کتبہ: محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی
یہ سب کو معلوم ہے کہ عربی مدارس میں عموما غریب ومسکین طلباء ايتام اور مفلس ہی آتے ہیں اگر ان پراس طرح کی اونچی فیس مسلط کردی جائے تو دینی تعلیم وتربیت کا کیا حشر ہوگا ۔ یہ تو مستقبل کامؤرخ ہی بتاۓ گا ،کورونا کے بعد کا منظرنامہ انتہائی افسوس ناک ہے آہستہ آہستہ ادارے ویران ہوتے جارہے ہیں ،اوردینی تعلیم کا رجحان کم ہوتا جارہاہے ، جو لوگ اپنی اولاد کی دینی تعلیم وتربیت کا خرچ اٹھا سکتے ہیں ان کو آمادہ کرکے ان سے خرچ لی جاۓ تو یہ الگ بات ہے ، لیکن عام قاعدہ جو بنادیا گیا ہے وہ بہت افسوسناک ہے ، کبھی کبھی ایسا لگتاہے کہ اونچی اونچی لمبی لمبی فیس وصولی کو ایک منفعت بخش تجارت بنا لیا گیا ہے ، (اللہ کرۓ ایسا نہ ہو )یہ گذارشات ہم اس لئیے کررہے ہیں کہ بہت سارے پریشان حال دوستوں اور عزیزوں اور ان کے سرپرستوں نے اپنا حال زار بیان کیا ہے ۔ غریب سرپرست کی کمر ٹیڑھی ہوگئی ۔ نتیجۃ وہ اپنے لخت جگر کو تعلیم منقطع کرادیتے ہیں ۔۔۔۔ ہاۓ افسوس۔
"کچھ نادان یاروں کی طرف سے ایک بات یہ کہی جارہی ہے کہ عربی مدارس اپنے مقاصد تعلیم میں کامیاب نہیں ہیں اس سلسلے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ جس قدر والدین خرچ کرکے ایک عالم تیار کرتے ہے اس کا کئی گنا سیکولر درس گاہیں ایک سیکولر بچے کو تعلیم یافتہ بنانے پر صرف کرتی ہے، دینی مدارس کے جن مراحل سے علماء فارغ التحصیل ہو کر نکلتے ہیں انھیں مراحل کے مساوی سیکولر طلباء کسی مصرف کے نہیں ہوتے جب کہ علماء ان کے مساوی ڈگری ہولڈر بسا اوقات کسی ڈاکٹر و پروفیسر سے بڑھ کر موثر ،سنجیدہ اور باصلاحیت ہوتے ہیں”۔
