اسماعیل قمر بستوی
سامنے ہو جب باطل کربلا ضروری ہے
اک وفا پرستوں کا مورچہ ضروری ہے
اقتدار پہ قابض جب یزید ہو کوئی
سر رہے یا کٹ جائے معرکہ ضروری ہے
جب کسی کے چہرے پہ گرد ہو جمی شاعر
تب اسے دکھانا بھی آئینہ ضروری ہے
ہر صدی، زمانے میں منصفی رہے زندہ
اک حسین کے جیسا رہنما ضروری ہے
حق پہ رہ کے مرجانا زندگی سے ہے بہتر
سب کو یہ دکھانا بھی راستہ ضروری ہے
گھر کا گھر لٹا ڈالا کیوں حسین نے آخر
جاننا زمانے کو واقعہ ضروری ہے
اے قمر زمانے میں سچ کا بول بالا ہو
اسوۂ حسینی کا تذکرہ ضروری ہے
