غیر امداد یافتہ پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے صدر انل اگروال نے اعلان کیا ہے کہ منگل (8 اگست) کو یوپی میں سبھی بورڈ کے نجی اسکول کالج بند رہیں گے۔

اعظم گڑھ: اتر پردیش کے اعظم گڑھ میں چلڈرن گرلز اسکول کی پرنسپل اور ٹیچر کی ضمانت عرضی کو مسترد کرنے کے خلاف ریاست کی غیر امدادی پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن نے ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ غیر امدادی پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے منگل (8 اگست) کو تمام نجی اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ 31 جولائی کو اعظم گڑھ کے ہربنش پور میں واقع چلڈرن گرلز اسکول کی طالبہ شریا تیواری کی اسکول میں موت کے بعد خاندان والوں کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد پولیس نے پرنسپل سونم مشرا اور کلاس ٹیچر ابھیشیک رائے کو جیل بھیج دیا۔

پیر کو دونوں کی ضمانت مسترد ہونے کے بعد ان ایڈیڈ پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن نے منگل کو پوری ریاست میں پرائیویٹ اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غیر امدادی پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر انیل اگروال نے اعلان کیا ہے کہ منگل کو یوپی کے تمام بورڈز کے پرائیویٹ اسکول کالج بند رہیں گے، لیکن اساتذہ اپنے اسکول؍ کالج پہنچیں گے۔ کالج میں طالبہ کی موت پر اساتذہ تعزیتی اجلاس منعقد کریں گے۔ اس دوران اساتذہ سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کریں گے۔

ایسوسی ایشن نے بچوں کے والدین پر بھی اٹھائے سوالات:

ایسوسی ایشن کے صدر نے یہ بھی کہا کہ اس قسم کی بات درست نہیں ہے اور جس طرح سے ایک ٹیچر اور سکول کے پرنسپل کو دفعہ 306 کے تحت جیل بھیجا گیا ہے وہ بھی غیر منصفانہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے جو کارروائی کی گئی ہے وہ بھی درست نہیں ہے۔ ایسوسی ایشن نے بچوں کے والدین پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ والدین ہی اپنے بچوں کو موبائل فون دیتے ہیں جس کا بچے غلط استعمال کرتے ہیں اور آج والدین کسی بھی اسکول میں چھوٹی چھوٹی بات پر ایف آئی آر درج کرانے کی دھمکی دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کے سچائی کی تحقیقات کی جائے۔ جن لوگوں کو جیل بھیجا گیا ہے اگر وہ قصوروار پائے جائیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے بصورت دیگر پرنسپل اور ٹیچر کو فوری رہا کیا جائے۔

ایس پی انوراگ آریہ کا کہنا ہے:

اس معاملے پر ایس پی انوراگ آریہ کا کہنا ہے کہ شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی گئی ہے۔ اسکول کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں طالبہ کو پہلے پرنسپل کے کمرے میں 30 سے ​​40 منٹ تک کھڑا دیکھا گیا ہے۔ اس کے بعد طالبہ 30 سے ​​40 منٹ تک پرنسپل کے کمرے کے باہر کھڑی نظر آتی ہے اور پھر اس کے بعد اچانک اسکول کی چھت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لیتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسکول انتظامیہ نے جس طرح شواہد مٹانے کا کام کیا ہے، خون کے داغ دھبوں کو مٹانے کا کام کیا ہے، اس سے ان کی نیت پر شک اور بھی گہرا ہوتا ہے۔ فی الحال انہیں شواہد کی بنیاد پر گرفتاری کی گئی ہے۔ معاملے کی تحقیقات قانون کے دائرے میں رہ کر کا جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے