ان چراغوں کو تو جلنا ہے، ہوا جیسی ہو
ظلم کی رات کو ڈھلنا ہے ، فضا جیسی ہو
اپنے زخموں کو سجائے ہوئے تاروں کی طرح
پھر سے سورج کو نکلنا ہے ،گھٹا جیسی ہو
ہمیں اس دشت پہ چلنا ہے، فنا جیسی ہو
ان چراغوں کو تو جلنا ہے ہوا جیسی ہو
ان شاءاللہ
شاعر نامعلوم
ان چراغوں کو تو جلنا ہے، ہوا جیسی ہو
ظلم کی رات کو ڈھلنا ہے ، فضا جیسی ہو
اپنے زخموں کو سجائے ہوئے تاروں کی طرح
پھر سے سورج کو نکلنا ہے ،گھٹا جیسی ہو
ہمیں اس دشت پہ چلنا ہے، فنا جیسی ہو
ان چراغوں کو تو جلنا ہے ہوا جیسی ہو
ان شاءاللہ
شاعر نامعلوم