میرؔ بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
جب بھی کردار نکھارے جائیں
سارے شہکار حوالے جائیں
چاہے جتنے ہوں جمائے جائیں
پھر ترے یار پکارے جائیں
اک مسافر کے لئے ہوں روشن
ان ستاروں کو بجھاتے جائیں
گِرسکیں جس سے سبھی دیواریں
ایسے کچھ تیر چلائے جائیں
وہ تومحفل میں قدم رنجہ ہوا
ہاتھ اس سے بھی مِلاکے جائیں
ذہن ودل دیکھتے رہتے ہیں میرؔ
خواب کیوں کر وہ سلائے جائیں
