لکھنؤ: آج مدرسہ معہد سیدنا ابی بکر الصدیق ؓ مہپت مئو لکھنؤ میں طلبہ کی انجمن ”جمعیۃ الاصاح“ کی جانب سے بعد نماز مغرب ایک عظیم الشان مسابقاتی بزم سلیمانی (مقالہ نگاری و مقالہ خوانی) منعقد ہوئی۔
اس بزم کی نسبت دراصل سید الطائفہ علامہ سید سلیمان ندوی علیہ الرحمتہ کی جانب کی گئی ہے، کیونکہ آپ ایک بڑے مقالہ نگار تھے، آپ کی نوک قلم سے بیشمار کتابیں، مضامین و مقالات منصہ وجود پر آئے، اس لیے مقالہ نگاری و مقالہ خوانی کی اس بزم کا نام بزم سلیمانی رکھ دیا گیا۔ یہ بزم مدرسہ ہذا میں ہر ماہ ایک مرتبہ ہوتی ہے، جس میں منتخب عناوین پر طلباء ایک ہفتے میں مقالہ لکھتے ہیں اور پھر جمعرات بعد نماز مغرب جلسے میں پڑھتے ہیں۔ اس مرتبہ کی یہ بزم انتظامیہ کی کوششوں کی وجہ سے انعامی رکھی گئی تھی، اور دو پروگرام ہالوں میں طبقہ علیا اور سفلی کے اعتبار سے منعقد بھی ہوئی۔
طبقہ علیا میں عبداللہ فیض عالیہ اولی کی قرأت سے بزم کا آغاز ہونا تھا مگر غیر متوقع حالات کی وجہ سے انہیں نہیں بلایا جا سکا۔ یہاں نظامت کے فرائض معتمد بزم سلیمانی اظفر منصور جبکہ صدارت مولانا مطیع الرحمن عوف صاحب ندوی ناظر معہد دارالعلوم ندوۃ العلماء سکروری لکھنؤ فرما رہے تھے، اور مہمان خصوصی کے طور پر مربی الاصاح مولانا محمد امتیاز صاحب بھی تشریف فرما تھے، قرأت کے بعد نعت نبی گنگنانے کے لیے برادر یوسف فیصل کو دعوت دی گئی۔ نعت کے بعد بغیر کسی تمہید کے باضابطہ مساہمین کا سلسلہ شروع ہوگیا جس میں سب سے پہلے تھے محمد یاسر الحسن اس طرح تقریباً پچیس طلباء مساہمین پر مشتمل یہ فہرست ڈیڑھ گھنٹے تک چلتی رہی، پھر صدر صاحب کے صدارتی خطبہ نیز ناظم بزم کے کلمات تشکر پر یہ بزم اختتام پذیر ہوگئی۔ اس میں اول انعام پایا تھے محمد اصغر عالیہ اولی نے جبکہ دوسرا انعام محمد صہیب عالم (نائب معتمد بزم سلیمانی) سوم محمد ارقم صدیقی عالیہ نے۔ اس کے علاوہ بطورِ اعجاز (توصیفی انعام برائے قرأت عبداللہ فیض، برائے نعت یوسف فیصل، برائے کتابت اعلان محمد شاداب، محمد انوار) سے نوازا گیا۔
اسی طرح طبقہ سفلی میں صدارت فرما رہے تھے مولانا مسعود عالم صاحب ندوی ڈائریکٹر دارالبحث و الاعلام ڈالی گنج لکھنؤ اور نظامت کی ذمہ داری نائب معتمد بزم سلیمانی محمد صہیب عالم کے سر تھی۔ بزم کے آغاز کے لیے ابوضیفان ثانویہ ثالثہ جبکہ نعت کے لیے عبدالرحمن ثانویہ خامسہ اور غزل کے لیے محمد شاہد ثانویہ ثانیہ مدعو کئے گئے اور انہیں توصیفی انعامات سے بھی نوازا گیا، اسی طرح پوزیشن حاصل کرنے طلباء میں اول حماد عطاء، دوم فیضان بن ذیشان، اور سوم محمد کاشف ہیں۔ تقریباً دو گھنٹے مسلسل چلنے کے بعد یہ بزم بھی صدر محترم کے صدارتی خطبہ پر اختتام پذیر ہوگئی۔
اس موقع پر اراکین جمعیۃ الاصاح میں محمد طلحہ (مساعدہ امین العام مدرسہ ہذا) محمد ارقم صدیقی (ناظم جمعیۃ الاصاح مدرسہ ہذا) محمد نضیر کفیل (نائب ناظم جمعیۃ الاصاح) محمد سعود، محمد احتشام دہلی، عبداللہ فیض، محمد فیصل، محمد سالم، محمد فیضیاب، سیف اللہ رحیم آبادی، عبدالرحمن (معتمد دارالکتب) محمد شاکر وغیرہ آخر تک موجود رہے۔
