اسماعیل قمر بستوی
عزم جانِ وفا سے ملتا ہے
ابنِ شیرِ خدا سے ملتا ہے
رکھو آلِ رسول سے نسبت
کبریا اس پتہ سے ملتا ہے
آج بھی ہے حسین کا جلوہ
یہ پتہ تذکرہ سے ملتا ہے
سر جھکے نہ یزید کے آگے
درس یہ کربلا سے ملتا ہے
مرتبہ یہ مِرے حسین کا ہے
رخ مِرے مصطفےٰ سے ملتا ہے
ناز کر خاکِ کربلا خود پہ
حق ترے راستہ سے ملتا ہے
جس سے ہے دشتِ نینوا مہکا
یہ نصیبہ خدا سے ملتا ہے
اے قمر غم وہی حسین کاہے
جو چراغِ حرا سے ملتا ہے
