سدھارتھ نگر

 میونسپل صدر کا انتخاب کا اعلان نومبر 2022 میں کیا گیا تھا مگر کچھ وجوہات کی بنا پر یہ انتخاب اپریل 2023 تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ نومبر میں انتخابات کا اعلان ہوتے ہی میونسپل صدر کے عہدہ کے دعویداروں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ بڑے بڑے پوسٹر اور بینر سڑکوں اور چوراہوں سے لے کر گلیوں اور کو چوں میں نظر آنے لگے۔مگر کچھ دن بعد ایسی اطلاع ملی کہ یہ سیٹ لیڈی سیٹ مقرر ہو گئی۔ ایسی خبر ملتے ہی تمام دعویداروں نے اپنے اپنے ناموں کے ساتھ اپنی اپنی اہلیہ کا نام منسلک کرتے ہوئے انتخابی میدان میں کودنے کا فیصلہ کر لیا۔

اِدھر گزشتہ ہفتے انتخابات کے اعلان میں میونسپل ہیڈ کوارٹر کی سیٹ کا اعلان ہوتے ہی ایک بار پھر نگر پالیکا کے چیئرمین کے دعویدار سامنے آنا شروع ہو گئےساتھ ہی کئی بڑے سیاسی پارٹیوں کے چہرے سامنے آ نے لگے۔ موجودہ دور میں کئی چہرے یہ کہتے ہوئے سامنے آ رہے ہیں کہ انہیں بی جے پی کی ریاستی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ ساتھ ہی کچھ امیدوار اپنا اپنا ٹکٹ کنفرم کرانے کی غرض سے دہلی کی جانب بھی کوچ کر چکے ہیں اور کچھ لکھنؤ میں ڈیرے جمائے بیٹھے ہیں۔

خبر کے مطابق میونسپل صدر کے عہدے کے لیے بی جے پی کی جانب سے موجودہ پارٹی صدر کا دعویٰ سامنے آرہا ہے۔ یہ خبر ملتے ہی بی جے پی کے حمایت یافتہ کئی امیدوار یہاں سے لکھنؤ اور دہلی کی طرف دوڑ بھاگ میں مصروف ہو گئے ہیں۔ ساتھ ہی ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ اب تک ایک مشہور و معروف امیدوار نے جو خود کو بی جے پی کا حمایت یافتہ امیدوار قرار دیا تھا اپنا نام کٹتا دیکھ کر براہ راست پارٹی ہائی کمان کی جانب اپنا ٹکٹ کنفرم کرانے کے لیے رخصت ہو چُکے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے سماج وادی پارٹی کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے۔ مگر سماجوادی پارٹی نے صاف طور سے اُن کے نام پر مہر لگانے سے انکار کر دیا ہے۔

مخصوص اطلاع کے مطابق پچھلے انتخابات میں سماج وادی پارٹی نے اس مقبول امیدوار کو اپنا امیدوار بنانے کو کہا تھا۔ لیکن تب انہوں نے انکار کر دیا تھا اور اب بی جے پی سے اپنی امیدواری کا خطرہ لاحق ہونے کے بعد وہ امسال سماج وادی پارٹی کا دامن تھامنے کو بیتاب نظر آ رہے ہیں مگر اس بار سماجوادی پارٹی نے اُن کی تمناؤں پر پانی پھیرتے اُنہیں اپنی پارٹی کا امیدوار بنائے جانے کولے کر صاف طور سے انکار کر دیا ہے۔

 اب دیکھنا یہ دلچسپ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں صدر کے انتخاب کی تصویر کب اور کس حد تک صاف ہو پاتی ہے۔ یہ بھی دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پچھلے نگر پا لیکا انتخابات میں شامل امیدوار کیا امسال بھی اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں سے متعلق اپنا بھروسہ اور اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کرنے میں کس حد درجہ تک کامیاب ہو سکتے ہیں۔

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے