محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔ موبائل :9141815923

۱۔ رہنمالوگ
ہم سب مرچکے تھے اور جوبچے ہوئے زندہ لوگ تھے وہ کہیں نہ کہیں رہنمائی کافریضہ انجام دے رہے تھے لیکن وہ ہماری آنکھوں سے اوجھل تھے۔

۲۔ تحفۂ عذاب
ہراک جانب کپڑوں سے بے نیاز جسم تھے اور آنکھوں نے حیا کھودی تھی اور یہ اس قوم کیلئے تحفہ ء عذاب تھا۔

۳۔ شیطان کی حاضری
اس نے اچانک ہی مسئلہ اٹھایا ۔ وہاں موجود ایک خاص طبقہ کے لوگ اس کی ذہانت اور بے باک نمائندگی کے قائل ہوگئے۔ اور فیصلہ کیاگیاکہ طئے شدہ وقت پرہم نہیں پہنچیں گے کیوں کہ وہاں جانے سے ہم ان ہی لوگوں کے حامی کہلائیں گے۔اس شخص نے مسئلہ اٹھاکر ہماری آنکھیں فوری طورپر کھول دی ہیں۔ وہ اپنے فیصلہ پر اٹل رہے اور مطلوبہ مقام پر نہیں گئے۔ تین دن بعد ایک موڑپر دونوں دوستوں کی اچانک مسئلہ اٹھانے والے رہنما سے ملاقات ہوگئی۔ اسی رہنما نے ان سے پوچھا ’’آپ وہاں نہیں پہنچے جہاں بلایاگیاتھا‘‘دونوں دوستوں کوحیرت ہوئی۔ ایک نے دھڑکتے دل سے پوچھا’’آپ گئے تھے ‘‘ مسئلہ اٹھانے والے شخص نے کہا’’ہاں ! میں وہاں حاضرتھا‘‘
دوسرے دوست نے دبے لفظوں میں کہا’’ہمیں اپناشیدائی بناکر دوسری جانب شیطان نے آخر حاضری لگاہی دی ، شیطان کبھی اپنی رسوائی نہیں چاہتا‘‘

۴۔ مصنف کا جواب
’’کیوں لکھتے ہو؟‘‘ اس سے پھرایک بار پوچھاگیا۔ پوچھنے والی لڑکی کچھ زیادہ ہی حسین تھی۔ اس نے کہا’’میراپریم چند یا کرشن چندر سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ امرتاپریتم کو تو میں نے پڑھاہی نہیں ہے، ابن صفی اور ممتازمفتی کو پڑھاضرورہے لیکن وہ بہت اونچے پائے کے مصنفین ہیں‘‘
’’پھر؟‘‘ لڑکی کی نیلی نیلی آنکھوں میں سوال تھا۔
’’پھرپھر اکریہی کہاجاسکتاہے کہ لکھتااس لئے ہوں کہ میراخالق ومالک مجھ سے راضی ہوجائے ‘‘ مصنف کے جواب سے لڑکی مطمئن نظر نہیں آئی۔

۵۔ مالک
روز پانچ وقت اذان ہورہی تھی اور حقیقت میں کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس اذان کامقصد کیاہے۔ مقصد گم گشتہ لوگ جی رہے تھے اور وہی لوگ ایمان ، اسلام، روزہ ، زکوٰۃ ، حج اور اذان کے سیاہ وسفید کے مالک بھی تھے۔

۶۔ ضرورت کا تعلق
ضرورت آن پڑی تو فون پر فون آنے لگے۔ یہ سلسلہ پانچ چھ دن تک چلتارہا۔ اور جب ضرورت ختم ہوگئی تو موبائل کی گھنٹی بج نہ سکی۔ اس کو شدت سیغصہ آگیا۔ لیکن اس کے ضمیرنے اس کو سمجھایاکہ بلاضرورت بات چیت یاملنا ملانا درست نہیں۔ ضرورت کے تحت ہی ملنازندگی کااصول ہے۔ کیوں کہ زندگی کوئی تفریح کیلئے نہیں دی گئی ہے۔ دنیا میں جو کچھ کروگے اس کا حساب لیا جائے گا۔
اس کاغصہ دھیرے دھیرے کم ہونے لگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے