اس کے فروغ میں اپنے وقت کی قربانیاں پیش کی ہیں، سوشل میڈیا پر اشعار کی جھڑی لگی ہوئی ہے، اور باضابطہ مصنف بھی ہورہے ہیں، انمیں بطور خاص پیام حاضر کے مصنف عزیزی شاہی ارریاوی ،چشمہ رحمت کے ایڈیٹر جناب مفتی حسین احمد ہمدم، عبدالباری زخمی، خطیب حیدر، فیاض احمد راہئ، قاری قمرالزماں نعمانی، احمد اللہ معروفی، ، خورشید قمر، امان اللہ قمر قابل ذکر ہیں،بقیہ ارریہ کے کہنہ مشق شعراء کی بھی ایک لمبی فہرست ہے جو محتاج تعارف نہیں ہیں، بعض انمیں باحیات ہیں اور بعض اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں، سب کا احاطہ اس مختصر سی تحریر میں ممکن نہیں ہے،انمیں بطور خاص جسٹس زبیر الحسن غافل مرحوم، پروفیسر ہارون رشید غافل مرحوم، رئیس الخطاط جناب طارق بن ثاقب، دین رضا اختر، ڈاکٹر سالک اعظم، ڈاکٹر ایس آر جھا، شمش الہدی معصوم، مسیح الدین شازی، بیگانہ سارنوی، حشمت صدیقی، حامد حسین حامی، مولانا فیاض احمد فیضی قابل ذکر ہیں۔
صحافت کی دنیا میں سینئر صحافی جناب جمشید عادل صاحب علیگ ایڈیٹر اردو اخبار روزنامہ سچ کی آواز دہلی، و معروف و مشہور صحافی جناب عابد انور صاحب پورے ملک میں ارریہ کی نمائندگی کررہے ہیں وہیں مقامی طور پر مولانا مشتاق صاحب صدیقی، جناب مولانا جسیم الدین صاحب حسامی ،عبدالغنی صاحب لبیب، ساجد انجم، معراج خالد و دیگر احباب نمائندگی کرتے ہیں۔
معروف ادیب و نقاد حقانی القاسمی اسی ارریہ کی سرزمین کے سپوت ہیں، اردو زبان و ادب کی خدمت اور فروغ میں اپنی زندگی وقف کئے ہوئے ہیں۔
مگر سرکاری سطح پر جو اردو کے تعلق سے توجہ ہونی چاہئے اس میں کمی نظر آرہی ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے کلیکٹریٹ میں جو اردو سیل کا قیام عمل میں آیا ہے اس سے بہت حد تک اس کی تلافی ہوئی ہے، ضلع کلکٹر ارریہ محترمہ عنایت خان صاحبہ کی ادارت میں گلدستہ اردو کی اشاعت بلاناغہ ہر سال ہورہی ہے، اس سےاردو زبان کا فروغ سرکاری سطح پر ہورہا ہے،اسکول و مدارس کے طلبہ و طالبات کے مابین سالانہ تقریری و تحریری انعامی مسابقاتی بزم بھی آراستہ کی جارہی ہے، اس کے بڑے فوائد سامنے آرہے ہیں، اس حوالہ سے جناب تعظیم صاحب ندوی بہت ہی متحرک ہیں ان سب کا اعتراف کرتے ہوئے یہ گزارش بھی ہماری ہے کہ شہر کے مرکزی مقامات میں اردو کی نمائندگی نظر نہیں آتی ہے اور نہ اس عنوان پر کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے، جبکہ ریاست بہار کی دوسری سرکاری زبان بھی اردو ہے باوجود اس کے سرکاری سطح پر اس کی پذیرائی آٹے میں نمک کے برابر ہے، یہ ننگ و عار کی بات ہے۔ اس جانب خاص توجہ کی گزارش کی جاتی ہے۔
انتظامیہ کی ذمہ داری ضلع میں پیار و محبت اور بھائی چارہ کی فضا بھی قائم کرنا ہے اور اس کے لئے بھی اردو زبان سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ابھی مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ میں ضلع تعلیمی افسر جناب سنجے کمار جی تشریف لائے ہوئے تھے، ضلع بھر کے تمام مدارس ملحقہ کے مہتمم صاحبان میٹنگ میں موجود تھے، قانونی گفتگو انہیں کرنی تھی، جو ہوئی بھی، عموما ایسی مجالس خشک ہوا کرتی ہیں، مگر اپنی بات چیت کے ساتھ ڈی ای او صاحب نے غزل سے بھی حاضرین کو محفوظ کیا، پھر تو محفل زعفران زار ہوگئی اور پورا مجمع موصوف نے لوٹ لیا۔ یہ واقعی ایک ذمہ دار کا کام ہے اور ذمہ دارانہ کام ہے۔ اس جانب بھی توجہ مبذول کرانے کی ضرورت ہے۔
یقین مانو کہ اردو جو بول سکتا ہے
وہ پتھروں کا جگر بھی ٹٹول سکتا ہے
