ڈاکٹر دلشاد گورکھپوری
میری چاہت دور ہو کر دیکھتے۔
مجھ کو پانا تھا توکھوکر دیکھتے۔
داستانِ عشق لکھنا تھا اگر۔
انگلیاں خوں میں ڈبو کر دیکھتے۔
نیند کو کیوں کہہ دیا ایک مسئلہ
زلف کے سائے میں سو کر دیکھتے۔
تم کو درویشی کی مل جاتی سند۔
مار کر دولت کو ٹھوکر دیکھتے۔۔
بات تو جب تھی جہانِ سنگ میں۔
سورتِ آئینہ ہو کر دیکھتے۔
کیف ِروحانی کے طالب تھے اگر
دوسروں کے غم میں رو کر دیکھتے۔
خود ہی اگ آتا تمنا کا شجر۔
بیج تو مٹی میں بوکر دیکھتے۔
پھول جو بکھرے ہوئے ہیں باغ میں۔
ان کو لڑیوں میں پرو کر دیکھتے ۔
کوئی بھی رہتا نہ پھر دامن میں داغ ۔
آنسوؤں سے ان کو دھو کر دیکھتے۔
درد کے احساس سے دلشاد آپ۔
اپنی آنکھوں کو بھگو کر دیکھتے۔
…गजल…
मेरी चाहत दूर होकर देखते
मुझको पाना था तो खो कर देखते
दास्तान ए इश्क लिखना था अगर
उंगलीयां खुं में डुबोकर देखते
नींद को क्यों कह दिया एक मसअला
जुल्फ के साए में साे कर देखते
तुम काे दु्वेशी की मिल जाती सनद
मारकर दौलत को ठोकर देखते
बात तो जब थी जहांने संग में
सूरते आईना होकर देखते
कैफे रूहानी के तालिब थे अगर
दूसरों के गम में रो कर देखते
खुद ही उग आता तमन्ना का शजर
बीज तो मिट्टी में बाे कर देखते
फूल जो बिखरे हुए हैं बाग में
उनको लड़कियों में पिरो कर देखते
कोई भी रहता ना फिर दामन में दाग
आंसुओं से उनको धोकर देखते
दर्द के एहसास से दिलशाद आप
अपनी आंखों को भिगोकर देखते
डॉ. दिलशाद गोरखपुरी
