از محمد نعمت اللہ ادریس ندوی

یہ یقینا بڑی خوش نصیبی ہے کہ اللہ ہم کو اپنے گھر بلائے اور حج کی سعادت کا موقع عنایت فرمائے اور اللہ ہمارے حج کو حج مبرور بنائے ،لیکن حج مبرور کسے کہتے ہیں اور اس کی کیا خصوصیات ہیں؟
حج مبرور اس حج کو کہتے ہیں جس کی ادائیگی کے دوران کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو، یہ بھی تعریف کی گئی ہے کہ حج مبرور وہ ہے جس میں شہوانی باتوں، فسق وفجور اور گناہوں سے اجتناب کے ساتھ ساتھ ریاکاری اور شہرت طلبی سے بچنے کا التزام کیا گیا ہو، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حج مبرور یہ ہے کہ لوگوں کو کھانا کھلائے، اچھی باتیں کرے اور کثرت سے سلام کرے۔
لیکن زیادہ صحیح بات علامہ قرطبی نے کہی ہے کہ حج مبرور کی تعریفوں میں جن صفات و خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے وہ تقریباہم معنی ہیں اوروہ حج وہی ہے جسے سارے احکام و آداب کی پابندیوںکے ساتھ مکمل طور پر انجام دیا گیا ہو(۱)۔ایساحجاللہ کے نزدیک مقبول حج ہوتا ہے اور اس پروہ اجر وانعامات مرتب ہوتے ہیںجن کی
۱ – ان تعریفات کے لئے دیکھئے: البخاری مع الفتح: حدیث نمبر ۲۶ اور ۱۵۱۹ کی تشریح کے ضمن میں ۔
بشارت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیثوں میں دی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں حج مبرور کا ثواب جنت بتاتے ہوئے یوں فرمایا:
’’العُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِّمَا بَیْنَھُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّۃُ ‘‘(۱)
( عمرہ ،اپنے سے پہلے والے عمرہ کے درمیانی عرصہ کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے اور حج مبرور کا اجر تو بس جنت ہی ہے )۔
دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج مبرور کو افضل اعمال میں شمار فرمایا ہے؛چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
’’َ أَنَّرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُئِل :أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ إِیْمَانٌ بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ،قِیْلَ:ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:الجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ، قِیْلَ:ثُمَّ،مَاذَا؟ قَالَ:حَجٌّ مَبْرُوْرٌ‘‘(۲)
( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیا کہ سب سے بہتر عمل کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ او ر اس کے رسول پرایمان، پوچھا گیا پھر کیا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب تھا : اللہ کے راستہ میں جہاد، عرض کیاگیا:پھر کیا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ارشاد ہوا:حج مبرور)۔
ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج مبرور کو عورتوں کا جہاد قراردیا ہے ، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت میں ہے کہ انھوں نے
۱- البخاری : ۱۷۷۳ و مسلم :۱۳۴۹، بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ۔۲- البخاری : ۲۶و مسلم :۸۳۔

پوچھا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ کیوں نہ آپ کے ساتھ غزوہ و جہاد میں شریک ہوں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا :
’’ لَکُنَّ َأَحْسَنَُ الْجِھَادِ وَأَجْمَلُہُ الْحَجُّ ،حَجٌّ مَبْرُوْرٌ‘‘(۱)
( تم لوگوں کے لئے سب سے اچھا اور بہتر جہاد حج ہے جو کہ حج مبرور ہو)۔
اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ وہ حج مبرور جس کا اتنا ثواب اور اتنی فضیلتیں ہیں وہ کیسے ممکن ہے اور اس کی کیا شرائط ہیں؟
حج مبرور کی ادائیگی کے لئے جن امور کو برتنا لازمی ہے وہ یہ ہیں:
سچی توبہ ، رفع مظالم، ما ل حلال،اخلاص نیت، ضروری مسائل حج کا علم اور ان پر عمل ،طریقہ نبوی کی اتباع کی فکر،گناہوں اور نافرمانیوں سے مکمل پرہیز، ذکر وتلبیہ میں مشغولیت ،حدود حرم کے تقدس کا خیال او ر اس کی پامالی سے اجتناب ، قیام مکہ کے دوران اس کی عظمت و اہمیت کا استحضاراور ایسے قول وعمل سے احتراز جو اس کے احترام کے منافی ہو ،تاریخی یامقدس مقامات کی زیارتوں کے دوران شرک و بدعات کے ارتکاب سے پہلو تہی ،خوش خلقی اور حسن سلوک۔
ان کی تفصیل یہ ہے کہ جب مسلمان حج کے سفر کا ارادہ کرے تو اسکو چاہئے کہ اپنے گھر والوں اور دوستوں کو اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرے، یعنی اللہ کے احکامات پر عمل کرنے اور نواہی سے بچنے کی تاکید کرے۔پھر اس کا یا اس کے ذمہ جتنا قرض ہو اس کو لکھ ڈالے اور اس پر گواہ بنادے ۔یہ بھی ضروری ہے کہ قاصد حج تمام گناہوں سے سچی توبہ کرے ،فرمان الہی ہے:
’’وَتُوْبُوْا إِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا أَیُّھَا الْمُؤْمِنُوْنَ،لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ‘‘(۲)
(اے ایمان والو !تم سب اللہ سے توبہ کرو تا کہ فلاح پائو )۔
۱ – البخاری ( ۱۸۶۱)۔ ۲ – النور : ۳۱ ۔
اور سچی توبہ کا تقاضا یہ ہے کہ اگر لوگوں کا کسی طرح کا حق اس کے ذمہ ہو یا ظالمانہ طور پر لے لیا ہو ،تو اسے سفر سے پہلے واپس کر دے ، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
’’مَنْ کَانَتْلَہُ مَظْلَمَۃٌ لِأَخِیْہِ مِنْ عِرْضِہٖ أَوْ شَيْئٌ فَلْیَتَحَلَّلْہُ مِنْہُ الْیَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا یَکُوْنَ دِیْنَارٌوَلَا دِرْہَمٌ، إِنْ کَانَ لَہُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْہُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِہٖ ، وَ ِإنْ لَمْ تَکُنْ لَہُ حَسَنَاتٌ، أُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ صَاحِبِہٖ، فَحُمِلَ عَلَیْہِ ‘‘ (۱)
(جس شخص کے پاس اس کے بھائی کے آبرو یا کسی بھی چیز کا کوئی حق باقی ہو تو اس سے اس دن کے آنے سے پہلے بری الذمہ ہوجائے،جس دن نہ درہم ہو گا نہ دینا ربلکہ اگر اس کے پاس عمل صالح ہو گا تو اس میں سے صاحب حق کواس کے حق کے بقدر دے دیا جائے گا ، اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہیں ہوں گی تو مظلوم کے گناہ کا اتنا ہیحصہ لے کر اس پر لاد دیا جائے گا)۔
حج کے لئے کمائی حلال اور پاکیزہ ہو ،اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا ہے:
’’ إِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ،لَا یَقْبَلُ إِلَّا طَیِّبًا ‘‘(۲)
(اللہ تعالی پاکیزہ ہے ، پاکیزہ ہی چیز کو قبول کرتاہے )۔
حاجی کو چاہئے کہ اپنے حج سے اللہ کی رضا اور دار آخرت کی فلاح کا طالب ہو، اور مقدس مقامات میں ایسے اقوال و اعمال سے اللہ کا تقرب چاہے جو اللہ کوپسند ہوں، حج کے ذریعہ دنیا کمانا مقصد نہ ہو، نہ ہی ریا ،شہرت اور فخر ومباہات کی
۱- البخاری(۲۴۴۹)،بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ ۲ – مسلم (۱۰۱۵) بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ۔

خواہش رکھے، کیونکہ یہ سب بدترین مقاصد ہیںاور اعمال کی بربادی اورعدم قبولیت کا سبب ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے:
