از: صادق طاہر قاسمی ندوی کبیر نگری
خلیل آباد ، ضلع سنت کبیر نگر ، مشرقی یوپی
اے ارضِ فلسطیں تری پرشور صدائیں
ہم درد کا قصہ ترا کس طرح سنائیں
دامن ترا معصوموں کی لاشوں سے بھرا ہے
جو زخم زمانے سے ملا ہے وہ ہرا ہے
ہر سمت ہی مظلوموں کی اک آہ و بکا ہے
بے کیف ترا صحن چمن آج ہوا ہے
دل درد سے رنجور ہے ، مغموم فضائیں
ہم درد کا قصہ ترا کس طرح سنائیں
نبیوں کی زمیں خون سے رنگین ہوئی ہے
ہر آنکھ ترے درد سے غمگین ہوئی ہے
دشمن نے تقدس ترا پامال کیا ہے
اے مسجد اقصیٰ تری توہین ہوئی ہے
پلکوں پہ نۓ خواب بھلا کیسے سجائیں
ہم درد کا قصہ ترا کس طرح سنائیں
کس درجہ المناک ہیں غزہ کے مناظر
جو حملہ کۓ تجھ پہ ہیں بد بخت عناصر
یہ جنگ رہ حق میں شہادت کے لئے ہے
یہ جنگ ہے اسلام کی ، ایمان کی خاطر
سب آؤ شہاد ت کے لئے جان لٹائیں
ہم درد کا قصہ ترا کس طرح سنائیں
نبیوں کی امامت کی مقدس تو زمیں ہے
پوشیدہ تری خاک میں ان سب کی جبیں ہے
تو قبلۂ اول ہے ، تری شان بڑی ہے
افسوس مگر آج تو کس درجہ حزیں ہے
ہیں چاروں طرف چھائی ہوئی غم کی گھٹائیں
ہم درد کا قصہ ترا کس طرح سنائیں
اے مسجد اقصیٰ تری پرنور نمازیں
بھولیں گے نہیں ہم تری خاموش اذانیں
اب کوئی سہارا نہیں ، رکھ رب پہ نگاہیں
شاہان عرب کی ہیں بہت گنگ زبانیں
سینے پہ لگے زخم ترے کیسے دکھائیں
ہم درد کا قصہ ترا کس طرح سنائیں
تجھ پر غم و اندوہ کا اک کوہ گراں ہے
ہم درد کوئی مونس و غم خوار کہاں ہے
ہر سمت عداوت کی چلی باد خزاں ہے
بے حس ہوا خاموش کھڑا سارا جہاں ہے
ہیں چاروں طرف ظلم سے مخدوش ہوائیں
ہم درد کا قصہ ترا کس طرح سنائیں
بے درد ہیں جو آج یہ شاہان عرب ہیں
سب مست مۓ جام و سبو ، محو طرب ہیں
ان سب کے گریباں میں صلیبوں کے نشاں ہیں
وہ اہل فلسطیں کے مسائل کا سبب ہیں
سب فکر میں ہیں اپنی قبا کیسے بچائیں
ہم درد کا قصہ ترا کس طرح سنائیں
ہیں چاروں طرف بے بس و مظلوم کی آہیں
معصوم بلکتے ہوئے بچوں کی کراہیں
مسدود ہیں اب ان پہ سبھی امن کی راہیں
آنکھوں سے بہت دور ہیں اب ان سے بہاریں
اے میرے خدا سن لے کسی دل کی دعائیں
ہم درد کا قصہ ترا کس طرح سنائیں
تم خاک نشیمن پہ مٹے , عزمِ جواں ہو
جو روح تلک جائے وہی تیغ فساں ہو
اے اہلِ فلسطیں رہے ہمت یہ سلامت
تم عزم کی دیوار ہو ، منزل کا نشاں ہو
ہم اپنی وفا تم سے بتا کیسے نبھائیں
ہم درد کا قصہ ترا کس طرح سنائیں
آنگن میں گلابوں کے شجر کیسے لگائیں
اب جشن کوئی زیست کا وہ کیسے منائیں
کس طرح امیدوں کی کوئی شمع جلائیں
اب کیسے محبت کا نیا شہر بسائیں
صادق کے حزیں دل کی ہیں بس یہ ہی نوائیں
ہم درد کا قصہ ترا کس طرح سنائیں
