اسماعیل قمر بستوی

 

سب ہیں آدم کی ہی اولاد لڑائی کیسی؟

خون بھی ایک سا ہے بیچ میں کھائی کیسی؟

جنگ یہ بند کرو بند کرو بند کرو

ختم ہو بات سے جو بھی ہے زمیں کا قضیہ

دوسرا لے نہ کسی شخص کا کوئی حصہ

توپ، راکٹ سے ہے آپس میں بھڑائی کیسی؟

جنگ یہ بند کرو بند کرو بند کرو

خون ہی خون ہے لاشوں کے ہیں انبار لگے

موت کا ارضِ فلسطین ہے بازار لگے

ہسپتالوں پہ بموں کی ہے گرائی کیسی؟

جنگ یہ بند کرو بند کرو بند کرو

جنگ دنیا میں مسائل ہی جنم دیتی ہے

سب کو نقصان ہی یہ فائدہ کم دیتی ہے

اب بتاؤ یہ لڑائی ہے لڑائی کیسی؟

جنگ یہ بند کرو بند کرو بند کرو

بھوک افلاس غریبی کو بڑھاوا دے گی

دشمنی کے لئے نسلوں کو یہ رستہ دے گی

یہ ہے نسلوں کے بھلا حق میں بھلائی کیسی؟

جنگ یہ بند کرو بند کرو بند کرو

امن عالم پہ اثر اس سے بہت پڑتا ہے

پیار کم ہوتا ہے اور ظلم وستم بڑھتا ہے

یہ قمر کی ہے کہو راہ نمائی کیسی؟

جنگ یہ بند کرو بند کرو بند کرو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے