راجہ محمود آباد ایک نہایت ہی نفیس اور شائستہ شخصیت کے مالک تھے: فلم ساز مظفر علی
بارہ بنکی:(ابوشحمہ انصاری): سلیمان میاں یعنی راجہ محمد امیر محمد خان بہادر کا اور ہمارا بچپن کا ساتھ تھا ہم لوگ ایک ساتھ اسکول جاتے تھے۔میں ان کا ہم جماعت تو نہیں تھا بلکہ وہ مجھ سے ایک جماعت آگے تھے البتہ ہم لوگوں کا کلاس کے علاوہ خالی وقت ایک ساتھ گزرتا تھا جس کی وجہ سے ہم دونوں لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور سمجھنے کا موقعہ ملا۔ان کے ایک اتالیق للّن ہوتے تھے جن کی گفتگو سے ہم سب خوب لطف اندوز ہوتے تھے ۔میری والدہ رانی کنیز حیدر اور راجہ محمودآباد کی والدہ دونوں کے درمیان بڑے ہی گہرے تعلقات تھے۔ ان کے یہاں بڑاہی سخت پردہ تھا جہاں ہم لوگ نہیں جا سکتے تھے۔ یہ باتیں مشہور و معروف فلم سازمظفر علی نے شہر نگاراں کی ادبی و ثقافتی تنظیم’ ادب سرائے‘کے سوپان انکلیو واقع دفتر پر منعقد ایک آن لائن تعزیتی نشست کے صدارتی کلمات کے دوران کہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ سلیمان میاں ایک نہایت ہی شائستہ اور نفیس شخصیت کے مالک تھے ان کی شخصیت کی علمی گہرائی، تہذیب ، متانت ،سنجیدگی اور طرز بیان جو گزشتہ لکھنؤ کی یاد دلایا کرتا تھا وہ اب ہمیں کہیں نہیں ملے گا۔ ان کی رحلت سے تہذیب وادب ،شائستگی اور نفاست کا ایک خلا پیدا ہوگیا ہے جسے بھرنا ناممکن ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کے شعبہء فارسی کے صدر اورمعروف شاعر پروفیسر اخلاق آہنؔ نے کہا کہ راجہ محمودآباد کی شخصیت لکھنوی اور اردو تہذیب و ادب کا ایک مرقعہ تھی۔فارسی زبان و ادب سے ان کابہت والہانہ لگاؤتھا ۔ان سے ہر ملاقات میں فارسی کے استاد شعراء کے کلام پر بات چیت ہوتی تھی ۔بزم شنکر شاد دہلی کے ایک مشاعرے کے دوران جس میں احمد فرازؔ، اکھلیش مِتّل، بیکلؔ اتساہی ،شہریارؔ اور حمایت علی شاعرؔ جیسے شعراء موجود تھے اسی دوران ایک صاحب نے ایک انگریزی اصطلاح کا اردو متبادل پوچھا تو کسی نے نہیں بتایا لیکن جو اردو متبادل راجہ محمودآباد نے بتایا اس پر سبھی اہل بزم متفق تھے۔مرحوم کی رحلت سے ایک عہد کے رکھ رکھاؤ اور تہذیب کا خاتمہ ہو گیااور جب ہم ایسی شخصیات سے محروم ہوتے ہیں تو ایک خلاء پیدا ہو جاتا ہے۔
ماہر امراض اطفال اور ادب نواز ڈاکٹر سردار مہدی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لکھنؤ کی دو تہذیبی اور ادبی شخصیتوں کا یکے بعد دیگرے اٹھ جانا اودھ کی ادبی وراثت کا ایک بڑا خسارہ ہے ۔ یہ سچ ہے کہ جو بھی اس دنیا میں آیا ہے اس کو ایک نہ ایک دن جانا ہے مگر کچھ شخصیتوں کی موت ایک عہد کی موت ہوتی ہے ۔ راجہ محمودآباد کا انتقال ایک پورے عہد کا خاتمہ ہے۔فخرالدین علی احمد گورنمنٹ پی جی کالج، محمودآباد کے شعبہء سماجیات سے وابستہ ڈاکٹر رویش کمار سنگھ نے راجہ محمودآباد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ہر دل عزیز شخصیت کے مالک تھے ۔فخرالدین علی احمد گورنمنٹ پی جی کالج ،محمود آباد پالیٹکنک کالج، چینی مل ،سوتی مل ، بس اڈہ، کالوِن کالج، ڈان بوسکو، گورنمنٹ گرلس انٹر کالج اور ماں سکٹھا دیوی مندر جیسے نہ جانے کتنے ہی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے انھیں کی عطاء کردہ زمین پر بنائے گئے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے یہاں معاشرے اور لوگوں کی فلاح اور بہبود کا جذبہ کس قدر تھا۔
این سی ای آرٹی نئی دہلی کے شعبہء اردو کے ڈجیٹل اور فاصلاتی سینٹر سے وابستہ ڈاکٹر رضوان الحق نے اپنی مادر علمی اور وطن سے وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے راجہ محمود آباد کو خراج پیش کیا اور کہا کہ میں نے اپنے ہوش سنبھالنے کی عمر میں دیکھا ہے کہ راجہ صاحب اپنے حلقے میں کسی معمولی سے معمولی شخص کی موت پر خود اس کے گھر جا کر تعزیت و تسلیت پیش کرتے تھے۔ وہ دو دفعہ کانگریس کے ٹکٹ پر محمود آباد سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے کیونکہ عوام الناس میں ان کی مقبولیت اور احترام بہت تھا۔وہ اودھی تہذیب کا ایک شاہکار تھے متعددزبانوںپر انھیں عبور حاصل تھا اور ان کی گفتگو اور بات چیت میں ایک سلیقہ اور تہذیب کو خوشبو آتی تھی۔خواجہ معین الدین چشتی لسان یونیورسٹی لکھنؤ کے شعبہء اردو سے وابستہ ڈاکٹر مرتضیٰ اطہر نقوی جائسی نے راجہ صاحب سے اپنی متعدد ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مرحوم راجہ محمود آباد کثیر الجہات شخصیت کے حامل تھے ۔ ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی رثائی ادب سے دلچسپی اور مرثیہ خوانی تھی۔اردو کے کلاسکی مرثیہ وہ نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ تحت اللفظ میں بیان کرتے تھے۔ انکی بلند آواز اور چہرے کی تمازت ـ’’ رجز خوانی ‘‘ اور ’’ جنگ ‘‘ کے بان میں چار چاند لگادیتی تھی۔ سنجیدہ ادبی اور ثقافتی محفلوں میں ان کی کمی کااحساس ہوتا رہیگا۔
شیعہ کالج کے سابق نائب پرنسپل اور واجد علی شاہ اختر اکادمی کے سکریٹری ڈاکٹر ثروت تقی نے مرحوم سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس قدر عاجزی اور انکساری سے ہر ایک سے پیش آتے تھے کہ لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ اتنی بڑی ریاست کے مہاراجا تھے ۔ایام عزا کے دوران وہ بڑے ہی خلوص اور عقیدت سے شہدائے کربلا کی یاد میں مجلس و ماتم بپا کرتے تھے اور اس دوران وہ نہایت ہی سوگوار رہتے تھے اور شاید و باید ہی وہ ایام عزا میں کسی سے ہنس کر بات کرتے ہوں۔گرونانک دیو یونیورسٹی امرتسر کے شعبہء اردو سے وابستہ ڈاکٹر ریحان حسن نے راجہ محمود آباد کو مدرستہ الواعظین کے حوالے سے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ امراؤ جان ادا کے خالق مرزا محمد ہادی رسوا ؔ کی کچھ ایسی بھی نادر و نایاب تخلیقات ہیں جو کہ مدرستہ الواعظین کے کتب خانے میں آج بھی موجود ہیں جو کسی اور کتب خانے میں موجود نہیں ہیں۔اس کے علاوہ وہ مدرسہ کے طلاب سے ایک مشفقانہ اور ہمدردانہ رویہ رکھتے تھے۔انھوں نے جہاں ایک طرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام میں ایک کلیدید رول ادا کیا ہے وہیں بنارس ہندو یونیورسٹی کو بھی ایک لاکھ کا عطیہ اس زمانے میں فراہم کیا جو کہ ان کی فراخ دلی کا ثبوت ہے ۔
دہلی یونیورسٹی کے شعبہء فارسی سے وابستہ ڈاکٹر زین العباء نے بتایا کہ دنیاوی علوم کے ساتھ وہ دینی علوم سے بھی خاطر خواہ واقفیت رکھتے تھے۔ ان میں قوم و ملت کی علمی اور ادبی بہبود کا ایک درد تھا یہی وجہ ہے کہ امیر الدولہ اسلامیہ کالج، امیرالدولہ پبلک لائبریری، شیعہ پی جی کالج جیسے نہ جانے کتنے ہی علمی اداروں کی سرپرستی فرمائی۔نشست کی نظامت فرما رہے فخرالدین علی احمد گورنمنٹ پی جی کالج کے شعبہء اردوسے وابستہ شاعر اور ’ادب سرائے کے نگراں ڈاکٹر منتظر قائمء نے بتایا کہ ’ ادب سرائے جیسے ایک ادنیٰ سے ادبی و ثقافتی پلیٹ فارم پر راجہ محمودآباد اپنی علمی اور ادبی و ثقافتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے اور کیسے اس تنظیم کو ایک مثبت اور صحت مند بنایا جا سکتا ہے اس کے لئے اپنے نیک اور مفید مشوروں سے نوازتے رہتے تھے۔
اس آن لائن اور آف لائن تعزیتی میٹنگ میں ڈاکٹر رضوانہ، انصار احمد خان ایڈو کیٹ، کاظمی فاطمہ، اریبہ، ڈاکٹر پرارتھنا سنگھ کے علاوہ اور بھی لوگوں نے شرکت کی ۔ آخر میں مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی گئی اور ان کی روح کی تسکین کے لئے سورہ فاتحہ بھی پڑھا گیا۔