’’أَنا أَغْنَی الشُّرَکَائِ عَنِ الشِّرْکِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلاً أَشْرَکَ فِیْہِ مَعِيْ غَیْرِیْ، تَرَکْتُہُ وَ شِرْکَہُ‘‘(۱)
(میںتمام شریکوںمیں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں، جس نے بھی کسی عمل میں میرے ساتھ کسی غیر کو شرک کیا ، تو میں اس کواس کے شرک کے حوالہ کر دیتا ہوں )۔
حج مبرور کے طالب حاجی کو چاہئے کہ اپنے سفر میں صاحب تقوی اور عالم دین کی صحبت اختیار کرے ؛تا کہ وہ مناسک حج کو اچھی طرح سیکھ لے،مشکل مسائل کو خوب سمجھ لے اور اپنا حج پوری دینی بصیرت کے ساتھ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے مطابق ادا کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اعمال حج کی تعلیم دیتے ہوئے تاکید فرمائی:
’’خُذُوْا عَنِّیْ مَنَاسِکَکُمْ‘‘ (۲)(ہم سے اپنے حج کے مناسک سیکھ لو)۔
حج مبرور کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ حاجی مناسک حج کو بحسن تمام انجام دینے کے علاوہ ،پورے سفر میں کثرت سے ذکر واستغفار کرے ، دعا اور گریہ وزاری کے ذریعہ گناہوں کی معافی چاہے، قرآن کی تلاوت اور اس کے معانی پر غورکو شیوہ
بنائے، نماز با جماعت کا اہتمام کرے،جھوٹ غیبت اور بدکلامی سے اپنی زبان کی حفاظت کرے، رفقاء سفر اور دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرے، ان کے کام آئے
۱ – مسلم : (۲۹۸۵) ، بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ۔ ۲ – البیہقی : باب الإیضاع فی وادی محسر ، جماع أبواب دخول مکۃ ( ۹۵۳۲- مکتبۃ الحدیث الشریف)، بروایت جابر رضی اللہ عنہ اور مسلم میں اس کی رویت ’’ لتأخذوا مناسککم ‘‘ کے الفاظ سے ہے ، دیکھئے : مسلم ( ۱۲۹۷) ۔
ضرورت ومصیبت کے وقت ان کی مدد کرے ،خوش اسلوبی کے ساتھ انہیں اچھی بات کا حکم دے اور برائیوں سے روکے ،جھگڑے ، فساد،ترش روئی سے خود بھی بچے اور ان کو بھی بچائے، تقوی اور خوف خدا کوہمیشہ ملحوظ رکھے اور اس سے غفلت نہ برتے ۔ غرضے کہ سورۂ بقرہ میں حاجیوں کو دوران حج جن اوامر و نواہی کو بجا لانے کی ہدایت دی گئی ہے ان کی پوری پابندی کرے ۔ فرمان الہی ہے :
’’ الحَجُّّ أَشْہُرٌ مَّعْلُوْمَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِیْہِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَافُسُوْقَ وَ لَاجِدَالَ فِی الْحَجِّ، وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ، وَ تَزَوَّدُوْا فَإِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی،وَاتَّقُوْنِ یٰا أُوْلِی الْأَلْبَابِ ‘‘(۱)
(حج کے مہینے مقرر ہیں اس لئے جو شخص ان میں حج لازم کرلے وہ اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے ، گناہ کرنے اور لڑائی جھگڑا کرنے سے بچتا رہے، تم جو نیکی کروگے اس سے اللہ تعالی باخبر ہے اور اس کے لئے تقوی بطور زاد راہ اختیار کرو ، بہترین زادراہ تقوی ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو) ۔
اگر مذکورہ شرائط وآداب کی پابندی کرتے ہوئے حج ادا کیا گیا تو یقینا وہ حج ، حج مبرور ہو گا ،جس کی علامتوں میں بقول حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ یہ ہے کہ حاجی جب حج سے لوٹ کر آئے ، تو وہ دنیا سے بے رغبت ہو کر اپنی آخرت سنوارنے میں لگا رہے(۲)۔
اللہ تعالی ہم سب کو اپنے گھر کی زیارت سے شرف یاف فرمائے اور حج مبرور کی توفیق سے نوازے۔آمین
خ خ خ
۱- البقرۃ : ۱۹۷ ۔ ۲ – دیکھئے : الجامع لأحکام القرآن از قرطبی ، آیت بالا کی تفسیر کے ضمن میں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے