اسماعیل قمر بستوی

 ہراک کی ہے زبان پہ چرچہ حسین کا

ہے آج بھی جہان میں جلوہ حسین کا

کردار سے دلوں میں سمائے ہیں اس طرح

چلتا ہو جیسے آج بھی سکہ حسین کا

دستِ یزید پر نہیں بیعت کئے حسین

سب کو پسند آیا یہ اسوہ حسین کا

جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں حسین

اتنا بلند ہے مرے رتبہ حسین کا

پڑھتا ہوں میں زبانِ عقیدت سے صبح وشام

جیسے رکھا ہو رحل پہ چہرہ حسین کا

ان کو گئے جہان سے صدیاں گزر گئیں

پھر بھی ہے اس جہان میں چرچہ حسین کا

عشاق ظاہری ہی سہی اور بھی تو ہیں

مومن فقط ہی تھوڑی ہے شیدا حسین کا

مقبول بارگاہِ خدا میں ہو اے قمر !

ممبر سے پڑھ رہا ہوں میں خطبہ حسین کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے