اسماعیل قمر بستوی

 

ملتا رہے ظلمت میں مسافر کو اجالا

رستے پہ دیا کوئی جلا کیوں نہیں دیتے

نفرت سے کبھی دوستو نفرت نہیں مٹتی

نفرت کو محبت سے مٹا کیوں نہیں دیتے

ساتھ جب تک کہ لین دین نہ ہو

آدمی کا پتہ نہیں ملتا

کوئی غلطی نہیں نصیب کی ہے

خود لکھو کچھ لکھا نہیں ملتا

جب کسی سے بھی ملو اتنی محبت سے ملو

مدتوں بعد کوئی دوست ملا ہو جیسے

سانس لینے کا ہے محتاج مگر اتنا غرور

اس نئے دور کا انسان خدا ہو جیسے

وہی ہے اپنا برے وقت پہ جو کام آئے

زبانی یار تو دنیا میں بےشمار ملے

ہر ایک موڑ پہ دشمن کو کر دیا پسپا

قمر کی پیٹھ پہ اپنوں کے صرف وار ملے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے