سرکاری مشینری کی ہمدردی بجرنگی غنڈوں کیلئے بن گئی آکسیجن: سینئر ایڈوکیٹ محمد علی
سہارنپور(احمد رضا): ملک بھر میں اس سال کے شروع ہوتے ہیں مسلم افراد کے ساتھ گالی گلو چ اور مار پیٹ کے واقعات اب عام ہو چکے ہیں قابل احترامِ سپریم کورٹ کی سخت ترین ہدایت کے بعد بھی نفرت اور مسلم مخالف اشتعال انگیز نعروں کی بہتات عام ہے ہندو دہشت پسندوں کو کوئی روکنے والا نہی کل ہی پا غپٹ پولیس نے بلاوجہ ساجد عباسی نام کے 25 سالہ نوجوان کو محلہ کے سامنے بری طرح سے مارا پیٹا اور جب ساجد بیہوش ہوگیا تو پولیس والے مسلم نوجوان کو گھر کے باہر چھوڑ کر بھاگ گئے مگر قاتلوں کو خوف کیوں ہو جبکہ سرکار انکی پشت پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے ظاہر ہے کہ سازش مسلم طبقہ کے خلاف مسلم طبقہ کو تباہ اور برباد کرنے کے لئے پولیس کہ شہ پر ملک بھر میں جاری ہے!سینئر ایڈوکیٹ اور سوشل قائد محمد علی نے کہا ہے گذشتہ ہفتہ جس طرح سے مدھیہ پردیش کے علاقہ شیو پوری میں ایک مسافر نظر علی کے اہل خانہ پر بجرنگی غنڈوں نے قاتلانہ حملہ کیا گیا اور مسلم مرد اور خواتین کو پٹتا ہوا دیکھ پولیس اور راہگیر تماشائی بنے رہے آور جس طرح کرنال کی ایک مسجد میں گھس کر امام صاحب سے مارپیٹ کی اور مسجد میں مورتی نصب کرنے کی وارننگ دی اور جس طرح سے بقرعید سے ایک دن قبل ممبئی کے میرا روڈ کے ایک ساکن حسن شیخ اور اسکے گھروالوں کے خلاف بجرنگی غنڈوں نے حملہ بولا ٹھیک اسی طرح سے کھنڈوا مدھیہ پردیش میں بجرنگی غنڈوں نے کل دو مسلم افراد کو رسہ سے باندھ کر بری طرح سے مارا پیٹا اور اسی روز اڈ یسہ کے بھونیشعر میں وزیر اعلیٰ کے بنگلے سے کچھ دور ایک مسلم شخص کو پکڑا اور جے شری رام کے نعرے لگا نے کو جب اسنے منع کیا تو اس پر بری طرح سے لاٹھیاں بر سائی کچھہ روز قبل ممبئی کے ایک علاقہ میں چار مسلم افراد پر جا نلیواحملہ جسمیں 2 مسلم افراد ہلاک ہوئے جبکہ 2 بری طرح سے مجروح ہیں کل چھپرا کے گاؤں جلال پور میں مسلم اپاہج ظہیر الدین کو ہندو دہشت پسند افراد نے جے شری رام کے نعروں کی گونج کے درمیان بری طرح سے مجروح کردیا جہاں وہ زندگی موت سے جوجھ رہا حیرت کی بات ہے کہ جب دہشت گرد ظہیر الدین کو مار رہے تھے تبھی وہاں موجود پو لس اہلکار موقعے سے بھاگ گئےاور قاتلوں کو ظہیر الدین پر ظلم اور جبر ڈھانے کی چھوٹ دے دی اس طرح سے روزا نہ کی جانے والی شرمناک وارداتیں اس بات کا اشارہ ہے کہ اب مسلم طبقہ کو ہوشیار رہنا ہوگا اپنی جان مال اور عزت آبرو کی حفاظت آپ کو خد ہی کر نی ہوگی موت کا ایک دن حق ہے پھر غلام کی موت مرنے سے کیا حاصل! جو کچھ ظلم اور بربریت کے واقعات یہاں لکھے گئے ہیں ملک میں اس سے بھی زیادہ واقعات روز بروز مسلم طبقہ پر کئے جانے کی اطلاعات اب عام ہو نے لگی ہیں یاد رہے کہ ان دنوں اترا کھنڈ ،مہاراشٹرا ،راجستان اور اب ہماچل پردیش کے کلو (Kullu)علاقہ میں بھی لگاتار مسلم طبقہ کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر اور نعرہ بازی اور جانی مالی نقصان پہنچا نے کی نیت سے بڑے حملہ کئے جا رہی ہے واضع ہو کہ جس طرح سے کچھ دن کے وقفہ کے دوران ممبئی کے ناسک ضلع میں بے خوف ہوکر چار مسلم افراد کو ہندو شدت پسند تنظیم کے افراد نے ہجو می تشدد کے ذریعہ ذبردست جانی اور مالی نقصان پہنچا یا جس کے نتیجے میں دو مسلم افراد ہلاک ہوگئے اور دو شدید ترین چوٹوں سے لڑ رہے ہیں ان حملوں کی جس قدر بھی مذمت کی جاۓ وہ کم ہے، ہندو دہشت گردوں کے حملہ میں عفان عبدالمجید انصاری اور ناصر قریشی بری طرح سے مجروح ہوئے ہیں کچھہ دیر بعد عفان انصاری نے موقعے پر ہی تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا ہے جبکہ ناصر اسپتال میں زیر علاج زندگی اور موت کے بیچ سانسیں لے رہا ہے اس واردات سے قبل بھی یہاں دو مسلم افراد پر اسی طرح سے حملہ کیا گیا تھا جسمیں لقمان انصاری نے بھی موقعے پر تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا تھا ہنگامہ کے بعد پولیس اہلکار معمولی سی سرگرمی دکھاتے ہیں اور مسلم طبقہ کو ہی خوف دلاتے ہیں تاکہ ہندو دہشت گردوں کو بچا یا جا سکے! صابر علی خان نے صاف صاف کہا کہ ملک میں جہاں ہندو فرقہ کے دہشت پسند نامزد قاتل افراد کو کھلا چھوڑ ا گیا ہے وہیں بے قصور مسلم نوجوان لوجہاد , گئو کشی اور اشتعال انگیز تقاریر کے جھوٹے الزامات میں لمبے عرصے سے سے جیلو ں میں بند ہیں ہریانہ اور راجستان کے مافیا مسلم طبقہ کے افراد کے کلیدی قاتل مونو ما نیسر بجرنگ دل کا سرگرم لیڈر ہے جبکہ مسلم نوجوان اوسط درجہ کے مظلوم شہری ہیں مزے دار بات یہ ہے کہ مونو کے خلاف بھوانی ہریانہ میں ایف آئی آر درج ہے وہیں راجستان پولیس کی فہرست میں بھی مونو نامزد ہے مگر کافی وقت کا عرصہ بیت گیا ہے دونو ں ریاست کے پولیس اہلکار قاتل مونو کو گرفتار نہیں کر سکے واضع ہو کہ مونو ما نیسر اور اسکے ساتھیوں نے ناصر اور جنید دو مسلم افراد کو بری طرح سے مجروح کرتے ہوئے انکو بلیرو سمیت پیٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیا تھا مگر آج تک اصل قاتل آزاد چھوڑ ے ہوئے ہیں جبکہ بے قصور مسلم نوجوان بے قصور ہونے کے باوجود بھی پچہلے ایک ہزار دنوں سے جیل میں مصیبتوں برداشت کر رہا ہے بجرنگ دل کے قاتل افراد کے خلاف مقدمہ درج کئے جانے سے تلملائے بجرنگ دل کے دہشت پسند افراد نے لگاتار زبردست احتجاج کیا اور قاتلوں کو آذاد کئے جانے کی مانگ کی مٹھی بھر مظاہرین نے گہلوت حکومت کیخلاف اشتعال انگیز نعرہ لگا ئے اور گھلوت سرکار سے معافی مانگتے کی مانگ دہراۓ مگر پولیس نے کوئی معاملہ دہشت پسند افراد کے خلاف قائم نہی کیا وشو ہندو پریشد اعلانیہ کلو میں مسلم افراد کے خلاف مار کاٹ کر نے کے لئے ہندؤں کو اکسانے پر بضد ہے اس طرح کی سیکڑوں مثالیں ملک کے بیشتر علاقوں میں روز بروز دیکھنے اور سننے کو مل رہی ہیں مگر ہندو مجرمین کے خلاف پولیس سخت کارروائی کر نے سے بچتی آرہی ہے جبکہ بے قصور مسلم طبقہ کے خلاف بلڈوزر چلانے اور انکو بری طرح سے زرد کوب کر جیل میں ڈال نے سے ذرہ برابر بھی نہی ہچکچا تی ہے اس طرح کا ماحول آج ملک کی بیشتر ریاستوں میں تیزی سے پنپ رہا ہے جبکہ قابل احترام عدلیہ اور سیکولر نظریات والے افراد بھی مسلم افراد کی تباہی پر تماشائی بنے ہوئے ہیں!

ان سب کے زمیدار ہم خود ہیں
اتنا سب کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے اور ہمارے رہنما صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں
لعنت ہو ایسی قوم پر
ہم اسی کے مستحق ہیں