میر بیدری _____بیدر، کرناٹک
زیست کو چار جانب سے دھوکا رہا
میں بفضل الٰہی کہ اچھا رہا
جبکہ حق اور باطل کا جھگڑا رہا
وہ مثلث کا کونا تھا،چھایا رہا
نام ان کا کسی غیر نے لے لیا
ایک دل میرا تھا، نعت پڑھتا رہا
واں تھا موسم عجب، رات جنگل کی تھی
میں ہی کیا، خواب بھی میرا سوتا رہا
لوگ دوڑے یہ سن کے، ہوا ہے فساد
پھر تو چپل ملی اور نہ جوتا رہا
سرد مہری کی سرگرمیاں جب بڑھیں
میرؔ حق بولنے والا جھوٹا رہا
